سابق وزیراعظم و مرکزی رہنما پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان نے بڑی محنت ، کاوش اور دانش کے ساتھ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ کرایا اس پر پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد تک اضافہ کیا جائے، کشمیریوں کے دل پاکستان اور پاکستانیوں کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں، وہاں پر …
امریکا ایران معاہدےمیں کردار سے پاکستان کے حصے میں بڑی قدرومنزلت اور عزت آئی ، راجہ پرویز اشرف
اسلام آباد۔19جون (اے پی پی):سابق وزیراعظم و مرکزی رہنما پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان نے بڑی محنت ، کاوش اور دانش کے ساتھ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ کرایا اس پر پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد تک اضافہ کیا جائے، کشمیریوں کے دل پاکستان اور پاکستانیوں کے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں، وہاں پر احتجاج کرنے والوں سے اپیل ہے کہ وہ احتجاج کا راستہ ترک کر کے مذاکرات کی میز پر آئیں، ان کے ساتھ گزشتہ بات چیت میں 80 فیصد مطالبات حل ہو چکے تھے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پاکستان کے حصے میں بڑی قدرومنزلت اور عزت آئی جب پاکستان نے سفارتکاری کے میدان میں ایک بڑا کارنامہ سرانجام دیا اور امریکا اور ایران کی جنگ جو دنیا کیلئے خطرناک تھی اور اس نے پوری دنیا کو ایک ہیجان میں مبتلا کر دیا تھا بظاہر اس کے سلجھنے میں کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا کسی جانب سے بھی پیچھے ہٹنے کی بات نہیں ہو رہی تھی اور بڑی تباہی کا امکان تھا، اس ہیجانی کیفیت سے معیشت کو بڑا نقصان پہنچ رہا تھا۔
اس کے علاوہ پوری د نیا کی معیشت کو بھی بڑا نقصان پہنچ رہا تھا، ایسے حالات میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ، صدر مملکت آصف علی زرداری اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بڑی محنت، کاوش اور دانش کے ساتھ یہ معرکہ سر کیا ہے اور جنگ بندی کا معاہدہ ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ بڑا مبارک لمحہ اور دنیا میں پاکستان کیلئے وقار کی علامت ہے، پہلی دفعہ دنیا کو یہ احساس ہوا کہ پاکستان ایک صلحہ جو ملک ہے اسے اللہ نے اتنی صلاحیتیں دی ہیں کہ وہ دنیا میں امن قائم کرنے کیلئے اپنا کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ان کی ٹیم فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی پاکستان کے 25 کروڑ عوام اور ہر شہری کی ہے، انہوں نے بجٹ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہر حکومت کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ کوئی ایسا بجٹ لے کر آئے جس کو عوام میں زیادہ بہتر پذیرائی ملے اس کی عزت میں اضافہ ہوا اور عوام کی تکالیف کم ہوں اس وقت ساری دنیا کے حالات کو جن مشکلات کا سامنا ہے ایسے میں بہتر بجٹ پیش کرنا ممکن نہیں۔ روس یوکرائن جنگ پھر معرکہ حق اور اب ایران۔ امریکا جنگ کی وجہ سے معیشت بری طرح متاثر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا ایوان میں ایک اہم کردار ہوتا ہے، تنقید کے ساتھ ساتھ انہیں عوام کی بہتری کیلئے تجاویز بھی دینی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ بجٹ سے دو طبقات پر براہ راست اثرات ہوتے ہیں ان میں ایک طبقہ تنخواہ دار ہے ان کی تنخواہوں میں حکومت نے 7 فیصد اضافہ کیا ہے جو ناکافی ہے اسے کم از کم 10 فیصد تک بڑھایا جائے اس کے ساتھ ساتھ زراعت سے وابستہ لوگوں پر بھی بڑا دبائو ہے ان کی آمدن سے اخراجات بڑھ چکے ہیں۔
