اسلام آباد۔26دسمبر (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیٰ آفریدی نے خیبر پختونخوا کے دور دراز اور پسماندہ اضلاع میں بنیادی عدالتی سہولیات کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انصاف تک مساوی اور بروقت رسائی آئینی ذمہ داری ہے، جس کیلئے جدید، عوام دوست اور بالخصوص خواتین کیلئے موزوں عدالتی انفراسٹرکچر کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔ سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے …
انصاف تک مساوی اور بروقت رسائی آئینی ذمہ داری ہے،چیف جسٹس یحیٰ آفریدی

مزید خبریں
اسلام آباد۔26دسمبر (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیٰ آفریدی نے خیبر پختونخوا کے دور دراز اور پسماندہ اضلاع میں بنیادی عدالتی سہولیات کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انصاف تک مساوی اور بروقت رسائی آئینی ذمہ داری ہے، جس کیلئے جدید، عوام دوست اور بالخصوص خواتین کیلئے موزوں عدالتی انفراسٹرکچر کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔
سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو پشاور میں لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے تحت منعقدہ اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کر تے ہوئے کیا۔اجلاس میں چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقی، سیکریٹری قانون حکومتِ خیبر پختونخوا اور سیکریٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان نے شرکت کی۔چیف جسٹس پاکستان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دور افتادہ علاقوں میں عدالتی ڈھانچے کی کمزوری شہریوں کے بنیادی حقوق کے حصول میں رکاوٹ ہے، اس لئے علاقائی عدم توازن کے خاتمے کیلئے ہدفی اور دیرپا اقدامات ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ بننے والے عدالتی کمپلیکسز میں جدید عوامی سہولت مراکز، صنفی حساس ماحول اور خواتین دوست سہولیات کو ترجیح دی جائے گی۔اجلاس کو لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے زیرانتظام ایکسس ٹو جسٹس ڈویلپمنٹ فنڈ (AJDF) کے تحت جاری منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ عدالتی کمپلیکسز میں قائم بار رومز کو بھی ان سہولیات کا حصہ بنایا گیا ہے جن میں سولرائزیشن، ای لائبریریز، صاف پانی کی فراہمی، اور خواتین کیلئے مخصوص سہولیات شامل ہیں، جن کی نشاندہی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد کی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں ان منصوبوں کی مجموعی لاگت 68 کروڑ 80 لاکھ روپے ہے،
جس میں سے 39 کروڑ روپے لا اینڈ جسٹس کمیشن نے AJDF اور گرانٹ اِن ایڈ کے تحت فراہم کیے ہیں، جبکہ باقی رقم صوبائی حکومت ادا کرے گی۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے خواتین سے متعلق سہولیات اپنے وسائل سے مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی جبکہ چیف سیکریٹری نے دیگر سہولیات کیلئے فنڈز فراہم کرنے کا اعلان کیا۔اجلاس میں “سکھ دا ویہڑا” کے نام سے خاندان اور خواتین کیلئے ون ونڈو سہولت مرکز کے قیام پر بھی غور کیا گیا، جسے عدالتی کمپلیکسز کے اندر یا قریب قائم کیا جائے گا۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے پشاور اور سوات میں قائم فیملی کورٹ بلاکس کا حوالہ دیتے ہوئے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں “دا سر سوری” کے نام سے اسی نوعیت کے مراکز قائم کرنے کی تجویز دی
، جسے چیف جسٹس پاکستان نے دو ڈویژنز میں بطور پائلٹ شروع کرنے کی منظوری دی۔اجلاس کے دوران حساس علاقوں میں ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن افسران کیلئے ویڈیو لنک سہولیات کی فراہمی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور ہدایت کی گئی کہ جہاں فوری ضرورت ہو وہاں یہ سہولیات یقینی بنائی جائیں۔اجلاس کے اختتام پر عدلیہ اور صوبائی حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عدالتی انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا، عوامی سہولیات میں اضافہ کیا جائے گا اور آئینی تقاضوں کے مطابق خیبر پختونخوا کے ہر شہری کو انصاف تک یکساں رسائی فراہم کی جائے گی۔








