مصنوعی ذہانت بے شمار مواقع کے ساتھ گورننس کے نئے چیلنجز بھی لا رہی ہے، چینی صدر

چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ دنیا مصنوعی ذہانت (AI) کی ٹیکنالوجیز میں غیر معمولی جدت کے دور میں داخل ہو چکی ہے، جو ایک جانب عظیم مواقع فراہم کر رہی ہے تو دوسری جانب گورننس کے نئے چیلنجز بھی سامنے لا رہی ہے۔

بیجنگ۔17جولائی (اے پی پی):چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ دنیا مصنوعی ذہانت (AI) کی ٹیکنالوجیز میں غیر معمولی جدت کے دور میں داخل ہو چکی ہے، جو ایک جانب عظیم مواقع فراہم کر رہی ہے تو دوسری جانب گورننس کے نئے چیلنجز بھی سامنے لا رہی ہے۔

شنہوا کے مطابق یہ بات انہوں نے 2026 ورلڈ اے آئی کانفرنس اور گلوبل آئی آئی گورننس کے اعلی سطحی اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ چینی صدر نے کہا کہ انسانیت کو اس دور کے اہم سوالات کے جوابات تلاش کرنا ہوں گے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ انسان سوچنے کی صلاحیت رکھنے والی مشینوں کے ساتھ کس طرح ہم آہنگی سے رہ سکتا ہے، الگورتھمز کے ذریعے فیصلوں کے دوران سلامتی کو کیسے یقینی بنایا جا سکتا ہے، نئی ٹیکنالوجیز سے جنم لینے والے اخلاقی چیلنجز سے موثر حکمرانی کے ذریعے کیسے نمٹا جا سکتا ہے اور بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل فرق کے باوجود مصنوعی ذہانت کے فوائد سب تک کیسے پہنچائے جا سکتے ہیں۔ چینی صدر نے کہا کہ یہ ایسے بنیادی سوالات ہیں جن پر پوری عالمی برادری کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا اور مشترکہ طور پر ان کے مو ثر حل تلاش کرنا ہوں گے۔