اپوزیشن قومی مفاد میں حکومت کے ساتھ بیٹھ کر قومی چارٹر تشکیل دے،پاکستان کی ثالثی میں ایران امریکا معاہدہ پوری قوم کے لیے باعثِ فخر اور خوشی کی بات ہے، اعجازالحق

اپوزیشن قومی مفاد میں حکومت کے ساتھ بیٹھ کر قومی چارٹر تشکیل دے،پاکستان کی ثالثی میں ایران امریکا معاہدہ پوری قوم کے لیے باعثِ فخر اور خوشی کی بات ہے، اعجازالحق

اسلام آباد۔19جون (اے پی پی):پاکستان مسلم لیگ (ض) کے رکن قومی اسمبلی اعجازالحق نے کہاہے کہ پاکستان کی ثالثی میں ایران امریکا معاہدہ پوری قوم کے لیے باعثِ فخر اور خوشی کی بات ہے، اپوزیشن سے درخواست ہے کہ قومی مفاد میں حکومت کے ساتھ بیٹھ کر قومی چارٹر تشکیل دیں۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں بجٹ پربحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان کی ثالثی میں ایران امریکا معاہدہ پوری قوم کے لیے باعثِ فخر اور خوشی کی بات ہے، اس سے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک نئی پہچان ملی، ایک وقت تھا جب ہم امریکا کے صدر کی ٹیلی فون کال کا انتظار کرتے تھے اور وہ کال بھی نہیں آتی تھی، لیکن آج حالات بدل چکے ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ کامیابی معرکہ حق اور بنیان مرصوص کی بدولت حاصل ہوئی جب ہماری قوم متحد ہو کر اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہوئی تو اللہ تعالی نے نہ صرف ہمیں فتح عطا کی بلکہ پوری دنیا میں پاکستان کو ایک نئی شناخت بھی ملی۔معرکہ حق کے دوران ہماری افواج نے بھرپور اور موثر جواب دیا۔

اس کامیابی میں ہمارے وزیراعظم، ان کی پوری ٹیم اور خصوصا ًفیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا اہم کردار رہا۔ جب ایران پر پہلا حملہ ہوا تو اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف، جو اب فیلڈ مارشل ہیں، امریکی صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم سے ملاقات کے لیے گئے۔ اس ملاقات میں انہوں نے دو اہم باتیں کیں پہلی یہ کہ اس جنگ کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور دوسری یہ کہ امریکا کو خبردار کیا کہ زمینی فوج بھیجنے کی غلطی ہرگز نہ کرے۔ انہوں نے افغانستان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کو وہاں بیس سال گزارنے کے بعد بالآخر اپنے فوجیوں کی لاشیں واپس لے جانا پڑیں، اس لیے یہاں ایسی غلطی نہ کی جائے۔ میرے خیال میں ان کی یہ بات امریکی قیادت نے سمجھی، جس کے بعد جنگ روک دی گئی۔ فروری میں دوبارہ کشیدگی پیدا ہوئی لیکن اس مرتبہ بھی پاکستان نے اہم کردار ادا کیا۔ نہ وہاں حکومت تبدیل ہو سکی، نہ رضا شاہ پہلوی کو واپس لا کر اقتدار دیا جا سکا۔ پاکستان نے جنگ بندی کروانے میں اہم کردار ادا کیا جبکہ قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے کردار کو بھی عالمی سطح پر سراہا گیا۔

انہوں نے کہاکہ اس صورتحال نے بھی پاکستان کے لیے کئی نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ اگر ہم نے ان مواقع سے فائدہ نہ اٹھایا تو شاید دوبارہ ایسے مواقع نہ ملیں۔ جنگ کے بعد عالمی ٹرانس شپمنٹ کا رخ پاکستان کی طرف ہوا ہے۔ میرے پاس موجود اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی بندرگاہوں پر کارگو سرگرمیوں میں تقریباً 1400 فیصد اضافہ ہوا ہے اس لیے ہمیں اپنی لاجسٹکس کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔انہوں نے کہاکہ گوادر پورٹ اللہ تعالی کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے جو خطے کے لیے ایک اہم تجارتی مرکز بن سکتی ہے۔ اگر ہم مناسب سکیورٹی، جدید سہولیات اور لاجسٹکس فراہم نہ کر سکے تو یہ سنہری موقع بھی ضائع ہو جائے گا۔

