وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کی پاکستان میں سویڈن کی سفیر الیگزینڈرا برگ وان لنڈے سے ملاقات

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے پاکستان میں سویڈن کی سفیر الیگزینڈرا برگ وان لنڈے سے اعلیٰ سطحی ملاقات کی جس میں زراعت، غذائی تحفظ، لائیو سٹاک، تحقیق، جدت، اختراع اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسلام آباد۔17جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے پاکستان میں سویڈن کی سفیر الیگزینڈرا برگ وان لنڈے سے اعلیٰ سطحی ملاقات کی جس میں زراعت، غذائی تحفظ، لائیو سٹاک، تحقیق، جدت، اختراع اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق فریقین نے پاکستان اور سویڈن کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو زرعی شعبے میں مضبوط اور عملی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

وفاقی وزیر نے سویڈن کی سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سویڈن کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کو بے حد اہمیت دیتا ہے اور زراعت و متعلقہ شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے بہترین سیاسی تعلقات کے باوجود زرعی شعبے میں تعاون اپنی حقیقی استعداد کے مطابق فروغ نہیں پا سکا جبکہ اس میدان میں وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مضبوط ادارہ جاتی روابط اور مستقل رابطوں کے ذریعے باہمی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔رانا تنویر حسین نے پائیدار زراعت، زرعی جدت، غذائی تحفظ، لائیو سٹاک کی ترقی اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زرعی نظام کے فروغ میں سویڈن کی عالمی قیادت کو سراہا۔

انہوں نے سویڈش انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کوآپریشن ایجنسی (SIDA) کی جانب سے عالمی سطح پر استعداد کار بڑھانے کے اقدامات کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سویڈن کے تجربات، تربیتی پروگراموں اور مہارت سے بھرپور استفادہ کرنا چاہتا ہے۔ملاقات میں دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے تحقیق، تکنیکی وفود کے تبادلے، تعلیمی روابط اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) اور سویڈن کے متعلقہ تحقیقی اداروں کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینے کی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور بہترین تجربات کے تبادلے کے ذریعے پاکستان کے زرعی شعبے کی جدید خطوط پر ترقی میں مدد ملے گی۔

فریقین نے غذائی تحفظ اور فوڈ سیفٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔ اس موقع پر خوراک کے معیار کو بہتر بنانے، محفوظ فوڈ پروسیسنگ، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ، بعد از برداشت نقصانات میں کمی اور ویلیو ایڈیشن کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے ان شعبوں میں سویڈن کے تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان کی زرعی برآمدات کے فروغ اور غذائی تحفظ کو مزید تقویت ملے گی۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت پاکستان جدید ٹیکنالوجی، جدت، پائیدار ترقی اور نجی شعبے کی شراکت کے ذریعے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے پرعزم ہے۔

انہوں نے سویڈش کمپنیوں کو زراعت، فوڈ پروسیسنگ، ڈیری، بعد از برداشت انتظام، ویلیو ایڈیشن اور دیگر متعلقہ شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اس سے اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع اور زرعی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ملاقات میں لائیو اسٹاک کے شعبے میں تعاون بھی اہم موضوع رہا۔ اس موقع پر جانوروں کی صحت، ڈیری سیکٹر، فوڈ سیفٹی اور پائیدار لائیو سٹاک کی ترقی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ مشترکہ کوششوں سے پیداوار، دیہی معیشت اور قومی غذائی تحفظ کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ملاقات کے دوران اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس (اے ایم آر ) کے مسئلے پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔

سویڈن کی سفیر نے وفاقی وزیر کو پاکستان کی قومی سطح پر کی جانے والی کوششوں کے اعتراف میں گلوبل لیڈرز گروپ آن اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس کی رکنیت حاصل کرنے کی باضابطہ ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے مشرقی بحیرۂ روم کے خطے کی عالمی سطح پر مؤثر نمائندگی بھی ممکن ہوگی۔وفاقی وزیر نے اس تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نامزدگی کے عمل کو آگے بڑھائے گا اور اس عالمی پلیٹ فارم پر فعال کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق، وزارتِ قومی صحت اور وزارتِ موسمیاتی تبدیلی اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس سے نمٹنے کے لئے مشترکہ قومی حکمت عملی کے تحت باہمی تعاون سے کام کر رہی ہیں۔

فریقین نے ون ہیلتھ کے تصور کی اہمیت پر بھی اتفاق کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس انسانی صحت، حیوانی صحت اور ماحولیات تینوں کے لیے ایک مشترکہ چیلنج ہے۔ اس موقع پر اینٹی بائیوٹکس کے ذمہ دارانہ استعمال، عوامی آگاہی اور مؤثر ریگولیٹری نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا۔سویڈن کی سفیر نے پاکستان میں کام کرنے والی سوئیڈش کمپنیوں، خصوصاً فوڈ پروسیسنگ، محفوظ ڈیری پیکیجنگ اور پائیدار ٹیکسٹائل کے شعبوں میں ان کے مثبت کردار کو اجاگر کیا۔

ملاقات کے دوران اتفاق کیا گیا کہ ان کمپنیوں کا تجربہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور زرعی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لئے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک نے مسلسل رابطوں، مضبوط ادارہ جاتی تعاون، سرمایہ کاری، تحقیق اور مہارت کے تبادلے کے ذریعے پاکستان اور سوئیڈن کے درمیان زرعی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ دونوں فریقوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ تعاون زرعی جدیدکاری، غذائی تحفظ، جدت، پائیدار ترقی اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

 

مزید خبریں