اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کا اہم ہنگامی منصوبہ اختتام پذیر ہو گیا

اسلام آباد۔14جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کا ایک اہم ہنگامی منصوبہ اختتام پذیر ہو گیا جس کے تحت پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور سندھ میں سیلاب سے متاثرہ کاشتکار اور مویشی پالنے والے کسانوں کو مدد فراہم کی گئی۔ یہ منصوبہ جاپان کی حکومت کے تعاون سے ممکن ہوا۔ ایف اے او کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 6.48 …

اسلام آباد۔14جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کا ایک اہم ہنگامی منصوبہ اختتام پذیر ہو گیا جس کے تحت پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور سندھ میں سیلاب سے متاثرہ کاشتکار اور مویشی پالنے والے کسانوں کو مدد فراہم کی گئی۔ یہ منصوبہ جاپان کی حکومت کے تعاون سے ممکن ہوا۔ ایف اے او کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 6.48 ملین ڈالر کی مالی معاونت سے چلنے والے اس ایف اے او کے اقدام کا مقصد 2022 کے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں خوراک کی پیداوار کو بحال کرنا، مقامی غذائی تحفظ کو بہتر بنانا اور طویل المدتی صلاحیت پیدا کرنا تھا۔ اس منصوبے سے 74,000 سے زائد گھرانوں(تقریباً 520,000 افراد) کو فائدہ پہنچا جس میں زرعی مدد، مویشیوں کی حفاظت اور خواتین کی سربراہی والے خاندانوں کے لئے خصوصی امداد شامل تھی۔

منصوبے کے اختتام پر پیر کو ایف اے او کے دفتر میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں جاپان کے سفیر اکاماتسو شوئچی، ایف اے او کے پاکستان میں نمائندہ فلورنس رولے اور قومی و صوبائی اداروں کے اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔ جاپان کے سفیر نے کہا کہ جاپان کی حکومت نے ہمیشہ اپنی ترقیاتی شراکت میں انسانی سلامتی کو اولین ترجیح دی ہے۔ یہ منصوبہ پاکستانی عوام کو سیلاب کے تباہ کن اثرات سے نکالنے اور عملی و پائیدار زرعی مدد کے ذریعے ان کی زندگیوں کو دوبارہ تعمیر کرنے میں ہمارے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ایف اے او کی جانب سے امداد میں بیجوں، کھادوں اور تربیت کی فراہمی بھی شامل تھی تاکہ متاثرہ خاندان اپنی خوراک کی پیداوار دوبارہ شروع کر سکیں۔ 14,000 سے زائد گھرانوں کو سبزیوں اور فصلیں اگانے کے لئے ضروری سامان فراہم کیا گیا جبکہ 1,500 ہیکٹر زرعی زمین کو بحال کیا گیا۔

اس کے نتیجے میں کاشتکار خاندان گندم، چاول، مکئی، بھنڈی، بینگن اور ٹماٹر جیسی فصلیں اگانے میں کامیاب ہوئے جس سے خوراک کی دستیابی اور آمدنی کے مواقع بہتر ہوئے۔ مال مویشی پالنے والے خاندانوں کو جانوروں کی خوراک، منرل بلاکس، مرغیاں اور چھوٹے مویشی فراہم کئے گئے نیز مویشی پالنے کے شیڈز کی بھی تعمیر کی گئی اور 629,000 سے زائد جانوروں کو ویکسین لگائی گئی جس سے 35,000 گھرانے مستفید ہوئے۔ خواتین کی سربراہی والے گھرانوں پر خصوصی توجہ دی گئی، جنہیں مویشی اور مرغیاں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جانوروں کی دیکھ بھال اور مرغیوں کی افزائش کی تربیت دی گئی تاکہ ان کی آمدنی کو مستحکم کیا جا سکے۔

ایف اے او کے پاکستان میں نمائندہ فلورنس رولے نے کہا کہ یہ منصوبہ دیہی کمیونٹی کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لایاہے جنہوں نے سیلاب میں تقریباً سب کچھ کھو دیا تھا۔ جاپان کی بروقت مدد سے ایسے متاثرہ خاندانوں نے نہ صرف خوراک پیدا کرنے کی صلاحیت دوبارہ حاصل کی بلکہ مستقبل کے خطرات کے خلاف اپنی مدافعت کو بھی مضبوط کیا۔

وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز اور غیر سرکاری اداروں کے ساتھ گہرے تعاون سے چلائے گئے اس منصوبے نے موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق زراعت، غذائی تحفظ کی منصوبہ بندی اور مویشیوں کے انتظام کے بارے میں مقامی معلومات کو بھی بڑھایا، جس سے مستقبل میں دیہی نظام کو زیادہ مضبوط بنانے کی بنیاد رکھی گئی۔