ایجنٹک مصنوعی ذہانت کو ذمہ دارانہ انداز میں اپنانے سے تدریس، سیکھنے، تحقیق اور جامعات کے انتظامی امور میں بہتری لائی جا سکتی ہے، ڈاکٹر نیاز احمد اختر

چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا ہے کہ ایجنٹک مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو ذمہ دارانہ انداز میں اپنانے اور مؤثر حکمت عملی کے تحت استعمال کرنے سے تدریس، سیکھنے، تحقیق اور جامعات کے انتظامی امور میں بہتری لائی جا سکتی ہے

اسلام آباد۔9اکتوبر (اے پی پی):چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا ہے کہ ایجنٹک مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو ذمہ دارانہ انداز میں اپنانے اور مؤثر حکمت عملی کے تحت استعمال کرنے سے تدریس، سیکھنے، تحقیق اور جامعات کے انتظامی امور میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ وہ جمعہ کو اسلام آباد میں ہائر ایجوکیشن کمیشن اور ہواوے کے اشتراک سے منعقدہ تربیتی پروگرام ’’دی انٹیلی جنس شفٹ: ایجنٹک اے آئی اور گورننس سے متعلق انتظامی تربیتی پروگرام‘‘ سے خطاب کر رہے تھے۔ تربیتی پروگرام میں پاکستان بھر کی جامعات کے وائس چانسلرز اور اساتذہ نے شرکت کی ،جس میں ایجنٹک مصنوعی ذہانت کے ابھرتے ہوئے رجحانات اور اعلیٰ تعلیم پر اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ پروگرام کے دوران تدریس، تعلیمی عمل، تحقیق اور ادارہ جاتی انتظام میں ایجنٹک مصنوعی ذہانت کے ممکنہ استعمالات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال اور اس حوالے سے مؤثر انتظامی و نگرانی کے نظام کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ اس موقع پر جامعات کے تعلیمی قائدین اور اساتذہ کو جدید مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز کے بارے میں اپنے تجربات اور خیالات کے تبادلے کا موقع ملا جبکہ پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام میں مصنوعی ذہانت کے مؤثر انضمام کے امکانات پر بھی گفتگو کی گئی۔

مزید خبریں