اولیاءاللہ کے آستانے فیوض و برکات کے سرچشمے، ہمیشہ آباد رہیں گے: مخدوم شاہ محمودقریشی

ملتان ۔14جنوری(اے پی پی)برصغیر پاک و ہند کے عظیم روحانی پیشوا حضرت شاہ رکن الدین عالمؒ کے705ویں سہ روزہ عرس مبارک کی تین روزہ تقریبات ملتان میں اختتام پذیر ہوگئیں۔ ختم شریف اور اجتماعی دعا میںسندھ ، بلوچستان، خیبرپختونخوا، پنجاب ، کشمیراور اور ملک کے دیگر دور دراز علاقوں سے ہزراوں زائرین اور عقیدت مندوں نے شرکت کی ۔اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ختم شریف کے …

ملتان ۔14جنوری(اے پی پی)برصغیر پاک و ہند کے عظیم روحانی پیشوا حضرت شاہ رکن الدین عالمؒ کے705ویں سہ روزہ عرس مبارک کی تین روزہ تقریبات ملتان میں اختتام پذیر ہوگئیں۔ ختم شریف اور اجتماعی دعا میںسندھ ، بلوچستان، خیبرپختونخوا، پنجاب ، کشمیراور اور ملک کے دیگر دور دراز علاقوں سے ہزراوں زائرین اور عقیدت مندوں نے شرکت کی ۔اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ختم شریف کے بعد مخدوم شاہ محمود قریشی نے مسلم اُمہ کی بھلائی ،کشمیر، فلسطین اور شام کے مسلمانوں پر مظالم کے خاتمے ، پاکستان کی خوش حالی ، پاکستانی عوام کو روزگار کی فراہمی ، سرحدوں کی حفاظت، ملک میں رواداری اور بین المسالک ہم آہنگی اور وطن عزیز سے انتہاءپسندانہ سوچ کے خاتمے کی خصوصی دعا کروائی۔قبل ازیںمزار ِ مبارک کے احاطے میں منعقدہ’قومی شاہ رکن ِ عالم کانفرنس‘ کے آخری سیشن کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے سجادہ نشین درگاہ ِ عالیہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ اولیاءاللہ کے آستانے روحانی فیض اور برکات کے سرچشمے ہیں اور یہ انشاءاللہ ہمیشہ آباد رہیں گے اورصدیوں سے لاکھوں زائرین کی ہر سال یہاں آمد کا نہ ٹوٹنے والا سلسلہ اِس حقیقت کا واضح ثبوت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بادشاہوں ، شہنشاہوں اور سلطانوں کے نام و نشان اور اُن کی سلطنتوں کے وجود اور آثار مِٹ گئے لیکن اِن اولیاءاللہ کے نام بھی زندہ ہیں اور اِن کے آستانے بھی شاد و آباد ہیں۔ کانفرنس کے اختتامی سیشن میں بھی نقابت کے فرائض ڈاکٹر صدیق خان قادری نے انجام دئیے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر ِ مذہبی اُمور واوقاف سید سعید الحسن نے کہا کہ اولیاءاللہ نے لوگوں کو دین کی حقیقت سے آگاہ کیا۔ ان بزرگوں کے عرس منانا دراصل اِن کی خدمات کو خراج ِ تحسین پیش کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اولیاءاللہ کی خدمات کے سبب آج دنیا کے کونے کونے میں اسلام کی شمع روشن ہے ۔ حضرت شاہ رکن الدین نے سلسلہ سہروردیہ کو دوام بخشا اور اپنی سیرت و کردار سے اِس سلسلہ ¿ تصوف کو نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں روحانی فیوض و برکات کے حصول کے م¶ثر ذریعے کے طور پر متعارف کروایا۔ انہوں نے کہا کہ عالم ِ اسلام کی اِس باوقار ہستی کا ملتان میں آستانہ پوری دنیا میں ملتان کی پہچان اور شناخت کا بھی وسیلہ ہے۔ جماعت ِ اہلسنت کے سربراہ علامہ سید مظہر سعید کاظمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اولیاءاللہ نے لوگوں کو اسلام کا حقیقی چہرہ دکھایا ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اِن پسندیدہ ہستیوں سے دین کی خدمت کا کام بھی لیا اور اِنہیں اپنی مخلوق کی روحانی اور دنیاوی اصلاح کا وسیلہ بھی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اولیاءاللہ کی خدمات کے سبب ہی آج محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دین دنیا کے کونے کونے میں موجود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اولیاءاللہ نے لوگوں کو فلاح کا راستہ دکھایا۔ حضرت شاہ رکن الدین عالم نے اپنی سیرت و کردار سے لوگوں کو دین کی طرف راغب کیا۔ سابق رکن اسلامی نظریاتی کونسل علامہ مفتی غلام مصطفی رضوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت شاہ رکن الدین عالم ایک صوفی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بلند پایہ عالم اور فقیہ بھی تھے اور اُن کی فقہ میں مہارت صرف کتابی علم کی حد تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ اپنی روحانی پاکیزگی اور اپنی بلندی ¿ حال کے سبب مختلف فقہی مسائل کے حل میں اپنے علم الدنی کو بھی بروئے کار لاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت شاہ رکن الدین نوری حضوری کا نام رہتی دنیا تک موجود رہے گا اور اِن کا آستانہ لوگوں کو روحانی فیوض سے سرشار کرتا رہے گا۔علامہ ڈاکٹر محمد ارشد بلوچ نے کہا کہ حضرت بہاءالدین زکریا ؒ کی قائم کردہ جامعہ بہائیہ سے شروع ہونے والے مشن کو حضرت شاہ رکن الدین عالم نے بڑی تن دہی سے آگے بڑھایا۔ انہوں نے لوگوں کو دین اور دنیا دونوں کی تعلیم دی اور انہیں معاشرے کا فعال رکن بنایا ۔ بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ علوم اسلامیہ کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالقدوس صہیب نے اپنے خطاب میں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی رہنمائی کےلئے پیغمبروں کو اِس دنیا میں بھیجا۔ پیغمبروں کی آمد کا سلسلہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم ہوگیا۔ آپؑ کی تعلیمات کو بعد ازاںآپ کے صحابہ کرام ؓ نے آگے لوگوں تک پہنچایا۔ صحابہ کرام ؓ کے بعد اب یہ سلسلہ اولیاءاللہ نے جاری رکھا ہوا ہے اور یہ قیامت تک جاری و ساری رہے گا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر صدیق خان قادری نے کہا کہ اُن کےلئے یہ بات کسی اعزاز سے کم نہیں کہ وہ گذشتہ چار دہائیوں سے بھی زیادہ عرصہ سے حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی اور حضرت شاہ رکن الدین عالم کے سالانہ عرس کی تقریبات کی نقابت کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملتان کی یہ روحانی ہستیاں اہل ِ ملتان کے سر پر اللہ کی رحمت کے سایہ کی مانند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سلسلہ سہروردیہ کے بزرگان نے دین ِ اسلام کےلئے ایسی بے مثال خدمات سرانجام دی ہیںجن کا احاطہ کرنا بھی ممکن نہیں۔قاری مطیع الرحمن سعیدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اولیاءاللہ کی ایک لمحہ کی صحبت سو سال کی بے خلوص عبادت سے بہتر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حضرت شاہ رکن الدین عالم مادرزاد ولی اللہ تھے اور آپ کم عمری میں بڑے روحانی مراتب حاصل کرچکے تھے۔ آخری روز کی تقریب میں بھی سندھ سے آنے والے منقبت خوانوں نے سماں باندھے رکھا۔حاجی نزیر احمد عالمانی، سجاد حسین کلوڑو اورخان محمد چاچڑ اور اُن کے ساتھیوں نے نعت اور منقبت پڑھ کر زائرین کا دل گرمادیا۔ عرس کی آخری روز کی تقریب میں مخدوم زادہ زین حسین قریشی ،سابق صوبائی وزیراحسان الدین قریشی ، سابق ممبر صوبائی اسمبلی محمد جہانزیب خان وارن ، بہاءالدین زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر طار ق محمود انصاری ، یونیورسٹی کے رجسٹرار صہیب راشد، میاں جمیل احمد، جلال الدین رومی ، حافظ بلال احمد اویسی ، مولانا سید فیض الحسن ، وسیم ممتاز ایڈووکیٹ ، قاری مطیع الرحمن سعیدی ،حافظ علی جان قاسمی، حافظ خالد رضا،علامہ قاضی محمد بشیر، مولاناسید فیض الحسن ودیگرکئی سرکردہ شخصیات نے شرکت کی۔