اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):دوحہ میں اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کنونشن (یو این سی اے سی) کے تحت منعقدہ کانفرنس کے دوران پاکستان کی سول سوسائٹی نے ملک میں جاری انسداد بدعنوانی اصلاحات کو عالمی برادری کے سامنے اجاگر کیا۔ کانفرنس میں قانونی اصلاحات، ادارہ جاتی مضبوطی، ڈیجیٹل گورننس اور شراکت داری کے ذریعے حاصل ہونے والی پیش رفت پر روشنی ڈالی گئی۔سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس …
اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کنونشن کے فریق ممالک کی گیارہویں کانفرنس میں پاکستان کی سول سوسائٹی کی نمائندگی اعزاز کی بات ہے، سید کوثر عباس
اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):دوحہ میں اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کنونشن (یو این سی اے سی) کے تحت منعقدہ کانفرنس کے دوران پاکستان کی سول سوسائٹی نے ملک میں جاری انسداد بدعنوانی اصلاحات کو عالمی برادری کے سامنے اجاگر کیا۔ کانفرنس میں قانونی اصلاحات، ادارہ جاتی مضبوطی، ڈیجیٹل گورننس اور شراکت داری کے ذریعے حاصل ہونے والی پیش رفت پر روشنی ڈالی گئی۔سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) کی نمائندگی کرتے ہوئے سید کوثر عباس نے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کنونشن کے فریق ممالک کی گیارہویں کانفرنس (سی او ایس پی) میں پاکستان کی سول سوسائٹی کی نمائندگی ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔
دوحہ میں منعقدہ اس کانفرنس میں 190 سے زائد ممالک اور سول سوسائٹی کے نمائندے شریک ہیں جہاں سید کوثر عباس نے سول سوسائٹی کی جانب سے باقاعدہ بیان بھی پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ چند برسوں کے دوران بدعنوانی کو ایک نظامی حکمرانی چیلنج کے طور پر دیکھتے ہوئے نمایاں اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ ان میں احتسابی قوانین کی مضبوطی، وفاقی و صوبائی سطح پر حق معلومات (آر ٹی آئی) قوانین کا نفاذ اور وہسل بلوور کے تحفظ کے فریم ورک کا اجراء شامل ہے۔
ادارہ جاتی سطح پر قومی احتساب بیورو اور صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ مختلف سرکاری محکموں میں انٹیگریٹی کمیٹیاں اور مینجمنٹ سیلز قائم کیے گئے ہیں۔ڈیجیٹل اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سماجی تحفظ کے پروگرامز، لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ، اثاثہ جات کی ریکوری، سیاسی مالیات کی نگرانی، لائسنسنگ سسٹمز اور شکایات کے ازالے کے پلیٹ فارمز میں ڈیجیٹائزیشن سے شفافیت میں اضافہ اور اختیارات کے غلط استعمال میں نمایاں کمی آئی ہے۔
ان کے مطابق معلومات کی پیشگی فراہمی عوامی اعتماد کے فروغ اور سروس ڈیلیوری کی بہتری میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔سید کوثر عباس نے کہا کہ سول سوسائٹی تنظیمیں پاکستان کی انسداد بدعنوانی کوششوں میں کلیدی شراکت دار رہی ہیں۔ سول سوسائٹی نے سرکاری اداروں کی ڈیجیٹائزیشن، حق معلومات کمیشنز کے موثر کردار اور عوام کو بروقت معلومات کی فراہمی کے لیے مسلسل آواز اٹھائی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی، پبلک انفارمیشن آفیسرز اور شہریوں کی آر ٹی آئی قوانین پر تربیت کے ذریعے شفافیت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی نے تحقیق اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لیے آر ٹی آئی فریم ورک کا موثر استعمال کرتے ہوئے حکمرانی میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی۔ شراکتی نگرانی، سماجی آڈٹس، عوامی اخراجات کی نگرانی اور بجٹ ٹریکنگ سے متعلق اقدامات نے بہتر حکمرانی کے نتائج حاصل کرنے میں مدد دی ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ انسداد بدعنوانی میں پائیدار پیش رفت کے لیے حکومت اور سول سوسائٹی کے درمیان منظم روابط، ڈیجیٹل شفافیت کے اقدامات میں توسیع اور یو این سی اے سی کی سفارشات کو قومی سطح پر موثر انداز میں نافذ کرنا ناگزیر ہے۔









