امریکہ ایران جنگ بندی تاریخی کارنامہ، وزیراعظم اور آرمی چیف نوبل امن انعام کے مستحق ہیں، ڈاکٹر درشن لال

امریکہ ایران جنگ بندی تاریخی کارنامہ، وزیراعظم اور آرمی چیف نوبل امن انعام کے مستحق ہیں، ڈاکٹر درشن لال

اسلام آباد۔19جون (اے پی پی):وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے بحری امور اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر درشن لال پنشی نے کہا ہے کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان کامیاب جنگ بندی اور امن معاہدہ کروا کر دنیا کو ایک بڑی معاشی تباہی سے بچا لیا ہے، جس پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نوبل امن انعام کے مستحق ہیں۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے ڈاکٹر درشن لال نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو ایک تاریخی اور متوازن بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد دی۔اپنے خطاب میں انہوں نے امریکہ ایران امن معاہدے کو صدی کا سب سے بڑا واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تاریخی کامیابی سے دنیا بھر میں پاکستان کی عزت اور گرین پاسپورٹ کے وقار میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ امن کا درس دیا ہے، لیکن دنیا ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھے؛ اگر کسی نے ہمیں چھیڑا تو ہم چھوڑیں گے نہیں۔ انہوں نے اس عظیم کامیابی پر قائد مسلم لیگ (ن) محمد نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر محسن نقوی سمیت پوری قوم کو مبارکباد پیش کی۔ڈاکٹر درشن لال نے سندھ سے تعلق رکھنے والے ہندو کمیونٹی کے عظیم روحانی پیشوا سادھو رام صاحب کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ امر شہید بھگت کنور رام کی گدی کے جانشین سادھو رام صاحب ایک درویش صفت انسان تھے جنہوں نے ہمیشہ انسانیت اور بھائی چارے کی خدمت کی۔

ان کے انتقال پر دنیا کے 300 سے زائد شہروں میں سوگ منایا گیا اور آخری رسومات میں ہر مذہب کے لاکھوں لوگوں نے شرکت کی۔ انہوں نے ان کے بیٹے (نئے جانشین) کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور ایوان میں سادھو رام صاحب کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے پر سپیکر اور ایوان کا شکریہ ادا کیا۔ تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وفاقی پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ ماضی میں ن لیگ کی قیادت بشمول میاں نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز، احسن اقبال اور خواجہ سعد رفیق قید میں رہے لیکن موجودہ اپوزیشن کا کوئی رہنما اس طرح جیل میں نہیں ہے۔

انہوں نے ماضی کی حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت (آرٹیکل 370) ختم کی، تو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے کچھ نہیں کیا، جبکہ میاں شہباز شریف نے اس وقت بھی کشمیر کے معاملے پر حکومت کا بھرپور ساتھ دینے کا اعلان کیا تھا۔