ورلڈ مسلم کانگریس کے مستقل نمائندے الطاف حسین وانی نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں نجی فوجی عناصر اور جدید نگرانی کی ٹیکنالوجی کے استعمال کی آزادانہ اور بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
الطاف وانی کا جموں و کشمیر میں بھارت کی جانب سے کرائے کے جنگجوؤں اور نگرانی کی ٹیکنالوجی کے استعمال کی تحقیقات کا مطالبہ

مزید خبریں
جنیوا ۔16ستمبر (اے پی پی):ورلڈ مسلم کانگریس کے مستقل نمائندے الطاف حسین وانی نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں نجی فوجی عناصر اور جدید نگرانی کی ٹیکنالوجی کے استعمال کی آزادانہ اور بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے دوران رپورٹ A/HRC/63/31پر انٹرایکٹو ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے الطاف وانی نے کرائے کے جنگجوؤں کے استعمال سے متعلق اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کی رپورٹ کا خیرمقدم کیا اور خبردار کیا کہ نجی فوجی و سکیورٹی کمپنیوں کی کارروائیوں میں جدید ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا استعمال انسانی حقوق اور جوابدہی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہا ہے۔ جموں و کشمیر کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے نجی ملیشیا، کرائے کے جنگجو گروہوں کے استعمال اور شہریوں کے خلاف ان کی مبینہ جبری کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ ایسی کارروائیوں میں غیر ریاستی عناصر کا استعمال سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بشمول ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کے لیے جوابدہی سے بچنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
الطاف وانی نے کشمیر میں جدید نگرانی کی ٹیکنالوجی کے مبینہ استعمال کی جانب خصوصی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ اس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی، بائیومیٹرک ٹریکنگ اور ڈیجیٹل نگرانی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ نے شہریوں کی وسیع پیمانے پر نگرانی کو ممکن بنا دیا ہے اور اسے سیاسی اختلاف رائے کو دبانے اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو نشانہ بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں نگرانی کی ٹیکنالوجی کے استعمال کو محض سکیورٹی کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ شہریوں کے خلاف اس کے استعمال سے رازداری، آزادی اظہار، نقل و حرکت کی آزادی اور دیگر بنیادی حقوق کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں۔
ورلڈ مسلم کانگریس کے نمائندے نے خبردار کیا کہ عسکریت، نجی جبری عناصر اور جدید نگرانی کی ٹیکنالوجی کا امتزاج جموں و کشمیر میں ایک انتہائی خطرناک صورتحال پیدا کر رہا ہے، جہاں ٹیکنالوجی کے ذرائع کو مزید کنٹرول مضبوط کرنے، اختلاف رائے کو خاموش کرنے اور جوابدہی سے بچنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔الطاف وانی نے انسانی حقوق کونسل اور متعلقہ اقوام متحدہ کے اداروں پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر میں نجی ملیشیا کے کردار اور جدید نگرانی کی ٹیکنالوجی کے استعمال کی آزادانہ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائیں۔
انہوں نے کونسل پر زور دیا کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے کہ نجی اداروں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا سلسلہ بند کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ نگرانی کی ٹیکنالوجی شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے لیے استعمال نہ ہو۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کشمیری عوام کو عسکریت، نگرانی یا دیگر جبری اقدامات کے ذریعے اپنے بنیادی حقِ خودارادیت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی صورتحال کی موثر نگرانی کے لیے عالمی برادری کی جانب سے مزید مضبوط اقدامات کا مطالبہ کیا۔








