اسلام آباد ۔4دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں قرار دیاہے کہ امپورٹ پالیسی کی خلاف ورزی پر گاڑیوں کی رہائی ممکن نہیں ،ایسی گاڑیاں ضبط رہیں گی۔یہ ریمارکس سپریم کورٹ نے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ جاری تحریری و تفصیلی فیصلے میں دیئے ۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 کی خلاف ورزی میں درآمد کی گئی گاڑیوں کے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے …
امپورٹ پالیسی کی خلاف ورزی پر گاڑیوں کی رہائی ممکن نہیں ،ایسی گاڑیاں ضبط رہیں گی،سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔4دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں قرار دیاہے کہ امپورٹ پالیسی کی خلاف ورزی پر گاڑیوں کی رہائی ممکن نہیں ،ایسی گاڑیاں ضبط رہیں گی۔یہ ریمارکس سپریم کورٹ نے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ جاری تحریری و تفصیلی فیصلے میں دیئے ۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 کی خلاف ورزی میں درآمد کی گئی گاڑیوں کے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ امپورٹ پالیسی میں دی گئی عمر کی حد سے زائد گاڑیوں کی درآمد غیر قانونی ہے اور ایسی گاڑیوں کو صرف جرمانہ ادا کر کے ریلیز نہیں کرایا جا سکتا۔
عدالت نے درجنوں یکساں نوعیت کی اپیلوں کو ایک ساتھ نمٹاتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ اور ٹریبونل کے فیصلوں سے اختلاف کیا۔جسٹس محمد شفیع صدیقی نے تین رکنی بینچ کی جانب سے فیصلہ تحریر کیا جبکہ بینچ میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب بھی شامل تھے۔واضح رہے کہ درآمد کنندگان نے ذاتی سامان، گفٹ اسکیم اور ٹرانسفر آف ریذیڈنس کے تحت گاڑیاں منگوائیں تاہم کسٹمز حکام کے مطابق یہ گاڑیاں امپورٹ پالیسی آرڈر کی مقررہ عمر( تین یا پانچ سال) سے زائد تھیں۔ کلکٹریٹ آف کسٹمز نے گاڑیوں کو ضبط کرتے ہوئے درآمد کنندگان اور کلیئرنگ ایجنٹس پر جرمانہ عائد کیا۔بعدازاں ٹریبونل اور لاہور ہائی کورٹ نے گاڑیوں کی رہائی 35 فیصد ریڈمپشن فائن اور واجب الادا ڈیوٹیز کی ادائیگی کے بدلے مشروط اجازت دے دی تھی۔
سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ اور ٹریبونل کا مؤقف مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عمر کی حد سے زائد گاڑیاں Appendix-E کے تحت درآمد ہی نہیں کی جاسکتیں۔ایسے معاملات میں ریڈمپشن فائن کے ذریعے گاڑی چھڑوانے کا کوئی قانونی اختیار نہیں دیا جا سکتا۔SRO 499(2009) واضح طور پر ان اشیا کی رہائی کا اختیار نہیں دیتا جو امپورٹ پالیسی کی ’’پروسیجرل ریکوائرمنٹس‘‘ پوری نہیں کرتیں۔اس لیے اگر گاڑی کا ماڈل سال مقررہ حد سے زیادہ ہو تو وہ "غیر امپورٹیبل” ہے اور ضبطی برقرار رہے گی۔عدالت نے کہا کہ "صرف اس بنیاد پر کہ یہ گاڑی سیکنڈ ہینڈ ہے، اسے امپورٹ کے لیے قابلِ قبول قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اصل شرط گاڑی کی مقررہ عمر ہےجو پوری نہیں کی گئی۔درآمد کنندگان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اپنایا کہ گزشتہ عدالتی فیصلوں میں اسی طرح کی گاڑیوں کی رہائی کی اجازت مل چکی ہےتاہم سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ تمام فیصلے صرف leave refusing orders تھے اور ان میں قانونی نکات پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا تھالہٰذا وہ نظیر نہیں بنتے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پالیسی کی خلاف ورزی = گاڑی کی امپورٹ ممنوع = ریڈمپشن فائن کا اختیار نہیں۔تمام قانونی نکات کا سامنے رکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے تمام اپیلیں خارج کرتے ہوئے گاڑیوں کی ضبطگی برقرار رکھی اور قرار دیا کہ عمر کی حد سے زائد گاڑیوں کی درآمد غیر قانونی ہے اور ایسی گاڑیوں کو کسی صورت ریڈمپشن فائن دے کر ریلیز نہیں کرایا جا سکتا۔








