انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں فری لانسرز کی قومی برآمدات میں جاری مالی سال کے دوران 44 فیصد سے زیادہ کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
فری لانسرز کی قومی برآمدات میں جاری مالی سال کے دوران 44 فیصد سے زیادہ کا نمایاں اضافہ ہوا ہے،ایس بی پی

مزید خبریں
اسلام آباد۔18ستمبر (اے پی پی):انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں فری لانسرز کی قومی برآمدات میں جاری مالی سال کے دوران 44 فیصد سے زیادہ کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے اعدادو شمار کے مطابق رواں مالی سال میں جولائی اور اگست 2026 کے دوران فری لانسرز کی برآمدات 352 ملین ڈالر تک بڑھ گئیں جبکہ گزشتہ مالی سال میں جولائی اور اگست 2025ء میں فری لانسرز کی برآمدات سے 244 ملین ڈالر زرمبادلہ کمایا گیا تھا۔ اس طرح گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں جاری مالی سال کے ابتدائی دو مہینوں کے دوران فری لانسرز کی برآمدات میں 108 ملین ڈالر یعنی 44.26 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایس بی پی کے مطابق جولائی اور اگست 2026 میں فری لانسرز کی آئی ٹی سے متعلقہ برآمدات کا حجم 213 ملین ڈالر غیر آئی ٹی خدمات کی برآمدات سے139 ملین ڈالر زرمبادلہ کمایا گیا ہے۔
پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن (پی اے ایف ایل اے) ابراہیم عاصم نے اس حوالہ سے کہا ہے کہ فری لانچنگ کے بین الاقوامی فورمز پر پاکستانی فری لانسرز کی موجودگی مستحکم ہو رہی ہے جس کی وجہ سے برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فری لانسرز سیکھنے کی تیز تر صلاحیتوں کے حامل ہیں اور وہ تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب کے حامل نہروں اور خصوصاً مصنوعی ذہانت کے ٹولز سے استفادہ کے حوالہ سے اپنی کارکردگی میں روز بروز اضافہ کررہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ متعدد فری لانسرز ٹیم کی شکل میں کام کررہے ہیں اور بین الاقوامی فورمز پر رجسٹرڈ اداروں کے ذریعہ مختلف اقسام کی خدمات فراہم کررہے ہیں۔
ابراہیم عاصم نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ کی ترقی کے حوالہ سے حکومتی کاوشوں کو سرا ہتے ہوئے کہا کہ حکومتی ادارے نجی شعبہ اور غیر سرکاری اداروں کی معاونت سے آئی ٹی کی مہارتوں کے حوالہ سے مختلف تربیتی کورسز کرارہے ہیں اور یہ سہولیات ملک بھر کے مختلف شہروں میں دستیاب ہیں جس سے نوجوان طبقہ مارکیٹ کی ضروریات پر مبنی مہارتوں کی تربیت کے ساتھ ساتھ اپنی روایتی تعلیم بھی حاصل کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی تربیت کے فروغ سے فری لانسرز کے شعبہ میں مزید ترقی ہوگی اور برآمدات میں اضافہ سے قیمتی زرمبادلہ کے حصول میں بھی اضافہ ہوگا اور قومی معاشی اہداف کی تکمیل میں مدد ملے گی۔








