اسلام آباد ۔ 12 اپریل (اے پی پی)امام حرم مکہ قاری و شیخ ڈاکٹر عبداللہ عواد الجہنی نے کہا ہے کہ امت مسلمہ کے نوجوان اسلامی معاشروں کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تاہم انہیں ایسے عناصر سے دور رکھنا ہو گا جو منفی سوچ اور تخریبی افکار کی ترغیب دیتے ہیں، دین کا نام لے کر گمراہی پھیلانے والے کبھی بھی مسلم امہ کے خیر خواہ نہیں ہو …
امام کعبہ ڈاکٹر عبداللہ عواد الجہنی کا فیصل مسجد میں خطبہ جمعہ اور اسلامی یونیورسٹی میں منعقدہ سیمینار سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 12 اپریل (اے پی پی)امام حرم مکہ قاری و شیخ ڈاکٹر عبداللہ عواد الجہنی نے کہا ہے کہ امت مسلمہ کے نوجوان اسلامی معاشروں کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تاہم انہیں ایسے عناصر سے دور رکھنا ہو گا جو منفی سوچ اور تخریبی افکار کی ترغیب دیتے ہیں، دین کا نام لے کر گمراہی پھیلانے والے کبھی بھی مسلم امہ کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے جبکہ علماءحق پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاشرے کی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں رہنمائی کریں۔ یہ بات امام کعبہ ڈاکٹر عبداللہ عواد الجہنی نے فیصل مسجد میں خطبہ جمعہ اور ”عصر حاضر کے مسائل اور نوجوانان امت“ کے موضوع پر اسلامی یونیورسٹی میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ فیصل مسجد میں نماز جمعہ کی امامت امام کعبہ نے کی جس میں جڑواں شہروں سے ہزاروں کی تعداد میںشہریوں اور معاشرے کی نامور شخصیات نے بھی نماز جمعہ اور سیمینار میں شرکت کی۔ انہوں نے اس موقع پر پاک سعودی تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات مثالی، مضبوط ترین اور تاریخی ہیںجو کہ ہر آنے والے دن کے ساتھ بہتر سے بہتر ہو رہے ہیں۔ نماز جمعہ کے بعد امام حرم نے امت مسلمہ کی خوشحالی اور خصوصاً پاکستان کی ترقی کے لیے دعا کی۔ بعد از نماز جمعہ سیمینار سے خطاب میں ڈاکٹر عبداللہ عواد الجہنی نے کہا کہ اللہ اور اللہ کے رسول کے نزدیک وہ نوجوان بہترین ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو دین کی خدمت اور حفاظت کے لیے وقف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان ہی وہ قوت ہوتے ہیں جو معاشروں کی کایا پلٹتے ہیں۔ انہوں نے قرآن مجید سے سورة کہف اور دیگر ایسی آیات کا ذکر کیا جن میں نوجوانوں کی اہمیت اور آنے والی اقوام کے لیے نصیحت کا عنصر ہے۔ امام حرم نے پرتپاک استقبال پر اسلامی یونیورسٹی کے اعلیٰ عہدیداران و جملہ ملازمین کا شکریہ ادا کیا اور یونیورسٹی کی ترقی کے لیے بھی دعا کی۔ سیمینار سے سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی نے خطاب میں کہا کہ سعودی عرب نوجوانوں کو فکری انحراف سے دور رکھنے اور تعمیری افکار کی طرف راغب کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے جبکہ حال ہی میں وہاں ایک خصوصی مرکز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو منفی رجحانات سے بچا کر مثبت سوچ کی طرف لانا ہے۔ سعودی سفیر نے مزید کہا کہ امام کعبہ کے لیے پاکستانیوںکی محبت دیدنی ہے اور یہی جذبہ دونوں اقوام کی جانب سے برابر طور پر سامنے آتا ہے کیونکہ دونوں برادر ممالک ہر غم اور خوشی کی گھڑی میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔ تقریب سے وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہاکہ نوجوان کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی شخصیات کواسلامی سانچے میں ڈھالنا چاہیے۔ انہیں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھایا جائے تو یہ امت مسلمہ کے لیے اہم اثاثہ ثابت ہوں گے۔ تقریب سے سینئر سیاستدان سینیٹر راجہ ظفر الحق نے امت مسلمہ کے نوجوانوں کے مسائل اور ان کے حل میں میڈیا کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ذرائع ابلاغ میں ترقی اور نوجوانوں کی قرآن و سنت کی روشنی میں تربیت کے ذریعے ہی موجودہ چیلنجز سے نمٹا جا سکتا ہے۔ تقریب سے اسلامی یونیورسٹی کے ریکٹر ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی یونیورسٹی پاک سعودی عرب دوستی کی عظیم مثال ہے جو کہ امت مسلمہ کا فخر ہے۔ ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی نے جامعہ کے ساتھ خصوصی تعاون جاری رکھنے پر خادمین حرمین شریفین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی یونیورسٹی عظیم مسلم رہنماو¿ں کے وژن کی عکاسی کرتے ہوئے نوجوانوں کو دین اور دنیا کی برابر تعلیم دے کر انہیں متوازی سوچ کے متحمل افراد بناتی رہے گی۔ اس موقع پر اسلامی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جامعات معاشرے کے اہم ترین ادارے ہیں جن کو معاشرتی ترقی کے بہترین مواقع فراہم کیے جائیںتو وہ دن دور نہیں کہ مسلم امہ جملہ اقوام کے لیے ایک مثال بن کر ابھرے گی۔ انہوں نے شرکاءاور خصوصاً امام حرم کو اسلامی یونیورسٹی کی حالیہ تدریسی رینکنگ میں بہترین کارکردگی کے حوالے سے آگاہ کیا اور اس عزم کو دہرایا کہ یونیورسٹی معاشرے کے طبقات کے مابین موجود خلا کو پر کرتے ہوئے عصر حاضر کے چیلنجز کا حل ڈھونڈنے میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ اس موقع پر سعودی وفد کے اراکین، حکومتی عہدیدران، سفارت کاروں اور معاشرے کی دیگر نامور شخصیات یونیورسٹی کے اعلیٰ عہدیدران اور ملازمین بھی سیمینار میں موجود تھے۔ سیمینار کے آخرمیں امام حرم کو یونیورسٹی کی یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔








