نیو یارک۔3نومبر (اے پی پی):امریکی ریاست نیویارک کی لیوس کائونٹی میں خسرے کی وبا کے باعث ایک بچے کی موت واقع ہو گئی ، جو ریاست میں 30 سال سے زائد عرصے کے دوران خسرہ سے ہونے والی پہلی موت ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نیویارک کے محکمہ صحت نے گزشتہ روز بیان میں بتایا ہے کہ اس نے لیوس کائونٹی کو عوامی آگاہی اور مقامی سطح …
امریکا،نیویارک میں خسرہ کی وبا سے 30 سال بعد پہلی موت

مزید خبریں
نیو یارک۔3نومبر (اے پی پی):امریکی ریاست نیویارک کی لیوس کائونٹی میں خسرے کی وبا کے باعث ایک بچے کی موت واقع ہو گئی ، جو ریاست میں 30 سال سے زائد عرصے کے دوران خسرہ سے ہونے والی پہلی موت ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نیویارک کے محکمہ صحت نے گزشتہ روز بیان میں بتایا ہے کہ اس نے لیوس کائونٹی کو عوامی آگاہی اور مقامی سطح پر ویکسی نیشن کی کوششوں میں معاونت کے لیے وسائل فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ یہ اقدامات حالیہ واقعے کے ردعمل کے ساتھ ساتھ ان تمام کاؤنٹیز کی مدد کے لیے بھی کیے جا رہے ہیں جو اس وبا کا سامنا کر رہی ہیں۔
یہ ہلاکت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا کو کئی دہائیوں کے دوران خسرہ کی بدترین وبا کا سامنا ہے۔نیویارک کی گورنر کیتھی ہوکل نے اکتوبر میں نیویارک اور اس کی پڑوسی ریاستوں کے مختلف علاقوں میں خسرہ کی وبا کے پیش نظر ریاست میں ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست وبا پر قابو پانے کے لیے وفاقی حکومت سے مدد طلب کرے گی، تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کی تھی کہ آیا بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے امریکی ادارے (CDC) کی ایپیڈیمک انٹیلی جنس سروس (Epi-Aid) سے باضابطہ درخواست کی گئی ہے یا نہیں۔ 24 اکتوبر تک نیویارک میں رواں سال خسرےکے 178 کیس رپورٹ ہوچکے تھے، جن میں سے 170 کیس نیویارک سٹی سے باہر جبکہ 8 کیس نیویارک سٹی میں سامنے آئے تھے۔
ریاستی محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ وہ کائونٹی کے محکمہ صحت اور مقامی اداروں کے ساتھ مل کر ایسے افراد کو خسرہ، ممپس اور روبیلا (MMR) کی ویکسین فراہم کر رہے ہیں جنہوں نے ویکسین نہیں لگوا ئی اور اسے حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں۔ اس کے علاوہ رپورٹ ہونے والے کیسز کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔ امریکی محکمہ صحت و انسانی خدمات نے رائٹرز کو ای میل کے ذریعے بتایا کہ نیویارک کی درخواست پر سی ڈی سی نے وبا کی نگرانی، اعداد و شمار کے تجزیے، حکمت عملی کی منصوبہ بندی اور دیگر امدادی اقدامات کے لیے ماہرین اور وبائی امراض کے ماہرین کو ریاستی حکام کے ساتھ کام کرنے کے لیے تعینات کیا ہے۔
سی ڈی سی کے مطابق رواں سال خسرے سے متعلق تین اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، تاہم ادارے نے ان ریاستوں کے نام ظاہر نہیں کیے جہاں یہ اموات ہوئیں۔ رواں سال پنسلوانیا اس وبا کا مرکزی مرکز رہا ہے، جہاں اب تک خسرے کے 1,433 مصدقہ کیسز اور اس بیماری سے منسلک پانچ اموات رپورٹ ہوچکی ہیں۔ اعداد و شمار میں اس فرق کی وجہ امریکی وزیر صحت رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کے دور میں پالیسی میں تبدیلی بتائی گئی ہے۔ سی ڈی سی نے خسرہ سے ہونے والی اموات کا ریکارڈ رکھنے کے لیے ریاستی محکمہ صحت کے اعداد و شمار پر انحصار کرنے کی بجائے نیشنل سینٹر فار ہیلتھ اسٹیٹسٹکس کے اموات سے متعلق ڈیٹا کو استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ ■







