امریکی ریاست نیواڈا نےدریائے کولوراڈو کے پانی میں کٹوتی کے منصوبے کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ پر مقدمہ دائر کر دیا۔
امریکی ریاست نیواڈا نے دریائے کولوراڈو کے پانی میں کٹوتی کے منصوبے کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ پر مقدمہ دائر کر دیا

مزید خبریں
واشنگٹن ۔25اگست (اے پی پی):امریکی ریاست نیواڈا نےدریائے کولوراڈو کے پانی میں کٹوتی کے منصوبے کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ پر مقدمہ دائر کر دیا۔
بنگلہ دیش کی نیوز ایجنسی بی ایس ایس کے مطابق دریائے کولوراڈو راکی ماؤنٹینز سے نکلتا ہے اور خشک امریکی جنوب مغرب کے وسیع علاقوں میں زراعت کو ممکن بناتا ہے۔ یہ خطے میں رہنے والے تقریباً 4 کروڑ افراد کو پینے کا پانی بھی فراہم کرتا ہے، جن میں فینکس جیسے بڑے شہر بھی شامل ہیں۔تاہم کئی دہائیوں سے پانی کے ضرورت سے زیادہ استعمال اور مسلسل خشک سالی نے اس دریا پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ دریا کے پانی کا انتظام پہلے ہی دستیاب وسائل سے زیادہ پانی مختص کیے جانے کی بنیاد پر ہوتا رہا ہے۔گزشتہ ہفتے وفاقی حکومت نے اعلان کیا کہ زیریں طاس کی ریاستوں یعنی ایریزونا، کیلیفورنیا اور نیواڈا کے لیے قابلِ استعمال پانی کی مقدار کم کی جائے گی، جبکہ بالائی طاس کی ریاستوں یعنی کولوراڈو، نیو میکسیکو، یوٹاہ اور وائیومنگ کے حصے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔اس منصوبے کے تحت تینوں زیریں طاس ریاستوں کی مجموعی پانی کی کھپت میں 2036 تک ہر سال 3.7 ارب مکعب میٹر تک کمی کی جا سکتی ہے۔اب نیواڈا نے اس تبدیلی کو روکنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے۔
ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے نتیجے میں نیواڈا کے پانی کے حصے میں دو تہائی تک کمی ہو سکتی ہے، جس سے صحرائی شہر لاس ویگاس کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، کیونکہ شہر اپنی 90 فیصد پانی کی ضروریات کے لیے دریائے کولوراڈو پر انحصار کرتا ہے۔ریپبلکن گورنر جو لومبارڈو نے کہاکہ یہ سیاسی دکھاوا نہیں ہے۔ یہ اس کمیونٹی کی بقا کا معاملہ ہے جو ہماری ریاست کے تقریباً دو تہائی شہریوں اور معیشت کے سب سے بڑے حصے کی نمائندگی کرتی ہے۔وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ پانی کے استعمال میں کمی ضروری ہے کیونکہ دریائے کولوراڈو پر انحصار کرنے والی سات ریاستیں آپس میں کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکام رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو دریا پر قائم وہ ڈیم، جو پن بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، کام کرنا بند کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیواڈا کی جانب سے امریکی وفاقی ضلعی عدالت میں دائر کیا گیا مقدمہ شاید واحد قانونی کارروائی نہ ہو۔ ایریزونا، جسے پانی میں سب سے زیادہ کٹوتی کا سامنا ہے، کی جانب سے بھی اپنے طور پر قانونی چیلنج دائر کیے جانے کا امکان ہے۔وفاقی حکومت کا یہ حکم اور اس کے نتیجے میں ہونے والی قانونی کارروائیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب لیک پاول اور لیک میڈامریکا کے دو سب سے بڑے آبی ذخائرجو دریائے کولوراڈو سے پانی حاصل کرتے ہیں، ریکارڈ کم سطح پر پہنچ چکے ہیں۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیاں، جن میں فوسل ایندھن کا بے تحاشا جلانا بھی شامل ہے، عالمی درجہ حرارت میں اضافہ کر رہی ہیں اور موسمیاتی نظام کو متاثر کر رہی ہیں۔اس کے نتیجے میں دنیا کے بعض علاقوں میں زیادہ طویل خشک سالی جبکہ دوسرے علاقوں میں زیادہ شدید طوفان پیدا ہو رہے ہیں۔







