دنیا بھر میں پانچ سال سے کم عمر 4 کروڑ بچے شدید غذائی قلت کی قسم ’’وَیسٹنگ‘‘ کا شکار ہیں،یونیسیف

پاکستان سمیت دنیا بھر میں پانچ سال سے کم عمر 4 کروڑ سے زائد بچے شدید غذائی قلت کی قسم ’’وَیسٹنگ‘‘ (Wasting) کا شکار ہیں، جو بچوں کی طویل مدتی نشوونما کے عمل کو متاثر کر سکتی ہے، بروقت تشخیص و علاج نہ ہونے کی صورت میں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

اسلام آباد۔18ستمبر (اے پی پی):پاکستان سمیت دنیا بھر میں پانچ سال سے کم عمر 4 کروڑ سے زائد بچے شدید غذائی قلت کی قسم ’’وَیسٹنگ‘‘ (Wasting) کا شکار ہیں، جو بچوں کی طویل مدتی نشوونما کے عمل کو متاثر کر سکتی ہے، بروقت تشخیص و علاج نہ ہونے کی صورت میں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

یونیسیف کے مطابق بچوں میں غذائی قلت کی بروقت نشاندہی کے لیے ایک سادہ، کم لاگت اور کم تربیت کے ساتھ استعمال ہونے والے مڈ اپر آرم سرکمفرنس (MUAC) ٹیپ کے ذریعے کی جا سکتی ہے ۔جو 6 ماہ سے 5 سال تک کی عمر کے بچوں میں غذائی قلت کے خطرے کی ابتدائی نشاندہی میں مدد دیتی ہے۔ایم یو اے سی ٹیپ ان علاقوں میں بھی کارآمد ہے جہاں وزن اور قد کی بنیاد پر غذائی کیفیت جانچنے کے روایتی طریقے مشکل ہوتے ہیں، خصوصاً انسانی بحرانوں اور دور دراز علاقوں میں۔ تاہم ایم یو اے سی کے نتائج کو دیگر طبی، تشخیصی اور جسمانی پیمائش کے اشاریوں کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ بچے کو غذائی نگہداشت کی ضرورت ہے یا نہیں۔

ٹریفک لائٹ رنگوں سے غذائی قلت کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ایم یو اے یس ٹیپ بچے کے بازو کے درمیانی حصے کے گرد لپیٹ کر پیمائش کی جاتی ہے۔ ٹیپ پر موجود مختلف رنگ غذائی قلت کے خطرے کی فوری نشاندہی کرتے ہیں۔سبز رنگ بچے میں شدید غذائی قلت کا امکان کم ہے۔پیلا رنگ بچے میں درمیانی درجے کی غذائی قلت کا امکان ظاہر کرتا ہے، جس کے لیے غذائی معاونت اور فالو اَپ کی ضرورت ہو سکتی ہے۔سرخ رنگ بچے میں شدید غذائی قلت کا امکان ظاہر کرتا ہے اور فوری طبی معائنے، حوالہ دینے اور علاج کی ضرورت ہوتی ہے، جس میں تیار شدہ غذا (RUTF) بھی شامل ہو سکتی ہے۔

یونیسیف اوسطاً ہر سال 3 کروڑ سے زائدایم یو اے سی ٹیپس فراہم کرتا ہے، جن کے ذریعے تقریباً 60 ممالک میں کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کروڑوں بچوں کی غذائی قلت کے لیے اسکریننگ کر سکتے ہیں۔ ہر ٹیپ کی قیمت تقریباً 0.06 امریکی ڈالر ہے۔نئی چار رنگوں والی ایم یو اے سی ٹیپ عالمی ادارہ صحت (WHO) کی نئی رہنما ہدایات کے مطابق یونیسیف نےایم یو اے سی ٹیپ میں نارنجی رنگ بھی شامل کیا ہے۔ نارنجی رنگ زیادہ خطرے والی درمیانی درجے کی شدید غذائی قلت کی نشاندہی کرتا ہے، جس میں بچے کو قریبی نگرانی، غذائی معاونت اور علاجی غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔یونیسیف کے مطابق چار رنگوں والی نئی ایم یو اے سی ٹیپ کا استعمال شروع ہو چکا ہے اور اسے بتدریج مزید علاقوں تک وسعت دی جا رہی ہے۔

شیر خوار بچوں، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کے لیے خصوصی ایم یو اے سی ٹیپ عالمی ادارے صحت کی رہنما ہدایات کے مطابق یونیسیف نے Mother-Infant MUAC Tape بھی تیار کی ہے، جس کے ذریعے 6 ہفتے سے 6 ماہ تک کی عمر کے انتہائی کم عمر بچوں میں غذائی قلت کی فوری اسکریننگ کی جا سکتی ہے۔اس ٹیپ کے ایک جانب سبز رنگ شیر خوار بچے میں کمزور نشوونما کے خطرے کے کم ہونے کی نشاندہی کرتا ہے، جبکہ بنفشی رنگ بچے میں خطرے کی نشاندہی کرتا ہے، جس کی صورت میں مزید طبی معائنے کے لیے صحت مرکز سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

یہ ٹیپ تربیت یافتہ ہیلتھ ورکرز کے ذریعے بچوں کے سر کے گھیراؤ کی پیمائش کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہے، جس سے ممکنہ نیورو ڈویلپمنٹل مسائل کی ابتدائی نشاندہی میں مدد مل سکتی ہے۔ٹیپ کے دوسری جانب حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کے بازو کے گھیراؤ کی پیمائش کی جاتی ہے، جس سے ماؤں میں غذائی کمی کی بروقت نشاندہی میں مدد ملتی ہے۔ ماں کی غذائی کیفیت بچے کی نشوونما اور صحت سے براہ راست منسلک ہے۔

غذائی قلت کی اسکریننگ کے آلات تک رسائی بڑھانے کے لیے یونیسیف معیار کے تقاضے پورے ہونے کی صورت میں ایم یو اے سی ٹیپ کے ڈیزائن مقامی سطح پر پرنٹنگ کے لیے بھی دستیاب کراتا ہے۔ اس اقدام سے ترسیل کے وقت اور اخراجات میں کمی کے ساتھ طویل فاصلے کی نقل و حمل سے پیدا ہونے والے کاربن اخراج کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔کچھ ممالک میں ایم یو اے سی ٹیپ کو شاکر اسٹرپ یا شاکر ٹیپ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