اعجازالحق نے کہاکہ گزشتہ سال ہماری جی ڈی پی گروتھ تقریباً 3.7 فیصد رہی، جبکہ اس سال ہدف 4 فیصد رکھا گیا ہے۔ میری رائے میں پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ شرح ناکافی ہے۔ جب تک ہماری معاشی ترقی کی رفتار 6 سے 8 فیصد تک نہیں پہنچتی، ہم غربت میں خاطر خواہ کمی نہیں لا سکتے۔ ہمیں سب سے پہلے اپنے تجارتی خسارے پر قابو پانا ہوگا، جو اس وقت تقریبا 37ً ارب ڈالر ہے۔ اس کے لیے غیر ضروری درآمدات پر وقتی پابندی لگائی جا سکتی ہے تاکہ زرمبادلہ کی بچت ہو اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہو۔ اسی طرح ہمیں دوست ممالک، خصوصاً سعودی عرب، چین اور دیگر ممالک کے ساتھ بارٹر ٹریڈ معاہدوں کو فروغ دینا چاہیے تاکہ زرمبادلہ پر دبا کم کیا جا سکے،مجھے خوشی ہوئی کہ ایکسپورٹرز نے ایڈوانس ٹیکس میں کمی اور سپر ٹیکس سے استثنا کو سراہا ہے، لیکن گارمنٹس سیکٹر، جو پاکستان کی برآمدات کا سب سے بڑا شعبہ ہے، اس پرکم سے کم ٹیکس رجیم کے باعث اضافی بوجھ پڑا ہے ان کی تجویز ہے کہ انہیں دوبارہ فائنل ٹیکس رجیم میں منتقل کیا جائے، خود ایف بی آر کی دستاویزات کے مطابق موجودہ نظام سے تقریبا 90ً ارب روپے کا نقصان ہوا ہے جبکہ فائدہ صرف غیر ضروری آڈٹ اور بیوروکریسی کو پہنچا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس وقت تقریباً 1.7 سے 1.9 ٹریلین روپے صرف کیپسٹی ادائیگیوں کی مد میں ادا کیے جا رہے ہیں، جس کا بوجھ براہِ راست صارفین پر پڑتا ہے تجویز ہے کہ اس اضافی بجلی کو نئی صنعتوں، معدنیات، گرین فیلڈ منصوبوں اور ویلیو ایڈیشن کے شعبوں کو رعایتی نرخوں پر فراہم کیا جائے تاکہ صنعت بھی بڑھے اور کپیسٹی چارجز بھی کم ہوں۔ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوں تو اس کا فائدہ فوری طور پر عوام تک منتقل ہونا چاہیے ،تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ہماری فی کس سرمایہ کاری خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ اگر ہم واقعی ترقی چاہتے ہیں تو ان شعبوں پر زیادہ توجہ دینا ہوگی۔ اسی طرح جنوبی پنجاب، خصوصاً بہاولنگر، شدید نظرانداز ہو رہا ہے۔ سیم و تھور، پانی کی قلت اور زراعت کی تباہی نے اس پورے علاقے کو متاثر کیا ہے، کپاس، جو کبھی پاکستان کی سب سے بڑی نقد آور فصل تھی، اس کی پیداوار تقریبا 15ً ملین بیلز سے کم ہو کر صرف 5.5 ملین بیلز رہ گئی ہے، جس سے ملک کو تقریبا 10ً ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، وزیر خزانہ اور وزیراعظم شہباز شریف سے گزارش کرتا ہوں کہ تنخواہ دار طبقے کو مزید ریلیف دیا جائے۔

مجموعی طور پر یہ بجٹ موجودہ حالات میں ایک متوازن بجٹ ہے، تاہم گارمنٹس ایکسپورٹرز اور دیگر صنعتوں کی جائز تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ میں اپوزیشن سے بھی گزارش کرتا ہوں کہ قومی مفاد میں حکومت کے ساتھ بیٹھ کر ایک ایسا قومی چارٹر تشکیل دیں جس میں سیاست سے پہلے پاکستان کو رکھا جائے۔ جب پوری قوم ایک صف میں کھڑی ہوگی تو ہم نہ صرف معاشی مشکلات پر قابو پائیں گے بلکہ دہشت گردی سمیت ہر چیلنج کا بھی کامیابی سے مقابلہ کر سکیں گے۔

مزید خبریں