اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا نفرت انگیز تقاریر کے خلاف مشترکہ اقدامات پر زور

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے حکومتوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سول سوسائٹی پر زور دیا ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کے خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں، انہوں نے خبردار کیا کہ اس کا زہریلا پیغام تیزی سے پھیل رہا ہے اور گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔

نیویارک۔18ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے حکومتوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سول سوسائٹی پر زور دیا ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کے خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں، انہوں نے خبردار کیا کہ اس کا زہریلا پیغام تیزی سے پھیل رہا ہے اور گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔

اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق انتونیو گوتریش نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں بین المذاہب اور ثقافتی مکالمے کے فروغ سے متعلق عالمی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنی بدترین شکل میں نفرت انگیز تقریر تشدد کو ہوا دیتی، تنازعات کو بڑھاتی اور نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم، جنگی جرائم اور نسلی صفائی سمیت سنگین جرائم کے ارتکاب میں معاون ثابت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ایسا پہلے بھی ہوتے دیکھا ہے اور اب بھی دیکھ رہے ہیں، ہم اسے جاری رہنے نہیں دے سکتے۔

سیکرٹری جنرل نے اقوام متحدہ کے منشور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں دنیا کے لوگوں کو رواداری اختیار کرنے اور اچھے ہمسایوں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ امن سے رہنے کا عہد کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ اقوام متحدہ نے اس عہد کو پورا کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں، تاہم نفرت انگیز تقریر ہمیشہ اس تصور کے خلاف کام کرتی رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج اس کا زہریلا پیغام تیزی سے پھیل رہا ہے اور گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے، یہ نئی شکلیں اختیار کر رہا ہے، نئے راستے تلاش کر رہا ہے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، الگورتھمز اور مصنوعی ذہانت سمیت نئی ٹیکنالوجیز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے ۔

انہوں نے خبردار کیا کہ نفرت انگیز تقاریر کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ باہمی اعتماد کو ختم کرکے برادریوں کو تقسیم اور پورے گروہوں کو غیر انسانی بنا کر ہماری مشترکہ انسانیت کو چیلنج کر رہا ہے۔ یہ قبولیت، ہمدردی، باہمی تفہیم اور تنوع کے احترام کی ہماری صلاحیت کو بھی کمزور کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں متحد ہو کر نفرت کو مسترد کرنا ہوگا اور آن لائن اور آف لائن نفرت انگیز تقاریر سے نمٹنے کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کرنا ہوں گی۔انہوں نے اقوام، ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان احترام اور مساوات پر مبنی جامع مکالمے کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ نفرت انگیز تقاریر کی بنیادی وجوہات، محرکات اور اس کے نتائج سے نمٹا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ نفرت انگیز تقاریر پر قابو پانے کا مطلب آزادی اظہار کو ختم کرنا نہیں، تاہم آزادی اظہار کو کبھی نقصان پہنچانے یا اسے مزید بڑھانے کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہم تنہا نفرت انگیز تقاریر پر قابو نہیں پا سکتے۔انہوں نے کہا کہ حکومتوں، علاقائی اور کثیرالجہتی تنظیموں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی، بشمول مذہبی برادریوں، تعلیمی اداروں اور میڈیا کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ پُرامن، منصفانہ اور جامع معاشروں کی تعمیر میں مدد کریں۔