اقوام متحدہ ۔16اگست (اے پی پی):افغانستان میں اقوام متحدہ کے عہدیدار رمیز الاکبروف نے کہا ہے کہ موسم سرما قریب آنے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد میں کمی کے باعث لاکھوں افغان شہری بھوک کے دہانے پر ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ افغان شہریوں کو تباہ کن صورتحال کا سامنا ہےتو غلط نہیں ہو گا۔ افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے نائب خصوصی نمائندہ اور انسانی …
انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد میں کمی کے باعث لاکھوں افغان شہری بھوک کے دہانے پر ہیں ،نمائندہ خصوصی اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔16اگست (اے پی پی):افغانستان میں اقوام متحدہ کے عہدیدار رمیز الاکبروف نے کہا ہے کہ موسم سرما قریب آنے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد میں کمی کے باعث لاکھوں افغان شہری بھوک کے دہانے پر ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ افغان شہریوں کو تباہ کن صورتحال کا سامنا ہےتو غلط نہیں ہو گا۔
افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے نائب خصوصی نمائندہ اور انسانی رابطہ کار رمیز الاکبروف نے گزشتہ روز دارالحکومت کابل سے بذریعہ وڈیو لنک نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ گزشتہ سال طالبان کے اقتدار کے دوران اقوام متحدہ اور شراکت داروں نے تقریباً 2کروڑ 30لاکھ افغان شہریوں کی زندگیوں کو بچانے کے لیے ممکنہ طور پر سب سے بڑا امدادی آپریشن کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت 2کروڑ 50لاکھ افغان شہری غربت کا شکار ہیں اور خوراک کے عالمی بحران اور افغانستان کے خراب معاشی گراوٹ کے باعث خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کابل میں ہسپتال کے حالیہ دورے کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے ہسپتالوں میں غذائیت کی کمی کا شکار بچے دیکھے جس سے ان کا دل غمگین ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے سخت سردیوں میں ان بچوں کی زندگیوں کی بقا مشکل ہوجائے گی کیونکہ انتہائی سرد موسم میں خاص طور پر دور دراز کے علاقوں میں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہوتا ہے ۔
افغانستان کے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ رمیز الاکبروف نے کہا کہ انسانی ضروریات میں اضافہ جاری رہے گا لیکن صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر صرف امداد کافی نہیں ہے اس سلسلے میں موسمیاتی تبدیلی ، غربت کے خاتمے اور ترقی خاص طور پر زرعی شعبے کی ترقی کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے ۔
انہوں نے کہا کہ فعال منڈیوں ،آپریٹنگ بینکنگ سیکٹر ، ملازمتوں میں سرمایہ کاری کے بغیر ہم افغانستان میں لوگوں کی بقا کو عملی جامہ پہنانے کےقابل نہیں ہوں گے۔








