جدہ ۔ 4 ستمبر (اے پی پی) اسلامی تعاون تنظیم کے انسانی حقوق کمیشن نے بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے مسلسل نفاذ اور مواصلاتی ذرائع کی معطلی کی شدید مذمت کی ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق او آئی سی کے کمیشن نے جدہ میں جاری کردہ پریس ریلیز میں بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی آزادانہ تحقیقات …
اوآئی سی کی مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو اور مواصلاتی ذرائع کی معطلی کی مذمت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا معاملہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے ، برطانیہ

مزید خبریں
جدہ ۔ 4 ستمبر (اے پی پی) اسلامی تعاون تنظیم کے انسانی حقوق کمیشن نے بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے مسلسل نفاذ اور مواصلاتی ذرائع کی معطلی کی شدید مذمت کی ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق او آئی سی کے کمیشن نے جدہ میں جاری کردہ پریس ریلیز میں بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی آزادانہ تحقیقات کے لےے اقوام متحدہ اور او آئی سی کی تحقیقاتی ٹیموں کو وادی کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت دے۔ دریں اثناءبرطانیہ نے کہاہے کہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد علاقے میں انسانی حقوق کی ہر قسم کی پامالیوں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ برطانوی وزیر خارجہ راب ڈومینک نے دارالعوام میں ارکان پارلیمنٹ کو بتایا کہ انہو ںنے بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے اس معاملے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ نے کہاکہ انسانی حقوق کا معاملہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اور برطانیہ کو امید ہے کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ انسانی حقوق کا احترام کیا جائے گا۔ بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں غیرقانونی اقدام کرنے پر بین الاقوامی سطح پر مسلسل شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اسے تازہ ترین دھچکا اس وقت لگا جب چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین صورتحال کے پیش نظر بھارت کا طے شدہ دورہ ملتوی کردیا۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق چینی وزیر خارجہ کا دورہ ملتوی کرنے سے رواں سال اکتوبر میں چین کے صدر شی جن پنگ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان طے شدہ ملاقات بھی کھٹائی میں پڑگئی ہے۔








