ڈینگی کی صورتحال گزشتہ سال کی نسبت بہتر، راولپنڈی میں انسدادِ ڈینگی سرگرمیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت

ڈینگی کی صورتحال گزشتہ سال کی نسبت بہتر، راولپنڈی میں انسدادِ ڈینگی سرگرمیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت

راولپنڈی۔23ستمبر (اے پی پی):ڈسٹرکٹ ایمرجنسی اینڈ رسپانس کمیٹی کا اجلاس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سوشل سروسز فضائل مدثر اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر انفورسمنٹ عبدالرحمن خان کی زیرصدارت ڈپٹی کمشنر آفس راولپنڈی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈی ایچ او، محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع راولپنڈی میں ڈینگی کی موجودہ صورتحال، ویکٹر سرویلنس، لاروا کیسز کے رسپانس، سویپنگ، گرَبنگ اور دیگر انسدادِ ڈینگی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ رواں سال ضلع راولپنڈی میں اب تک ڈینگی کے 15 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے اور مریضوں کی مجموعی صورتحال گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتر ہے۔بریفنگ کے مطابق راولپنڈی میں اب تک 49 لاکھ 54 ہزار 203 گھروں اور 17 لاکھ 17 ہزار 525 مقامات کی ویکٹر سرویلنس کی جا چکی ہے۔ مسلسل سویپنگ، صفائی، گرَبنگ اور لاروا کی بروقت نشاندہی و تدارک کے باعث ڈینگی کی صورتحال کو بڑی حد تک کنٹرول میں رکھا گیا ہے۔ 14 سے 20 ستمبر کے دوران ہائی رسک یونین کونسلز میں سویپنگ کے علاوہ مختلف علاقوں میں نباتاتی صفائی اور گرَبنگ کی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ 14 سے 21 ستمبر کے دوران رپورٹ ہونے والے 17 ہزار 377 لاروا کیسز میں سے 17 ہزار 102 کا رسپانس مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ 275 کیسز کا رسپانس زیرالتوا ہے۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سوشل سروسز فضائل مدثر نے ہدایت کی کہ ڈینگی کے مکمل تدارک کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور انسدادِ ڈینگی سرگرمیوں میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہ کی جائے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو فیلڈ میں سرویلنس، سویپنگ، گرَبنگ اور لاروا کیسز کے رسپانس کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔

انہوں نے فیلڈ سرگرمیوں کی باقاعدہ مانیٹرنگ یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ غلط یا فرضی ایکٹیویٹی رپورٹ ہونے کی صورت میں متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے تمام متعلقہ محکموں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے ڈینگی کے خاتمے کے لیے مربوط اور فعال اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ ہاٹ سپاٹس، ہائی رسک یونین کونسلز اور ان علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے جہاں لاروا کی موجودگی رپورٹ ہو رہی ہے، جبکہ انسدادِ ڈینگی سرگرمیوں کی روزانہ بنیادوں پر نگرانی اور رپورٹنگ کو بھی یقینی بنایا جائے۔