الیکشن کمشنر خیبرپختونخوا کی خواتین کی ووٹ رجسٹریشن کے پانچویں مرحلے کو کامیاب بنانے کی کوششیں تیز کرنے کی ہدایت

پشاور۔ 02 جنوری (اے پی پی):الیکشن کمشنر خیبرپختونخوا سعید گل نے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنرز نادرا کے تعاون سے خواتین کے شناختی کارڈ بنوانے اور ان کی ووٹ رجسٹریشن کے حوالہ سے جاری مہم کے پانچویں مرحلے کو کامیاب بنانے میں اپنی کاوشیں تیز کریں تاکہ مرد و خواتین کے مابین صنفی فرق کم سے کم کیا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں جمعہ کو …

پشاور۔ 02 جنوری (اے پی پی):الیکشن کمشنر خیبرپختونخوا سعید گل نے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنرز نادرا کے تعاون سے خواتین کے شناختی کارڈ بنوانے اور ان کی ووٹ رجسٹریشن کے حوالہ سے جاری مہم کے پانچویں مرحلے کو کامیاب بنانے میں اپنی کاوشیں تیز کریں تاکہ مرد و خواتین کے مابین صنفی فرق کم سے کم کیا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں جمعہ کو مہم کے حوالہ سے متعلقہ اضلاع کے افسران کے لئے تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ورکشاپ میں ریجنل الیکشن کمشنر پشاور، مردان کوہاٹ، سوات اور ہزارہ سمیت ڈپٹی الیکشن کمشنر پشاور، خیبر ،نوشہرہ، چارسدہ ، مردان، صوابی ، کوہاٹ، ہنگو، سوات، لوئر دیر، اپر دیر ،شانگلہ اور بٹگرام شامل تھے۔ڈپٹی ڈائریکٹر جینڈر اینڈ سوشل انکلیوژن الیشن کمیشن سیکرٹریٹ ، شبیر خان اور نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شاہد خان نے ورکشاپ کے شرکا مہم کے حوالہ سے تفصیلی بریفنگ دی اور جینڈر گیپ سے متعلق اعداد و شمار شئیر کی اور حکمت عملی سے آگاہ کیا۔

سعید گل نے کہا کہ خواتین کے شناختی کارڈ اور ووٹ رجسٹریشن کے پانچویں مرحلہ کے مہم کا مقصد اس مہم کی اہمیت اجاگر کرنا ہےتاکہ مرد و خواتین ووٹرز کے مابین صنفی فرق کو کم سے کم بنایا جاسکے۔ یہ مہم خیبرپختونخوا کے 13 اضلاع میں جاری ہے، جن میں پشاور، نوشہرہ، چارسدہ ، خیبر، مردان ، صوابی ، کوہاٹ، ہنگو، بٹگرام ، سوات ، شانگلہ ، اپر دیر اور لوئر دیر شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس مہم کے دوران وہ خواتین جن کے پاس شناختی کارڈز ابھی تک نہیں ہیں

، ان علاقوں میں نادرا کے موبائیل رجسٹریشن وین کے ذریعے ان کے شناختی کارڈ بنائے جارہیں ہیں جس کے لئے اس مہم کے دوران ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر اور نادرا حکام کے باہمی مشاورت سے باقاعدہ حکمت عملی مرتب کی جاتی ہے کیونکہ الیکشن کمیشن انتخابی عمل میں تمام طبقات بالخصوص خواتین کی شمولیت کے لئے کاوشیں کر رہا ہے۔ صوبائی الیکشن کمشنر سعید گل نے بتایا کہ اس صنفی فرق کو 7 فی صد سے کم کرانا ہے۔

انہوں نے ورکشاپ کے شرکا پر زور دیا کہ مہم کے دوران درپیش چیلنجز اور ان کے لئے قابل عمل حل تجویز کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین رجسٹر ہوسکیں۔شرکانے ورکشاپ کے دوران قابل عمل تجاویز دیں۔ نادار کے حکام نے مہم کے دوران مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ جوائنٹ صوبائی الیکشن کمشنر محمد فرید آفریدی نے ورکشاپ کے اختتام پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام افسران مہم کو کامیاب بنانے کے لئے تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں۔ انہوں نے نادرا کے تعاون کو بھی سراہا۔