اسٹاک کے شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق
اسٹاک کے شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق

مزید خبریں
اسلام آباد۔19جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین سے پاکستان میں کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان نے ملاقات کی جس میں زراعت، لائیو اسٹاک کی ترقی، زرعی کاروبار میں سرمایہ کاری اور دوطرفہ تجارت کے فروغ کے امکانات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر نے کینیڈین ہائی کمشنر کا خیر مقدم کرتے ہوئے زراعت اور ترقیاتی شعبوں میں پاکستان کے ساتھ کینیڈا کے دیرینہ تعاون کو سراہا۔ انہوں نے پائیدار زراعت، لائیو اسٹاک مینجمنٹ، خوراک کی پیداوار اور زرعی جدت کے شعبوں میں کینیڈا کی عالمی مہارت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کینیڈا کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور غذائی تحفظ، زرعی جدیدکاری اور معاشی ترقی کے لیے تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت کا بنیادی ستون ہے جو ملکی جی ڈی پی میں تقریباً 25 فیصد حصہ ڈالتی ہے اور لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ کینیڈا کی جی ڈی پی میں زراعت کا حصہ نسبتاً کم ہے، تاہم یہ ملک زرعی پیداوار، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور ویلیو ایڈڈ فوڈ پروڈکشن میں عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کینیڈا پاکستان کے اہم زرعی شراکت داروں میں شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان خوردنی تیل کی درآمد پر سالانہ تقریباً 4 سے 5 ارب امریکی ڈالر خرچ کرتا ہے اور حکومت اس انحصار کو کم کرنے کے لیے مقامی سطح پر آئل سیڈز کی پیداوار بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کینیڈا کی کینولا کاشت، بیجوں کی تحقیق، زرعی مشینری اور جدید زرعی طریقوں سے استفادہ کرنے میں پاکستان کی گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔رانا تنویر حسین نے مزید کہا کہ پاکستان اعلیٰ معیار کی زرعی مصنوعات، جن میں آم، چاول، کینو، کھجور اور حلال گوشت شامل ہیں، کی برآمدات بڑھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون سے مارکیٹ تک رسائی، ویلیو ایڈیشن اور زرعی تجارت کے فروغ کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔مستقبل کے تعاون کے شعبوں پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے گندم، چاول، سبزیوں اور آئل سیڈز کے ہائبرڈ بیجوں پر مشترکہ تحقیق، مویشیوں کی نسلوں میں بہتری، ایمبریو ٹرانسفر ٹیکنالوجی، جانوروں کی خوراک کی تیاری، زرعی مشینری کی جدیدکاری، ڈیری اور گوشت کی پراسیسنگ، پیکیجنگ ٹیکنالوجی اور زرعی ویلیو چینز میں اشتراک کی تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے استعدادِ کار میں اضافے، اینیمل ہیلتھ انفارمیشن سسٹمز، امپورٹ رسک اسیسمنٹ اور بیماریوں کے کنٹرول کے پروگراموں کے لیے کینیڈا سے تکنیکی معاونت بھی طلب کی۔
وفاقی وزیر نے دونوں ممالک کے درمیان زرعی شعبے میں حالیہ پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے زندہ جانوروں کی درآمد کے لیے ویٹرنری ہیلتھ سرٹیفکیٹ کو حتمی شکل دئیے جانے اور ڈے اولڈ چوزوں اور ہیچنگ انڈوں کی برآمد سے متعلق جاری تعاون کا ذکر کیا۔ انہوں نے کینولا درآمدات سے متعلق سرٹیفکیشن اور رجسٹریشن کے معاملات کے حل اور پاکستانی حلال مصنوعات کو کینیڈین مارکیٹ تک رسائی دلانے میں تعاون کی بھی درخواست کی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کینیڈا کے ہائی کمشنرطارق علی خان نے زراعت اور زرعی کاروبار کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے پاکستان کی زرعی جدیدکاری کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ہائی کمشنر نے بتایا کہ کینیڈا اپنی اہم زرعی صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پاکستان میں زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کے لیے متحرک کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا دنیا میں کینولا پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے جبکہ پاکستان اس کا ایک بڑا صارف ہے، جس کے باعث اس شعبے میں تعاون دونوں ممالک کے لیے فطری اور اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔طارق علی خان نے مزید بتایا کہ کینیڈا کے وزیر زراعت آئندہ ماہ جولائی میں پاکستان کا دورہ کریں گے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان زرعی تعاون، ادارہ جاتی روابط اور سرمایہ کاری کے امکانات کو مزید فروغ ملے گا۔
ہائی کمشنر نے حالیہ علاقائی سفارتی پیش رفت کو بھی سراہا اور امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمت کو ایک تاریخی کامیابی قرار دیا، جو خطے میں استحکام، اقتصادی تعاون اور پائیدار ترقی کے لیے مثبت کردار ادا کر سکتی ہے۔ملاقات میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ زراعت، لائیو اسٹاک، فوڈ پروسیسنگ، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے فروغ سے نہ صرف دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے بلکہ دونوں ممالک کے لیے نئے معاشی مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
ملاقات کے اختتام پر وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے پاکستان کی جانب سے کینیڈا کے ساتھ زرعی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا اور تکنیکی تعاون، تجارتی سہولت کاری، سرمایہ کاری اور مارکیٹ تک رسائی کے معاملات پر پیش رفت کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام کی تجویز پیش کی۔ملاقات خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی اور دونوں فریقوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور کینیڈا کے مضبوط دوطرفہ تعلقات کو کسانوں، کاروباری اداروں اور عوام کے لیے عملی فوائد میں تبدیل کیا جائے گا۔








