واشنگٹن ۔20مارچ (اے پی پی):امریکا نے خلیجی ممالک کو 16.5 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کے معاہدے کی منظوری دے دی۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس مجوزہ معاہدے میں خلیجی ممالک بشمول متحدہ عرب امارات، کویت اور اردن کے لیے ڈرون، میزائل اور ریڈار کی فروخت شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکاکے محکمہ خارجہ نے ایران کے ساتھ کشیدگی میں شدت آنے پر متحدہ عرب امارات، کویت اور اردن …
امریکا نے خلیجی ممالک کو 16.5 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کے معاہدے کی منظوری دے دی

مزید خبریں
واشنگٹن ۔20مارچ (اے پی پی):امریکا نے خلیجی ممالک کو 16.5 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کے معاہدے کی منظوری دے دی۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس مجوزہ معاہدے میں خلیجی ممالک بشمول متحدہ عرب امارات، کویت اور اردن کے لیے ڈرون، میزائل اور ریڈار کی فروخت شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکاکے محکمہ خارجہ نے ایران کے ساتھ کشیدگی میں شدت آنے پر متحدہ عرب امارات، کویت اور اردن کو ہتھیاروں کی فروخت کے لیے 16.5 بلین ڈالر کے معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے جمعرا ت کو وضاحت کی کہ 8.4 بلین ڈالر مالیت کا اسلحہ متحدہ عرب امارات کو ڈرونز، میزائلوں، ریڈار سسٹمز اور F-16 طیاروں کی صورت میں دیا جائے گا۔
معاہدے کے ایک حصے کے طور پر، واشنگٹن نے کویت کو فضائی اور میزائل دفاعی ریڈار سسٹم کے لیے تقریباً 8 بلین ڈالر اور اردن کے لیے اضافی 70.5 ملین ڈالر کی منظوری بھی دی، جس میں طیاروں اور گولہ باری کی معاونت کا احاطہ کیا جائے گا۔امریکا کے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ مجوزہ فروخت ایک بڑے دفاعی پارٹنر کی سکیورٹی کو بہتر بنا کر امریکا کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے مقاصد کی حمایت کرے گی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مجوزہ معاہدے کو کانگریس کی منظوری کی ضرورت نہیں تھی اس لیے کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس کا یہ جواز دیا ہے کہ ایک ہنگامی صورت حال موجود ہے جس کے لیے اسلحے کی فوری فروخت کی ضرورت ہے ۔ امریکی اسلحہ کی فروخت کی منظوری امریکا اور ایران کے درمیان مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران دی گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کرنے میں اسرائیل کا ساتھ دیا تھا اور اس کے نتیجے میں ہونے والی جنگ نے طویل علاقائی تنازعے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ جمعرات کی مجوزہ فروخت میں پرنسپل ٹھیکیداروں میں آر ٹی ایکس کارپوریشن، نارتھروپ گرومین اور لاک ہیڈ مارٹن کارپوریشن شامل ہوں گے۔جرمن نشریاتی ادارے نے وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے لئے امریکی اسلحے کے پیکج میں تقریباً 5.6 بلین امریکی ڈالر مالیت کے پیٹریاٹ PAC-3 میزائل سسٹم اور CH-47 چنوک ہیلی کاپٹر شامل ہیں جن کی مالیت تقریباً 1.32 بلین امریکی ڈالر ہے۔ منظوریوں میں پہلے کے معاہدوں پر توسیع ہوتی ہے اور امریکی ہتھیاروں کی برآمد کے قوانین کے تحت اسے عوامی طور پر ظاہر نہیں کیا جاتا تھا۔یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیجی ممالک تنازع سے منسلک میزائل اور ڈرون کے جاری خطرات کے جواب میں دفاعی تیاریوں کو بڑھا رہے ہیں۔








