او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر نے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کا انحصار جموں و کشمیر کے تنازعہ کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حتمی تصفیے سے ہے،بھارتی رہنماؤں کی جانب سے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے بارے …
او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کا کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ

مزید خبریں
نیویارک۔23ستمبر (اے پی پی):او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر نے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کا انحصار جموں و کشمیر کے تنازعہ کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حتمی تصفیے سے ہے،بھارتی رہنماؤں کی جانب سے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے بارے میں بلاجواز دعوے اور غیر ذمہ دارانہ بیانات علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں،بھارت اپنے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال بہتر بنائے، کشمیری سیاسی قیدیوں کو رہا کرے، کشمیری سیاسی جماعتوں پر عائد پابندی ختم کرے، تمام پابندیوں پر مبنی اور سخت قوانین منسوخ کرے۔
بدھ کو وزارت خارجہ سے جاری اعلامیہ کے مطابق او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کے رکن ممالک جمہوریہ آذربائیجان، پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور نائجر کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام کا نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر اجلاس ہوا ۔اجلاس کی صدارت او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے کی۔او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ اور او آئی سی کی آزاد مستقل انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ، پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ کی بریفنگ، رابطہ گروپ کے دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام کے خیالات، اور کشمیری عوام کے حقیقی نمائندوں کی جانب سے بھارت کے غیر قانونی زیرتسلط جموں و کشمیر کی تازہ صورتحال پر بریفنگ کے بعد تنازعہ جموں و کشمیر سے متعلق او آئی سی کے سابقہ بیانات اور قراردادوں کی توثیق کرتے ہوئے 25 ستمبر 2019، 22 جون 2020، 23 ستمبر 2021، 22 مارچ 2022، 21 ستمبر 2022، 17 مارچ 2023، 20 ستمبر 2023، 26 ستمبر 2024، 22 جون 2025 اور 23 ستمبر 2025 کو منعقدہ او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کے اجلاسوں میں جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیوں کے مندرجات کا اعادہ کرتے ہوئے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام نےاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور او آئی سی کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے ناقابل تنسیخ حق کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا،
پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور مئی 2025 میں جنوبی ایشیائی خطے میں فوجی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جس میں پاکستان اور آزاد کشمیر کے متعدد مقامات پر کیے گئے غیر قانونی اور بلاجواز حملے کئے گئے، اور زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو خطے کو عدم استحکام سے دوچار کریں۔اجلاس نے دونوں فریقوں کے درمیان فوجی کشیدگی کے بعد جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور تمام ممالک کی جانب سے ثالثی اور دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے اور اس معاہدے تک پہنچنے کے لیے کی جانے والی تعمیری کوششوں کو سراہا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کا انحصار جموں و کشمیر کے تنازعہ کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حتمی تصفیے پر ہے۔
اجلاس میں اس امر پر زور دیا کہ بعض بھارتی رہنماؤں کی جانب سے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے بارے میں بلاجواز دعوے اور غیر ذمہ دارانہ بیانات علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں۔پہلگام حملے کے ردعمل میں بھارتی حکام کی جانب سے بھارت کے غیر قانونی زیرتسلط جموں و کشمیر میں شروع کیے گئے کریک ڈاؤن پر تشویش کا اظہار کیا گیا جس میں تقریباً 2,800 افراد کی گرفتاری اور تقریباً تین درجن مکانات کی مسماری شامل ہے۔ اجلاس میں بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں ڈومیسائل سرٹیفکیٹس کے مسلسل اجرا کی مذمت کی گئی اور نشاندہی کی کہ 2019 سے اب تک 3.4 ملین سے زائد ایسے سرٹیفکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔ممتاز کشمیری رہنماؤں یاسین ملک، آسیہ اندرابی اور شبیر احمد شاہ کی مسلسل حراست اور ضمانت سے انکار پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور ہزاروں کشمیری سیاسی کارکنوں، اختلافِ رائے رکھنے والوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی طویل حراست، متعدد کشمیری سیاسی جماعتوں پر پابندی اور کشمیری کارکنوں کی جائیدادیں ضبط کرنے کی جاری مہم کی مذمت کی گئی ۔
سری نگر کی تاریخی جامع مسجد اور عیدگاہ میں عید الاضحیٰ اور عیدالفطر جیسے اہم مذہبی مواقع پر مذہبی اجتماعات پر عائد پابندیوں کی بھی مذمت کی گئی ۔ اجلاس میں 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے کیے گئے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے ساتھ ساتھ اس کے بعد کیے گئے ان اقدامات کو بھی مسترد کرنے کا اعادہ کیا گیا جن کا مقصد بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو کمزور کرنا اور اس کے آبادیاتی ڈھانچے اور سیاسی منظرنامے کو تبدیل کرنا ہے۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بھارتی آئین کے تحت بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں ہونے والی کوئی بھی انتخابی مشق جموں و کشمیر کے عوام کو حقِ خودارادیت دینے کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ اجلاس میں اپریل 2025 میں جموں و کشمیر کے لیے سیکرٹری جنرل کے خصوصی ایلچی کے پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے دورے کا خیرمقدم کیا گیا۔2 مئی 2025 کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے لیے او آئی سی گروپ آف ایمبیسڈرز کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ پریس بیان کا بھی خیرمقدم کیا گیا،
جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جموں و کشمیر کا حل طلب تنازعہ جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کو متاثر کرنے والا بنیادی مسئلہ ہے،22 جون 2025 کو استنبول میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے 51ویں اجلاس کے موقع پر منعقدہ او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کے اجلاس میں جموں و کشمیر کے تنازعہ کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق پُرامن حل کے لیے کیے گئے اعلان پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ۔23 ستمبر 2025 کو نیویارک میں وزارتی اجلاس میں او آئی سی رابطہ گروپ کی جانب سے منظور کیے گئے مشترکہ اعلامیے کا بھی خیرمقدم کیا گیا، جس میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔سیکرٹری جنرل اور او آئی سی رکن ممالک سے درخواست کی گئی ہےکہ وہ اقوام متحدہ سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر کشمیری عوام کی مشکلات اور صورتِ حال کو اجاگر کریں۔ اجلاس میں درخواست کی گئی کہ او آئی سی کے آزاد مستقل انسانی حقوق کمیشن آزاد کشمیر اور لائن آف کنٹرول کا حقائق معلوم کرنے والا مشن روانہ کیا جائے تاکہ زمینی صورتِ حال کے بارے میں براہِ راست معلومات حاصل کی جا سکیں۔
اجلاس میں نیویارک اور جنیوا میں او آئی سی کے مبصر مشنز کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس مشترکہ اعلامیے کی نقل تمام رکن ممالک، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر کو ارسال کریں۔اجلاس میں بھارت پر زور دیا کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال بہتر بنائے، تمام کشمیری سیاسی قیدیوں کو رہا کرے، کشمیری سیاسی جماعتوں پر عائد پابندی ختم کرے، تمام پابندیوں پر مبنی اور سخت قوانین منسوخ کرے اور جموں و کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کرے۔








