واشنگٹن۔24جولائی (اے پی پی):سابق امریکی صدر اور صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کی قیادت نے اپنے رہنمائوں اور اراکین کو ہدایت کی ہے کہ وہ مخالف امیدوار کملا ہیرس پر نسل پرستی اور صنفی امتیاز پر مبنی حملوں سے گریز کریں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ریپبلکن پارٹی کی قیادت کے بند کمرے کے اجلاس میں نیشنل ریپبلکن کانگریشنل کمیٹی کے چیئرمین رچرڈ ہڈسن نے اپنے اراکین کانگرس …
امریکا،ریپبلکن پارٹی کی اپنے رہنمائوں کو ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار کملا ہیرس پر نسل پرستی اور صنفی امتیاز پر مبنی حملوں سے گریز کی ہدایت

مزید خبریں
واشنگٹن۔24جولائی (اے پی پی):سابق امریکی صدر اور صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کی قیادت نے اپنے رہنمائوں اور اراکین کو ہدایت کی ہے کہ وہ مخالف امیدوار کملا ہیرس پر نسل پرستی اور صنفی امتیاز پر مبنی حملوں سے گریز کریں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ریپبلکن پارٹی کی قیادت کے بند کمرے کے اجلاس میں نیشنل ریپبلکن کانگریشنل کمیٹی کے چیئرمین رچرڈ ہڈسن نے اپنے اراکین کانگرس پر زور دیا کہ وہ موجودہ صدر جو بائیڈن ، ان کی نائب کملا ہیرس اور ان کی انتظامیہ کی پالیسیوں میں صرف ان کے کردار پر تنقید کریں۔
اجلاس کے بعد ایوان کے سپیکر مائیک جانسن نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ آئندہ انتخابات پالیسیوں پر لڑیں گے نہ کہ شخصیات پر۔ واضح رہے کہ ڈیموکریٹ رہنما اور موجودہ نائب صدر کامیابی کی صورت میں پہلی خاتون اور پہلی ایشیائی سیاہ فام امریکی صدر ہوں گی۔ صدر جو بائیڈن کی طرف سے انتخابات کی دوڑ سے دستبردار ہو نے کے اعلان کے بعد ریپبلکن پارٹی کے رہنمائوں نے کملا ہیرس کے خلاف الزامات کی ایک طویل فہرست تیار کی ہے اور ان کو بھرپور تنقید کا نشانہ بنانے کی تیاریاں شروع کر رکھی ہیں، ان الزامات میں صدر جو بائیڈن کی صحت کے مسائل کو چھپانے میں ملوث ہونے کا الزام بھی شامل ہے۔
ریپبلکن پارٹی کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ وہ کیلیفورنیا میں بطور پراسیکیوٹر کملا ہیرس کے ریکارڈ کی بھی چھان بین کر رہے ہیں۔امریکی ایوان نمائندگا کے سپیکر مائیک جانسن نے مزید کہا کہ کملا ہیرس جو بائیڈن انتظامیہ کی پالیسیوں میں شریک رہی ہیں، وہ جو بائیڈن سے بھی زیادہ پروگریسیو ہیں اور انتظامیہ کی تمام پالیسیوں کی ذمہ داری لیتی ہیں۔سینیٹر سٹیو ڈینس جو نیشنل ریپبلکن سینیٹوریل کمیٹی کے سربراہ ہیں، نے ہیرس کو بہت زیادہ لبرل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ آئرش کیتھولک نہیں جو سکرینٹن میں پلی بڑھیں، وہ سان فرانسسکو کی لبرل ہیں۔قبل ازیں نیوز میکس پر ایک انٹرویو میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ کملا ہیرس نے سان فرانسسکو شہر کو تباہ کر دیا۔ انہوں نے 2011 میں وہاں ڈسٹرکٹ اٹارنی کی نوکری چھوڑ دی تھی۔ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کملا ہیرس جو بائیڈن کی طرح کمزور، ناکام اور نااہل ہیں اور وہ خطرناک حد تک لبرل بھی ہیں۔







