نامور مورخ، افسانہ نگار اور تحریک پاکستان کے کارکن ڈاکٹرعاشق حسین بٹالوی کی برسی 17 جولائی کو منائی گئی۔
نامور مورخ، افسانہ نگار ،تحریک پاکستان کے کارکن ڈاکٹرعاشق حسین بٹالوی کی برسی جمعہ کو منائی گئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔17جولائی (اے پی پی):نامور مورخ، افسانہ نگار اور تحریک پاکستان کے کارکن ڈاکٹرعاشق حسین بٹالوی کی برسی 17 جولائی کو منائی گئی۔
ڈاکٹرعاشق حسین بٹالوی 1903 میں بٹالہ ضلع گرداسپور میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے لندن یونیورسٹی کے سکول آف اورینٹل اینڈ افریقن سٹڈیز سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی تصانیف میں ہماری قومی جدوجہد، اقبال کے آخری دو سال، چند یادیں چند تاثرات،تاریخ اور افسانہ، راہ گذر اور شاخسار کے نام شامل ہیں۔عاشق حسین بٹالوی نامور مؤرخ، افسانہ نگار اور تحریکِ پاکستان کے کارکن تھے ۔ انہوں نے کئی کتب تحریر کیں جن میں اقبالیات پر ان کی تصنیف ’اقبال کے آخری دو سال‘ مقبولِ عام ہے۔عاشق حسین بٹالوی کو چراغ حسن حسرت نے یہ کتاب تحریر کرنے کی ترغیب دی کیونکہ اقبالیات کے بہت سے موضوعات پر کام ہو چکا تھا اور یہ زمانہ ایسا تھا جب علامہ اقبال آل انڈیا مسلم لیگ پنجاب کے صدر تھے اور خود عاشق حسین بٹالوی بھی مسلم لیگ کا حصہ تھے۔ ان کو 1967 میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ ڈاکٹر عاشق حسین بٹالوی 17 جولائی 1989 کو لندن میں وفات پاگئے اور ماڈل ٹاؤن لاہور کے قبرستان میں سپردِ خاک کئے گئے ۔ ڈاکٹرعاشق حسین بٹالوی کی برسی کے موقع پر علمی و ادبی حلقوں کے زیر اہتمام منعقدہ مختلف تقریبات میں ان کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا گیا۔







