انٹر پارلیمانی سپیکرز کانفرنس (آئی ایس سی) کی سفیر مصباح کھر نے کمبوڈیا کے دارالحکومت نوم پنھ میں سینیٹ آف کمبوڈیا کی قیادت سے اہم مشاورتی ملاقاتیں کیں جن میں 26 سے 28 اگست 2026 کو منعقد ہونے والی دوسری انٹر پارلیمانی سپیکرز کانفرنس کی تیاریوں اور آئندہ لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
انٹر پارلیمانی سپیکرز کانفرنس کی سفیر مصباح کھر کی سینیٹ آف کمبوڈیا کی قیادت سے اہم مشاورتی ملاقاتیں

مزید خبریں
اسلام آباد۔29جون (اے پی پی):انٹر پارلیمانی سپیکرز کانفرنس (آئی ایس سی) کی سفیر مصباح کھر نے کمبوڈیا کے دارالحکومت نوم پنھ میں سینیٹ آف کمبوڈیا کی قیادت سے اہم مشاورتی ملاقاتیں کیں جن میں 26 سے 28 اگست 2026 کو منعقد ہونے والی دوسری انٹر پارلیمانی سپیکرز کانفرنس کی تیاریوں اور آئندہ لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پیر کو جاری اعلامیہ کے مطابق اسلام آباد میں منعقدہ پہلی آئی ایس سی کی کامیابی کے بعد دوسری کانفرنس کی میزبانی حکومتِ کمبوڈیا کرے گی جبکہ اسلام آباد کانفرنس کو تنظیمی اور فکری اعتبار سے نمونہ قرار دیا گیا ہے۔مصباح کھر نے ملاقات کے دوران کہا کہ موجودہ باہم مربوط دنیا میں امن کا فروغ پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے حالیہ امریکہ-ایران کشیدگی کے دوران پاکستان کے تناؤ میں کمی لانے کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی سفارتکاری عالمی بحرانوں میں مکالمے کے مؤثر ذریعہ کے طور پر اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
انہوں نے موجودہ عالمی اقتصادی چیلنجز کے تناظر میں امن و استحکام کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایس سی جیسے فورمز اقوام کے درمیان باہمی اعتماد، مفاہمت اور مشترکہ اقدامات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اعلامیہ کے مطابق مشاورت کے دوران آئندہ کانفرنس کے روڈ میپ اور آئی ایس سی کے مستقبل کی سمت پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ مصباح کھر اور کمبوڈیا کی سینیٹ کی قیادت نے اسلام آباد کانفرنس کی کامیابی کو بنیاد بناتے ہوئے کمبوڈیا کانفرنس کو مزید مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لئے تیاریوں کی ترجیحات پر اتفاق کیا۔
کمبوڈیا کی سینیٹ نے ملاقات کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے آئی ایس سی سیکرٹریٹ کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے اور دوسری کانفرنس کی کامیاب میزبانی کے عزم کا اعادہ کیا۔اجلاس میں کمبوڈیا کی سینیٹ اور قومی اسمبلی کے سینئر ارکان، آئی ایس سی کے وفد، یو پی ایف ایشیا پیسفک کے نمائندوں اور پاکستان، نیپال، جمہوریہ کوریا، جاپان سمیت مختلف شراکت دار تنظیموں کے مندوبین نے شرکت کی۔








