امن وامان ، اتحاد ویکجہتی برقراررکھنے کےلئے عوامی پلیٹ فارم سے ہر قسم کی طعن و تشنیع سے اجتناب کرنے کی ضرورت ہے،علماء ومشائخ

مختلف مکاتب فکر کے علماء ومشائخ نے محرم الحرام کے دوران امن وامان ، اتحاد ویکجہتی برقراررکھنے کے لئے عوامی پلیٹ فارم سے ہر قسم کی طعن و تشنیع سے اجتناب کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر بھی مذہبی منافرت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے، قومی ، ملی اور ملکی حالات میں تمام مسالک کے علماء و مشائخ متحد رہیں گے …

اسلام آباد۔17جون (اے پی پی):مختلف مکاتب فکر کے علماء ومشائخ نے محرم الحرام کے دوران امن وامان ، اتحاد ویکجہتی برقراررکھنے کے لئے عوامی پلیٹ فارم سے ہر قسم کی طعن و تشنیع سے اجتناب کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر بھی مذہبی منافرت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے، قومی ، ملی اور ملکی حالات میں تمام مسالک کے علماء و مشائخ متحد رہیں گے ، علماء ومشائخ نے قیا م امن کےحوالے سے پاکستان کی سفارتی کامیابی پر اظہار تشکر کیا اوروزیراعظم محمد شہباز شریف ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ سید محسن نقو ی کی کاوشوں کو سراہا۔بدھ کو وزارت مذہبی امور میں محرم الحرام کے تقدس کو برقرار رکھنے کےلئے مختلف مکاتب فکر کے علما ء و مشائخ ، وزارت داخلہ، اسلام آباد پولیس، راولپنڈی اور اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے افسران پر مشتمل اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کی

۔ اجلاس کے آغاز پر وزیر مذہبی امور نے کہا کہ معرکہ حق اورعالمی امن کے قیام کےلئے پاکستان کو جوکامیابی اور عزت ملی ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں ، وزیراعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ محمد اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے جو سفارتی کردار ادا کیا اس پر پوری دنیا سے خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ہمیں یہ کامیابی ملی ہے وہاں ہماری ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں ، دنیا میں قیام امن کےلئے ہماری قیادت نے جو کام کیا ہے ملک کے اندر بھی قیام امن کےلئے ہم سب کو مل کر وہی کردار ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام ہمیں اتحاد ویکجہتی کا درس دیتا ہے، علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ محرم الحرام کے دوران امن اور اتحاد ویکجہتی کے حوالے سے مثبت پیغام دیں ، ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ محرم الحرام کے دوران کسی بھی قسم کی طعن و تشنیع سے اجتناب کیا جائے ۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ روز اسلامی نظریاتی کونسل میں بھی محرم الحرام کے تقدس کے حوالے سے تمام مسالک کے علماء و مشائخ نے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا جس کا مقصد پورے ملک کو یہ پیغام دینا ہے کہ مسلکی رواداری کو یقینی بنایا جائے اور امن و امان کے قیام کی ذمہ داری پوری کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ علماء و مشائخ مہراب ومنبر سے جو پیغام دیتے ہیں اس پرعمل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواسہ رسول ﷺ حضرت امام حسینؓ اور ان کے جانثار ساتھیوں نے دین کےلئے قربانی دے کر اسلام کو حیات نو بخشی ، ہر مسلمان دلی طور پر اہل بیت اطہارکی تکریم اور احترام کرتا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ علماء کرام اہل علم ہیں ، فقہی معاملات پر ان کے درمیان اختلاف ہوتا ہے ، باقی لوگوں کو ان اختلافات میں نہیں پڑنا چاہئے، کسی کی دل آزاری نہ کی جائے اور ہر قسم کی نفر ت انگیزی سے اجتنا ب برتا جائے ۔

