امریکی فضائیہ کی بی 52 بمبار طیارے کے حادثے میں 8 افراد کی موت کی تصدیق

امریکی فضائیہ نے بی 52 بمبار طیارے کے حادثے میں8 افراد کی موت کی تصدیق کر دی ہے ، مرنے والوں میں امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کے دو ملازمین بھی شامل ہیں۔

لاس اینجلس۔16جون (اے پی پی):امریکی فضائیہ نے بی 52 بمبار طیارے کے حادثے میں8 افراد کی موت کی تصدیق کر دی ہے ، مرنے والوں میں امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کے دو ملازمین بھی شامل ہیں۔ بی بی سی کے مطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا میں امریکی فضائیہ کے ایڈ ورڈز ایئر بیس پر تعینات 412 ویں ٹیسٹ ونگ کے ڈپٹی کمانڈر کرنل جیمز نے بتایا ہے کہ یہ واقعہ پیر کو مقامی وقت کے مطابق 11 بج کر 20 منٹ پر پیش آیا جب طیارہ معمول کی ایک آزمائشی پرواز پر تھا۔ طیارہ بیس سے اُڑان بھرنے کے فوراً بعد گر کر تباہ ہو گیا۔ حادثے کے بعد سیاہ دھوئیں کا ایک بڑا بادل فضا میں بلند ہوا جو میلوں دور سے دیکھا جا سکتا تھا۔

کرنل جیمز ہیز نے صحافیوں کو بتایا کہ حادثے میں مرنے والوں میں فوجی اہلکار، سویلین سرکاری ملازمین اور سرکاری ٹھیکیدار شامل تھے۔ ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ کو مطلع کیا جا رہا ہے اور 24 گھنٹوں کے بعد ان کے نام جاری کیے جائیں گے۔انھوں نے بتایا کہ حادثہ ایڈورڈز ایئر فورس بیس کے رن وے پر پیش آیا جس کے بعد بیس کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بی 52 طیارہ بیس کے ریڈار کو جدید بنانے کے پروگرام میں معاونت کر رہا تھا اور اڑان بھرنے کے فوراً بعد گر کر آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔کرنل جیمز ہیز کے مطابق حادثے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی اور اس کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ہو گا، جن میں 30 دن تک لگ سکتے ہیں جبکہ مزید تفصیلی جانچ میں 6ماہ سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

ایڈورڈز ایئر فورس بیس لاس اینجلس سے تقریباً 160 کلومیٹر شمال میں، موہاوی صحرا میں واقع ہے۔ بوئنگ بی 52 سٹریٹو فورٹریس 1950 کی دہائی سے امریکی فوج کے زیر استعمال ہے۔ اسے ’’دی بف‘‘ بھی کہا جاتا ہے جو جزوی طور پر ’’بگ اَگلی فیٹ (یعنی بڑا، بھدا اور موٹا)‘‘ کا مخفف ہے۔ اس بمبار طیارے کی لمبائی 159 فٹ ہے اور اس کے پروں کا پھیلائو 185 فٹ ہے۔بی 52 طویل فاصلے تک پرواز کرنے والا سٹریٹجک بمبار ہے جو امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران وہاں بمباری میں بھی شامل رہا۔آٹھ انجن والے بی 52 کو بیسویں صدی کا سب سے زیادہ خطرناک بمبار طیارہ سمجھا جاتا ہے اور اسے امریکا کی تین نسلوں نے اڑایا۔ اس جہاز نے ویتنام کی جنگ، عراق کی دو جنگوں اور افغانستان کے خلاف ایک جنگ میں بھی حصہ لیا۔یہ طیارہ 650 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے 50 ہزار فٹ کی بلندی تک پرواز کر سکتا ہے جبکہ مسافر طیارے عموماً 35 ہزار فٹ تک پرواز کرتے ہیں ۔

یہ 70 ہزار پاؤنڈ وزن لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور سینکڑوں روایتی بموں کے ساتھ ساتھ 32 جوہری کروز میزائل لے کر پرواز کر سکتا ہے۔یہ فضا میں ہی ایندھن حاصل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، جس سے اس کی پرواز کرنے کی حد تقریباً لامحدود ہو جاتی ہے اور اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ یہ دنیا کے کسی بھی حصے میں کارروائی کے لیے جا سکتا ہے۔ سرد جنگ کے دوران اس نے امریکا کے لیے’’جوہری چھتری‘‘ کا کردار ادا کیا تھا۔30 سال تک بی 52 بمبار طیارہ اڑانے والے کرنل کیتھ شلٹز کا کہنا ہے کہ ہم جب اس جہاز پر ہتھیار لادتے ہیں تو دنیا اس کا نوٹس لیتی ہے۔ یہ جہاز میدان جنگ میں سب سے پہلے پہنچتا ہے۔ اس کا کام رکاوٹیں ہٹانا ہے تاکہ دیگر جہاز آ کر اپنا کام آسانی سے کر سکیں۔

اس طیار ے کی مدد سے ہزاروں میل دور جاری جنگ میں شامل ہو ا جا سکتا ہے ، طیارے کے 25 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرنے کی وجہ سے پائلٹ اور دیگر عملے کو زمین پر جاری جنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی کوئی ا ٓواز نہیں آتی حتیٰ کہ 200پاؤنڈ بم کے پھٹنے کی آواز نہیں آتی۔1991 میں عراق کے خلاف آپریشن ڈیزرٹ سٹارم میں حصہ لینے والے کرنل وارن وارڈ کا کہنا ہے کہ بعد میں بنائے جانے والے بی ون بمبار اور بی ٹو بمبار طیارے بھی اس کی جگہ نہیں لے سکے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بار انہوں نےیہ طیارہ 47.2 گھنٹے تک اڑایا تھا ، انہوں نے برکسڈیل سے مشرق کی جانب اڑان بھری اور دوبارہ برکسڈیل پر لینڈ کیا یعنی تقریباً پوری دنیا کا سفر کیا۔

بی 52 بمبار طیارے کی یہ صلاحیت کہ یہ دنیا بھر میں کارروائی کر سکے، جنگوں میں ایک نئی چیز ہے اور اس کا نفسیاتی اثر بہت زیادہ ہے۔کرنل وارڈ کا کہنا ہے کہ میں اپنے گھر میں سو کر اٹھتا، ٹیک آف کرتا، دنیا کے دوسرے حصے میں جنگ میں حصہ لے کر واپس اپنے گھر میں آ کر سو جاتا۔ عام طور پر اس طیارے میں پانچ افراد کا عملہ ہوتا ہے، جس میں طیارہ کمانڈر، پائلٹ، ریڈار نیویگیٹر، نیویگیٹر اور الیکٹرانک وارفیئر افسر شامل ہوتے ہیں۔جیسے جیسے ٹیکنالوجی میں جدت آتی گئی اسی طرح بی 52 میں بھی جدت لائی گئی۔ اس کے اوپر والے حصے میں عملے کا ایک اہلکار ریڈار جیمر آپریٹ کرتا ہے تاکہ طیارہ شکن میزائل اور جنگی طیاروں کو چکمہ دیا جا سکے۔