انصاف کا عالمی دن : مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے انصاف، آزادی اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں، کل جماعتی حریت کانفرنس

کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر و پاکستان کے کنوینیر غلام محمد صفی،جنرل سیکرٹری ایڈوکیٹ پرویز احمد اور سیکرٹری اطلاعات امتیاز وانی نے عالمی یوم انصاف کے موقع پر اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ جب دنیا بھر میں انصاف کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

اسلام آباد۔17جولائی (اے پی پی):کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر و پاکستان کے کنوینیر غلام محمد صفی،جنرل سیکرٹری ایڈوکیٹ پرویز احمد اور سیکرٹری اطلاعات امتیاز وانی نے عالمی یوم انصاف کے موقع پر اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ جب دنیا بھر میں انصاف کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے انصاف، آزادی اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام صرف اپنے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تسلیم شدہ حق خودارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن بھارت اس جائز اور منصفانہ مطالبے کو دبانے کے لیے ریاستی جبر، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور کالے قوانین کا سہارا لے رہا ہے۔

رہنمائوں نے کہا کہ بھارتی فوج، پیراملٹری فورسز اور پولیس کو آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ (اے ایف ایس پی اے) جیسے کالے قوانین کے ذریعے حاصل استثنیٰ نے مقبوضہ کشمیر میں قتل عام، جعلی مقابلوں، دوران حراست شہادتوں، جبری گرفتاریوں، گھروں پر چھاپوں، املاک کی ضبطی، سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں اور آزادی اظہار پر قدغن کو معمول بنا دیا ہے۔ این آئی اے اور دیگر تحقیقاتی اداروں کے ذریعے حریت قیادت، انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں اور عام شہریوں کو مسلسل انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گائو کدل، چوٹہ بازار، زکورہ، ٹینگ پورہ، خانیار، چھٹی سنگھ پورہ، کپواڑہ، ہندواڑہ، سوپور، بجبہاڑہ، کشتواڑ، ڈوڈہ اور شوپیاں کے قتل عام، کنن پوش پورہ کی اجتماعی عصمت دری، شوپیان کے عصمت دری و دوہرے قتل کے واقعات اور کٹھوعہ میں کمسن بچی کے بہیمانہ قتل سمیت بے شمار سنگین جرائم کے متاثرین آج تک انصاف کے منتظر ہیں جبکہ ان جرائم میں ملوث کسی بھی بھارتی فوجی یا اہلکار کو سزا نہیں دی گئی۔بیان میں کہا گیا کہ بھارتی عدلیہ بھی کشمیری عوام کے ساتھ انصاف کرنے میں ناکام رہی ہے۔

انصاف کے بنیادی تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے شہید محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کو پھانسی دی گئی جبکہ شیخ عبدالعزیز اور محمد اشرف صحرائی سمیت متعدد کشمیری رہنمائوں کو صرف حق اور آزادی کی آواز بلند کرنے کی پاداش میں جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔حریت رہنمائوں نے کہا کہ آج بھی حریت قیادت، انسانی حقوق کے کارکن، صحافی اور ہزاروں بے گناہ کشمیری بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی مختلف جیلوں میں غیر قانونی طور پر قید ہیں اور انہیں انصاف فراہم نہیں کیا جا رہا۔

انہوں نے اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، او آئی سی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں، ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں اور کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا ناقابل تنسیخ حق خودارادیت دلانے کے لیے موثر کردار ادا کریں۔

مزید خبریں