امریکی انتظامیہ نے مائیکروسافٹ، ایڈوبی اور بھارت کی متعدد بڑی آئی ٹی کمپنیوں پر امریکی کارکنوں کے ویزا پروگرام کے غلط استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں مستقل لیبر سرٹیفکیشن پروگرام سے غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا ہے
امریکا نے مائیکروسافٹ، ایڈوبی اور بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کو ویزا پروگرام کے غلط استعمال پر معطل کر دیا

مزید خبریں
واشنگٹن۔9اکتوبر (اے پی پی):امریکی انتظامیہ نے مائیکروسافٹ، ایڈوبی اور بھارت کی متعدد بڑی آئی ٹی کمپنیوں پر امریکی کارکنوں کے ویزا پروگرام کے غلط استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں مستقل لیبر سرٹیفکیشن پروگرام سے غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر محنت کیتھ نے معطلی کا اعلان کیا جس کی زد میں کاگنیزنٹ ٹیکنالوجی سلوشنز، انفوسس، ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز، وائپرو، ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز اور کیپ جمنی بھی آئی ہیں۔ ان میں سے بیشتر کمپنیاں بھارت میں قائم ہیں یا وہاں بڑے پیمانے پر کاروباری سرگرمیاں انجام دیتی ہیں اور دیگر اداروں کو معاہدوں کے تحت آئی ٹی خدمات فراہم کرتی ہیں۔امریکی محکمہ محنت کے مطابق اس اقدام کے نتیجے میں مذکورہ کمپنیاں اپنے ایچ ون بی ویزا رکھنے والے ملازمین کی مستقل رہائش کے لیے درخواستیں دینے سے محروم ہو جائیں گی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ایچ ون بی ویزا حاصل کرنے والے افراد میں تقریباً 70 فیصد کا تعلق بھارت سے تھا۔واشنگٹن میں میڈیا بریفنگ کے دوران امریکی وزیر محنت کیتھ سونڈرلنگ نے بتایا کہ امریکی آجروں کو غیر ملکی کارکنوں کے لیے مستقل رہائش کی کفالت کی اجازت دینے والے نظام کے استعمال سے متعلق متعدد وفاقی تحقیقات جاری ہیں۔جے ڈی وینس نے مائیکروسافٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے امریکا میں کسی دوسری کمپنی نے اس نظام کا اتنا زیادہ غلط استعمال نہیں کیا جتنا مائیکروسافٹ نے کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مائیکروسافٹ ایک بڑی امریکی کمپنی ہے اور اس کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، تاہم انتظامیہ کا پیغام یہ ہے کہ کمپنی ترقی کرے لیکن اس ترقی کے لیے امریکی شہریوں کو روزگار فراہم کرے اور انہیں بااختیار بنائے۔سلیکون ویلی کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا غیر ملکی کارکنوں پر انحصار طویل عرصے سے امریکا میں امیگریشن پالیسی سے متعلق بحث کا اہم موضوع رہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گزشتہ سال دوبارہ اقتدار میں واپسی کے بعد ان کی انتظامیہ نے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ امریکی کارکنوں کی تربیت اور بھرتی کے لیے مزید اقدامات کریں۔اسی پالیسی کے تحت ٹرمپ انتظامیہ نے ایچ ون بی ویزا کے ذریعے غیر ملکی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کے عمل کو مزید مشکل بنانے کے اقدامات کیے ہیں۔ ان میں بیشتر درخواست گزاروں کے لیے ایک لاکھ ڈالر فائلنگ فیس کی تجاویز اور سالانہ قرعہ اندازی کے ذریعے ویزوں کی تقسیم کے قواعد سخت کرنا شامل ہے، جس کے تحت زیادہ تنخواہوں کی پیشکش کرنے والی کمپنیوں کو ترجیح دی جائے گی۔جے ڈی وینس نے امریکی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ امریکی کارکنوں کو ملازمتیں فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی کارکنوں کو دھوکا دینے اور ایسے غیر ملکی کارکنوں کو لانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے جن سے امریکی شہریوں کے مقابلے میں کم معاوضے پر کام لیا جاتا ہے۔مستقل لیبر سرٹیفکیشن پروگرام، جسے پرم بھی کہا جاتا ہے، کمپنیوں کو ایچ ون بی اور دیگر ویزوں پر امریکا میں کام کرنے والے غیر ملکی ملازمین کے لیے مستقل قانونی رہائش کی درخواست دینے کی اجازت دیتا ہے۔ مستقل رہائش امریکی شہریت حاصل کرنے کے عمل کا ابتدائی مرحلہ ہے۔بھارتی آئی ٹی کمپنیوں، خصوصاً ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز، کی جانب سے ایچ ون بی ویزوں کے وسیع استعمال پر ماضی میں بھی تنقید ہوتی رہی ہے۔ ان کمپنیوں پر الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ امریکی اداروں کے ٹیکنالوجی آپریشنز کے معاہدے حاصل کرنے کے بعد بھارتی عارضی کارکنوں کو امریکی ملازمین کے مقابلے میں کم تنخواہوں پر تعینات کرتی ہیں۔







