خیبرپختونخوا اسمبلی میں آئندہ مالی سال27۔ 2026 کے لیے محکمہ منصوبہ بندی و ترقی (پی اینڈ ڈی) اور محکمہ شماریات کے مطالباتِ زر پر بحث کے دوران اپوزیشن اور بعض حکومتی ارکان نے محکمہ کی کارکردگی، ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات اور وسائل کی تقسیم پر سخت تنقید کی۔اپوزیشن ارکان کا مؤقف تھا کہ صوبے میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے شامل کیے جا رہے ہیں، تاہم مؤثر منصوبہ بندی، درست …
اپوزیشن اور بعض حکومتی ارکان کی محکمہ پی اینڈ ڈی کی کارکردگی، ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات اور وسائل کی تقسیم پر کڑی تنقید

مزید خبریں
پشاور۔ 24 جون (اے پی پی):خیبرپختونخوا اسمبلی میں آئندہ مالی سال27۔ 2026 کے لیے محکمہ منصوبہ بندی و ترقی (پی اینڈ ڈی) اور محکمہ شماریات کے مطالباتِ زر پر بحث کے دوران اپوزیشن اور بعض حکومتی ارکان نے محکمہ کی کارکردگی، ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات اور وسائل کی تقسیم پر سخت تنقید کی۔اپوزیشن ارکان کا مؤقف تھا کہ صوبے میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے شامل کیے جا رہے ہیں، تاہم مؤثر منصوبہ بندی، درست اعدادوشمار اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھنے کے شواہد نظر نہیں آتے۔ ارکان نے نامکمل منصوبوں، پسماندہ اضلاع کی محرومی، علامتی فنڈز کے اجراء اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم پر بھی سوالات اٹھائے خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس بدھ کے روز ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
تلاوتِ کلام پاک اور قومی ترانے کے بعد وزیر قانون آفتاب عالم نے آئندہ مالی سال 27 ۔2026 کے لیے محکمہ منصوبہ بندی و ترقی (پی اینڈ ڈی) اور محکمہ شماریات کے لیے ایک ارب 56 کروڑ 33 لاکھ روپے سے زائد کے مطالباتِ زر ایوان میں پیش کئے ۔بحث کے دوران اپوزیشن ارکان نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے متعدد کٹوتی کی تحاریک پیش کیں۔اپوزیشن رکن ثوبیہ شاہد نے کہا کہ محکمہ گزشتہ 13 برسوں سے صوبے کی ترقی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، تاہم ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات اور فنڈز کی تقسیم پر سنجیدہ سوالات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1564 جاری اور 1201 نئے منصوبے شامل کیے گئے ہیں جبکہ مجموعی لاگت تقریباً 3500 ارب روپے بنتی ہے، اس لیے یہ واضح ہونا چاہیے کہ منصوبہ بندی کن بنیادوں پر کی گئی ہے۔
انہوں نے دیر یونیورسٹی کے لیے محض دس ہزار روپے کی علامتی رقم مختص کرنے اور دیر بالا کیڈٹ کالج کو اے ڈی پی سے نکالنے پر بھی اعتراض کیا۔فرح خان نے کہا کہ محکمہ کے پاس مؤثر تحقیقی اور شماریاتی ڈیٹا موجود نہیں، جس کے باعث وسائل کے درست استعمال میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ آمنہ سردار کا کہنا تھا کہ محکمہ کے نام میں منصوبہ بندی ضرور ہے لیکن عملی طور پر اس کی جھلک نظر نہیں آتی۔فائزہ ملک نے مقامی حکومتوں کے اختیارات محدود کرنے کو پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی کمزوری قرار دیتے ہوئے معاشی ماہرین، سائنسدانوں، زرعی ماہرین، صنعت کاروں اور نوجوان قیادت پر مشتمل ایک خودمختار کمیشن کے قیام کی تجویز دی۔سردار شاہجہان، رشاد خان، نثار باز، سونا حسین، ریحانہ اسماعیل اور دیگر ارکان نے بھی ناقص منصوبہ بندی، پسماندہ علاقوں کی محرومی، نامکمل منصوبوں اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم پر تشویش کا اظہار کیا۔
حکومتی رکن ادریس خٹک نے بھی محکمہ کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہیں اور تیار ہوا ہو اور پی اینڈ ڈی نے صرف اس پر مہر ثبت کی ہو۔پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کریم کنڈی نے صوبے میں ’’چارٹر آف اکانومی‘‘ متعارف کرانے کی تجویز دی تاکہ ترقیاتی منصوبے سیاسی ترجیحات کے بجائے ضرورت اور میرٹ کی بنیاد پر منظور کئے جا سکیں۔بحث سمیٹتے ہوئے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے واضح پالیسی اور رولز آف بزنس مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی معاملات پر تمام جماعتوں کا اتفاق رائے ایک مثبت پیش رفت ہے اور اسے تحریری شکل دی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی فنڈز 235 ارب روپے سے تجاوز کر جائیں گے جبکہ وفاق کی جانب سے واجبات کی بروقت ادائیگی سے مزید مسائل حل ہو سکتے ہیں۔وزیر قانون آفتاب عالم نے ایوان کو بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران 323 ٹارگٹڈ سکیمیں مکمل ہونے کے بعد اے ڈی پی سے خارج کی جا چکی ہیں جبکہ 506 جاری منصوبوں کے لیے 71 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جنہیں آئندہ مالی سال میں مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں نئی سکیموں کے لیے 20 فیصد اور جاری منصوبوں کے لیے 80 فیصد فنڈز مختص کیے جاتے تھے، تاہم اس سال نئی سکیموں کا حصہ 30 فیصد رکھا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ صوبے کا تھرو فارورڈ پیریڈ 7.7 سال ہے جو پنجاب اور سندھ کے مقابلے میں اب بھی کم ہے۔مالاکنڈ ڈویژن کی ممکنہ تقسیم کے حوالے سے وزیر قانون نے بتایا کہ اس سلسلے میں تجویز کابینہ کو ارسال کی جا چکی ہے اور اس پر غور جاری ہے۔بحث کے اختتام پر اپوزیشن کی کٹوتی کی تمام تحاریک مسترد کر دی گئیں جبکہ ایوان نے اکثریتی رائے سے محکمہ منصوبہ بندی و ترقی اور محکمہ شماریات کے مطالباتِ زر منظور کر لئے۔