سردار یوسف نے کہا کہ صوبوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ محرم الحرام کے دوران ایسی فضا قائم کی جائے تاکہ محرم الحرام میں امن و امان اور اتحاد ویکجہتی کی صورتحال برقرار رہے ، حکومت اورعوام ہر سطح پر اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پور ی کریں گی۔ چیئرمین پاکستان علماءکونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ محرم الحرام کے ان ایام میں مقدس ہستیوں کا ذکر عقیدت و احترام سے جاری رہنا چاہئے ، ہر کلمہ گو حسینی ہے ، حضرت امام حسین ؒ اور اہل بیت اطہار ہماری آنکھوں کا نور ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر طعن و تشنیع پر مبنی مواد کی روک تھام کےلئے پی ٹی اے ، وزار ت اطلاعات اور وزارت داخلہ سمیت دیگر اداروں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یکم محرم الحرام کو حضرت سیدنا عمر فاروقؓ کا بھی یوم شہادت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عثمان ؓ، حضرت علیؓ ، نواسہ رسولﷺ حضرت امام حسینؓ اور ان کے جانثار ساتھیوں کی شہادت ہمارے لئے انتہائی قابل عقیدت ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دنیا کو بہت بڑی بدامنی سے بچایا ، یہ عالم اسلام کی بھی بہت بڑی خدمت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امن معاہدے کی اسرائیل اور بھارت کے علاوہ پوری دنیا نے تعریف کی ہے، سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی روک تھام کےلئے کوشاں ہیں ، یہ حساس معاملہ ہے کیونکہ ہمارا دشمن زخم خوردہ ہے۔مولانا ضمیر احمد ساجد نے کہا کہ سوشل میڈیا پرایسی باتیں آتی ہیں جن سے بد امنی پھیلتی ہے ، ایسی ویب سائٹس کو بلاک کیا جائے، نفرت انگیزباتوں سے دشمن فائدہ اٹھاتا ہے۔

ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ شعیب اختر نے کہا کہ ملک کے اندر امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کےلئے مرکزی اور صوبائی امن کمیٹیوں کا کردار کلیدی ہے، سب کو ملک کر ان کمیٹیوں کی سپورٹ کرنی چاہئے، ملک میں امن وامان اور یکجہتی کے قیام کےلئے علماء کرام سے زیادہ موثر کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے ، مجالس اورجلوسوں کی سیف سٹی کیمروں سے مانیٹرنگ کی جائے گی، پیغام امن سارا سال چلنا چاہئے ، دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی اقدامات میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ علامہ عارف واحدی نے کہا کہ امام حسینؓ کسی ایک مسلک کے لئے نہیں ساری انسانیت کےامام ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اہل بیت اطہار ہوں یا صحابہ کرام دونوں رسول اللہ ﷺ کے بازو ہیں ان میں سے کسی کی بھی توہین برداشت نہیں کرسکتے ، ہمیں تقسیم کی سازش سے بچنا ہوگا، اہل بیت اطہار اور صحابہ کرام دونوں ہمارے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں مسالک کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، ہم سب کا مسلک صرف اور صرف دین اسلام ہے ، حضرت امام حسینؓ کے خطبات میں بھی کسی مسلک کا ذکر نہیں ہے۔ مولانا علی محمد تراب نے کہا کہ اس ماہ مبارک سمیت پورے سال امن واتحاد کے ساتھ رہیں ، ہمارے درمیان اتحاد ہوگا تو دشمن ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، امن واتحاد کاقیام ہم سب کی ذمہ داری ہے، اہل بیت اطہار اور تمام صحابہ کرام کا احترام ہونا چاہئے ۔

مفتی فیروز الدین ہزاروی نے کہا کہ سنی ہوں یا شیعہ محرم الحرام کا پہلا عشرہ فاروق و حسین کے طور پر منایا جانا چاہئے ، ریاست کے علاوہ کسی کو بھی طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں ، سوشل میڈیا کو کنٹرول کیا جائے تو بد امنی کی صورتحال پیدا نہیں ہوگی۔ دیگرعلماءکرام نے اس بات پر زور دیا کہ صحابہ اور اہل بیت اطہار سے عقیدت و محبت ایمان کا حصہ ہے ، مقدسات کا احترام امن کا اور مقدسات کی توہین بدامنی کا سبب ہے ، یہ بات ہم سب کو ذہن میں رکھنی چاہئے ۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ملک میں صرف ایک ہی پیام امن کمیٹی ہے ، کئی لوگوں نے گاڑیوں پر نمبر پلیٹیں لگارکھی ہیں جو فراڈ ہے ایسے تمام لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔اجلاس کے آخر میں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے تمام علماءکرام کی آراء پر مبنی متفقہ اعلامیہ پیش کیا جس کی اجلاس نے توثیق کی ۔