اصل ڈیزائن اہم، بعد کی ساختی تبدیلی سے گاڑی کی کسٹمز ٹیرف درجہ بندی تبدیل نہیں ہوتی، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسٹمز ٹیرف کی درجہ بندی کے لیے گاڑی کا اصل ڈیزائن اور تیاری بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، بعد ازاں ساختی تبدیلی کرکے نشستوں کی تعداد بڑھانے سے اصل میں پانچ نشستوں کے لیے تیار کی گئی گاڑی دس یا اس سے زائد افراد کی نقل و حمل کے لیے ڈیزائن شدہ گاڑی نہیں بن جاتی۔

اسلام آباد۔23ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسٹمز ٹیرف کی درجہ بندی کے لیے گاڑی کا اصل ڈیزائن اور تیاری بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، بعد ازاں ساختی تبدیلی کرکے نشستوں کی تعداد بڑھانے سے اصل میں پانچ نشستوں کے لیے تیار کی گئی گاڑی دس یا اس سے زائد افراد کی نقل و حمل کے لیے ڈیزائن شدہ گاڑی نہیں بن جاتی۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کسٹمز کلکٹر ماڈل کسٹمز کلیکٹریٹ پشاور کی جانب سے دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا 5 اکتوبر 2023 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

عدالت نے تفصیلی تحریری فیصلہ میں قرار دیا کہ کسٹمز ٹیرف کی ہیڈنگ 87.02 دس یا اس سے زائد افراد، بشمول ڈرائیور، کی نقل و حمل کے لیے گاڑیوں سے متعلق ہے جبکہ ہیڈنگ 87.03 بنیادی طور پر افراد کی نقل و حمل کے لیے تیار کی گئی دیگر گاڑیوں سے متعلق ہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ زیرِ سماعت لموزین اصل میں پانچ نشستوں والی گاڑی کے طور پر تیار کی گئی تھی، جس میں بعد میں ساختی تبدیلی کے ذریعے اضافی نشستیں شامل کی گئیں۔ گاڑی کے معائنے، وی آئی این اور مینوفیکچرر کے ڈیٹا سے بھی اس کا اصل ڈیزائن پانچ نشستوں والا ثابت ہوا۔عدالت کے مطابق درآمد کے وقت گاڑی میں اضافی نشستوں کی موجودگی بذاتِ خود اسے ہیڈنگ 87.02 کے تحت آنے والی گاڑی ثابت نہیں کرتی کیونکہ ’’ڈیزائن‘‘ سے مراد وہ مقصد اور ساخت ہے جس کے لیے گاڑی اصل میں تیار کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بعد کی نجی ساختی تبدیلی گاڑی کے اصل ڈیزائن اور کردار کو تبدیل نہیں کرتی اور ایسی گاڑی پی سی ٹی ہیڈنگ 87.03 کے تحت ہی آتی ہے۔عدالت نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کلیکٹر آف کسٹمز کراچی بنام محمد شفیق (2022 SCMR 2107) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے میں بھی گاڑی کی اصل تیاری، مینوفیکچرر کے سرٹیفکیٹ اور اصل نشستوں کی گنجائش کو اہم قرار دیا گیا تھا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پشاور ہائیکورٹ نے جس فیصلے پر انحصار کیا تھا وہ پہلے ہی سپریم کورٹ کے محمد شفیق کیس میں کالعدم قرار دیا جا چکا تھا۔عدالت نے کسٹمز کی درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کرلی اور پشاور ہائیکورٹ کا 5 اکتوبر 2023 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