اقوام متحدہ ۔3اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے بین الاقوامی پانیوں میں انسانی امداد لے جانے والے شہری جہازوں کو روکنا غزہ کی پٹی پر غیر قانونی محاصرے کی توسیع کے مترادف ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر کے ترجمان نے ثمین الخیطان نےجاری بیان میں کہا کہ قابض طاقت ہونے کے ناطے، اسرائیل پر لازم ہے کہ وہ اپنی تمام دستیاب صلاحیتوں …
انسانی امدادی قافلے کو روکنا غزہ پر غیر قانونی محاصرے کی توسیع ہے، اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔3اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے بین الاقوامی پانیوں میں انسانی امداد لے جانے والے شہری جہازوں کو روکنا غزہ کی پٹی پر غیر قانونی محاصرے کی توسیع کے مترادف ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر کے ترجمان نے ثمین الخیطان نےجاری بیان میں کہا کہ قابض طاقت ہونے کے ناطے، اسرائیل پر لازم ہے کہ وہ اپنی تمام دستیاب صلاحیتوں کے مطابق غزہ کی آبادی کے لیے خوراک اور طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو غیر جانب دارانہ انسانی امدادی منصوبوں کی فوری اور بلا رکاوٹ فراہمی میں تعاون کرنا چاہیے۔
ترجمان نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل انسانی امدادی قافلے کے گرفتار کارکنان ، جن میں پاکستانی کارکنان بھی شامل ہیں ، کے حقوق کا احترام کرے، اور انہیں اپنی گرفتاری کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے کا مکمل موقع دیا جائے۔یاد رہے کہ "گلوبل سموڈ فلوٹیلا” نامی قافلہ گزشتہ ماہ اسپین سے روانہ ہوا تھا جس کا مقصد اسرائیل کے غزہ پر عائد محاصرے کو توڑنا اور محصور فلسطینی عوام تک امداد پہنچانا تھا۔ قافلے میں معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، دیگر بین الاقوامی شخصیات، اور پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی شامل تھے، جو پانچ رکنی پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے تھے۔
اسرائیلی افواج نے قافلے کو بین الاقوامی پانیوں میں غزہ کے ساحل کے قریب روک کر جہازوں پر سوار کارکنان کو گرفتار کر لیا۔ اس کارروائی پر دنیا بھر میں شدید ردِ عمل سامنے آیا اور کئی ممالک میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے، کیونکہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی تصور کیا جا رہا ہے۔قافلے میں تقریباً 45 کشتیاں شامل تھیں، جن پر 400 سے زائد کارکنان اور امدادی سامان موجود تھا۔
قافلے کے منتظمین کے مطابق، اسرائیلی بحریہ نے کئی کشتیوں کا مواصلاتی نظام منقطع کر دیا جبکہ ویڈیوز اور لائیو اسٹریمز میں دیکھا گیا کہ مسلح اسرائیلی فوجی کشتیوں پر سوار ہو رہے ہیں اور مسافر ہاتھ اٹھا کر ہتھیار ڈال رہے ہیں۔








