امدادی ٹرکوں کے داخلے پر پابندی اور محدود رسائی کی وجہ سے غزہ کی آبادی کے ایک بڑے حصے کو تباہ کن بھوک اور قحط کا سامنا ہے، عالمی ادارہ صحت

غزہ۔8جولائی (اے پی پی):مشرقی بحیرہ روم کے لیے عالمی ادارہ صحت کی ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر حنان بلخی نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں کے باعث نظام صحت کی تباہی کی وجہ سے فلسطینی عوام نے جن مشکلات کا سامنا کیا ہے وہ اس قدر پیچیدہ ہیں کہ امدادی کارکنوں کے لیے ان کو سمجھنا ہی کافی مشکل ہے۔ اردو نیوز کے مطابق عرب نیوز کے کرنٹ افیئرز کے …

غزہ۔8جولائی (اے پی پی):مشرقی بحیرہ روم کے لیے عالمی ادارہ صحت کی ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر حنان بلخی نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں کے باعث نظام صحت کی تباہی کی وجہ سے فلسطینی عوام نے جن مشکلات کا سامنا کیا ہے وہ اس قدر پیچیدہ ہیں کہ امدادی کارکنوں کے لیے ان کو سمجھنا ہی کافی مشکل ہے۔ اردو نیوز کے مطابق عرب نیوز کے کرنٹ افیئرز کے پروگرام ’’فرینکلی سپیکنگ‘‘میں سعودی نژاد عالمی ادارہ صحت کی اہلکار نے غزہ میں اسرائیلی بمباری کے دوران فلسطینیوں اور امدادی کارکنوں کو درپیش مشکلات کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہےکہ ان کے لیے فلسطینی عوام کی المناک کہانیوں کو سننا اور ان کے حوالے سے بات کرنا مشکل ہے۔ وہ مصر کی طرف سے رفح بارڈر کراسنگ پر گئیں ،وہ العریش کے ہسپتالوں میں ان مریضوں کی عیادت کے لیے پہنچیں ،انہوں نے جو کہانیاں سنی ہیں اور جو صدمے دیکھے ہیں وہ کافی شدید ہیں۔

حنان بلخی نےرواں سال فروری میں عالمی ادارہ صحت کی ریجنل ڈائریکٹر کے طور پر اپنا عہدہ سنبھالا تھا اور اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو تباہی ہم دیکھ رہے ہیں، اور صدمے کی شدت اور پیچیدگی ایسی چیزیں ہیں جن کو ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے اور مسائل کے حل لیے طریقے تلاش کرنے ہوں گے۔ غزہ میں اسرائیلی بمباری کی وجہ سے نہ صرف شہری انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا بلکہ فلسطینی شہریوں کی بڑی تعداد بے گھر ہو گئی ہے اور فلسطینی شہریوں کو خوراک، پینے کے پانی اور ادویات کی شدید قلت کا بھی سامنا ہے۔ غزہ کے 36 ہسپتالوں میں سے صرف 33 فیصد اور اس کے بنیادی صحت کے مراکز میں سے صرف 30 فیصد کچھ صلاحیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ اس سوال کہ کیا غزہ میں نظام صحت کی بحالی ناممکن ہو گی، انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او مریضوں اور زخمیوں کے لیے اپنی پوری کوشش جاری رکھے گا۔ غزہ کی صورتحال ہم سب کے لیے خاص طور پر شراکت داروں کے لیے کافی تکلیف دہ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او اپنے شراکت داروں کے ساتھ غزہ میں ایندھن، طبی سامان اور دیگر امداد کی فراہمی کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ ڈاکٹر حنان بلخی نے خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی(یو این ار ڈبلیو اے )کے اہم کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یو این آر ڈبلیو اے بہت اہم ہے اور ہم اس کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور بنیادی صحت کے نظام میں جو کچھ بچا ہوا ہے اسے برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور جو نقصان ہوا ہے اسے بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صحت کی تشویش ناک صورتحال سے دوچار مریضوں کے انخلا کے لیے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ ڈاکٹر حنان بلخی نے کہا کہ امدادی کارکنوں کو درپیش چیلنجزکے باوجود ہم وہاں موجود ہوتے ہیں، ہم خدمت فراہم کرتے ہیں اور غزہ میں مریضوں اور زخمیوں کی خدمت کے لیے اپنی پوری کوشش کرتے رہتے ہیں۔ یو این آر ڈبلیو اے رواں سال کے آغاز میں اُس وقت مالی دباؤ میں آئی جب بڑے مغربی عطیہ دہندگان نے اسرائیلی الزامات پر ادارے کے لئے اپنی فنڈنگ ​​روک دی۔ اسرائیل نے الزام یو این آر ڈبلیو اے پر الزام عائد کیا تھا کہ یو این آر ڈبلیو اے کے عملے کے 12 ارکان نے سات اکتوبر کے حملے میں حصہ لیا تھا۔

امدادی ٹرکوں کے داخلے پر پابندی اور محدود رسائی کی وجہ سے غزہ کی آبادی کے ایک بڑے حصے کو تباہ کن بھوک اور قحط کا سامنا ہے کیونکہ امدادی ایجنسیوں اور عطیہ دینے والے ممالک کی طرف سے فراہم کی جانے والی اشیائے خورونوش کے ٹرک جو غزہ میں داخل ہونے کے لیے انتظار کر رہے ہیں، ان میں چیزیں خراب ہو رہی ہیں اور اس کا انتظام کرنا ہمارے لیے واقعی میں بہت مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی 96 فیصد آبادی مستقل بنیادوں پر شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہی ہے اور اس کی نصف سے زیادہ آبادی کے پاس اپنے گھر میں کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے جبکہ 20 فیصد افراد بغیر کچھ کھائے پیئے دن اور راتیں گزارتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی سے ڈبلیو ایچ او اور دیگر امدادی اداروں کو غزہ کے اندر آزادانہ آمدورفت کی اجازت ہو گی جس سے وہ انتہائی ضرورت مندوں تک پہنچ سکیں گے اور اس کے انفراسٹرکچر کو بحال کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی سے متعلق ہم سلامتی کونسل کی قرارداد کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ امن ہی غزہ کے لوگوں کی مدد کے لیے آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ انہوں نے لبنان کی صورتحال کے حوالے سے کہا کہ کشیدگی میں اضافہ لبنان کے لیے ’تباہ کن‘ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم میں سے کوئی بھی مزید جنگ اور مزید تباہی نہیں چاہتا لہٰذا ہم امید کرتے ہیں کہ سفارت کاری اپنا کردار ادا کرے گی اور خطہ پُرامن ہو گا اور یہ کشیدگی نہیں بڑھے گی۔