سیالکوٹ ،محکمہ زراعت کی دھان کے کاشتکاروں کو کھادکے بروقت و متناسب استعمال کی ہدایت

محکمہ زراعت نے دھان کے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بہتر پیداوار اور اعلیٰ معیار کے چاول کے حصول کیلئے کھادوں کا بروقت اور متناسب استعمال یقینی بنائیں۔

سیالکوٹ۔17جولائی (اے پی پی):محکمہ زراعت نے دھان کے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بہتر پیداوار اور اعلیٰ معیار کے چاول کے حصول کیلئے کھادوں کا بروقت اور متناسب استعمال یقینی بنائیں۔

ترجمان محکمہ زراعت سیالکوٹ نے اے پی پی کو بتایا کہ چاول کی باسمتی اقسام، جن میں سپر باسمتی، پی ایس-2، باسمتی 515، باسمتی 385، باسمتی 198، باسمتی 2000 اور شاہین باسمتی شامل ہیں، کے لیے فی ایکڑ 55 کلوگرام نائٹروجن، 32 کلوگرام فاسفورس اور 25 کلوگرام پوٹاش کی سفارش کی گئی ہے۔ یہ مقدار تقریباً پونے دو بوری یوریا، ڈیڑھ بوری ڈی اے پی اور ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ سے پوری کی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ فاسفورس اور پوٹاش کھادوں کی مکمل مقدار زمین کی تیاری کے وقت استعمال کی جائے، جبکہ نائٹروجنی کھاد پنیری کی منتقلی کے بعد دو سے تین اقساط میں ڈالنی چاہیے۔ فاسفورس پودوں کی جڑوں اور تنے کو مضبوط بنانے کے ساتھ دانے کے وزن اور سائز میں اضافہ کرتی ہے، جبکہ پوٹاش دانے کے معیار کو بہتر بناتی ہے اور چاول کی تیاری کے دوران دانے کو ٹوٹنے سے بچاتی ہے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ دھان کی فصل کو زنک اور بوران کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مقصد کیلئے پنیری کی منتقلی کے بعد 10 دن کے اندر زنک سلفیٹ (35 فیصد) 5 کلوگرام یا زنک سلفیٹ (20 فیصد) 10 کلوگرام فی ایکڑ استعمال کیا جائے، جبکہ بوران کی کمی دور کرنے کیلئے زمین کی تیاری کے وقت 3 کلوگرام بوریکس فی ایکڑ ڈالنے کی سفارش کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ جپسم کا استعمال بھی دھان کی بہتر پیداوار کیلئے انتہائی مفید ہے کیونکہ یہ زمین کی طبعی حالت کو بہتر بنانے، سلفر کی فراہمی اور کھاد کی افادیت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جپسم پاؤڈر باریک ہونا چاہیے تاکہ وہ جلد حل ہو سکے، جبکہ سبز کھاد اور گوبر کی کھاد کے ساتھ اس کا استعمال اس کی افادیت میں مزید اضافہ کرتا ہے۔