مہنگائی کی وجہ سے صارفین پر بوجھ پڑتا ہے۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ہم نے اپنے دور میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 100 فیصد اضافہ کیا کیونکہ افراط زر میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی کی شرح بڑھتی ہے تو اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو جاتی ہیں۔ بزنس مین طبقہ پھر بھی کسی حد تک اس کا مقابلہ کر سکتا ہے تاہم مزدور، چھوٹا کاشکار اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے وسائل میں بھی اضافہ کرنا ہے اور ہم سب نے ملکر ملک کی ترقی کیلئے سر جوڑ کر بیٹھنا ہے، ہمیں آپس میں مفاہمت پر عمل پیرا ہونا ہے اور اس مشکل وقت سے نکلنے کیلئے منصوبہ بندی کرنی ہے ہمیں ایک دوسرے کو برداشت کرنا ہے ایک دوسرے کی بات سننی ہے، اللہ نے جہاں ہمیں عسکری محاذ پر بڑی کامیابیاں عطا کی ہیں اسی طرح معاشی بہتری کے چیلنج سے بھی نمٹنا ہے۔ اس کیلئے ملک میں سازگار ماحول، امن و امان کی صورتحال بہتر بنانا ہو گی ملک میں اچھی سیاست ہو گی تو استحکام آئے گا اور سیاسی استحکام سے معاشی استحکام ممکن ہے تمام فریقین اور سیاسی جماعتوں کو ٹھنڈے دل و دماغ سے اس پر غور کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں قرضوں کے بوجھ تلے دبتے جا رہے ہیں۔
جنوبی کوریا کی لیڈر شپ نے ملک کے قرض اتارنے کیلئے اپیل کی تو خواتین نے اپنے زیور ان کے سپرد کئے اور اس طرح پوری قوم نے اپنا حصہ ڈالا اور ان کا قرض اتر گیا۔ اگر ہم بھی مل بیٹھ کر اس پر سوچیں تو اس کا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکلے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے غربت اور قرض سے نجات حاصل کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے ہیں، اگر ہم متحد ہو کر یہ طے کر لیں کہ ہم سیاست ضرور کرینگے لیکن ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے یہ سیاست نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ 25 کروڑ محب وطن لوگوں کا ملک ہے اور سب اس ملک سے پیار کرتے ہیں، ہم نے اپنے معیشت دانوں کو سازگار ماحول دینا ہے تاکہ وہ خوشی خوشی کام کریں کسان اپنے کھیتوں میں محنت کریں، نوکری پیشہ افراد، مزدور، تاجر ، کارخانہ دار سمیت ہر ایک اپنی بساط کے مطابق خدمات سرانجام دے۔ ہمارے بیرون ملک بیٹھے پاکستانیوں کیلئے ہم نے آسانیاں پیدا کرنی ہیں تاکہ وہ اپنے ملک میں سرمایہ کاری کریں اس سے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ آج آزاد کشمیر کے جو حالات ہیں اس پر دل خون کے آنسو روتا ہے وہاں کے حالات دیکھ کر تکلیف پہنچتی ہے ہر پاکستانی خواہ ہو حکومت یا اپوزیشن میں ہے وہ اس صورتحال سے پریشان ہے۔
وزیراعظم پاکستان نے مجھے اور کچھ ممبران کو آزاد کشمیر بھیجا تھا جب ہم وہاں گئے تو کمیٹی کے ساتھ بات چیت ہوئی ان کے مطالبات کو غور سے سنا۔ انہوں نے کھل کر بات کی جو مطالبات فوری طور پر حل ہو سکتے تھے وہ مان لئے گئے۔ زیادہ تر معاملات طے ہو گئے تھے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اس پر روشنی ڈالی کہ مہاجرین کی نشستوں کا ایک نکتہ تھا جس پر ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو احتجاج کی کال دی جس پر انہیں کہا کہ کال ملتوی کریں اور بیٹھ کر بات کرتے ہیں اور اس کا کوئی راستہ نکالتے ہیں، اس سے قبل بجلی اور آٹے پر سبسڈی کا مطالبہ فوری مرکزی قیادت نے مان لیا اور انہیں 3 روپے فی یونٹ بجلی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری ہمارے اپنے ہیں ہم ان کو اپنے دل کے بہت قریب سمجھتے ہیں، ہمارے دل ان کے ساتھ دھڑکتے ہیں ۔ تین روپے یونٹ بجلی دینے کے باوجود خوشی ہے کہ پاکستان کے کسی پاکستانی نے یہ نہیں کہا کہ ہمیں 50 سے 55 روپے فی یونٹ بجلی اور انہیں 3 روپے فی یونٹ کیوں دی جا رہی ہے، یہ وہ محبت اور عشق ہے جو کشمیریوں کے ساتھ پاکستان کا ازل سے ہے۔
اس ایوان کے دونوں اطراف بیٹھے ہوئے اراکین کشمیر سے محبت کرتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر اور ایٹم بم دو ایسے معاملات ہیں جن پر پوری قوم متحد ہے اور اس پر کوئی دو رائے نہیں تاہم اب وہاں پر ایک طوفان کھڑا کر دیا گیا ہے پتہ نہیں کس کی نظر لگی ہے۔ مہاجرین کی 12 سیٹوں سمیت دیگر معاملات مذاکرات سے ہی حل ہونے ہیں۔ ریاست کی جانب سے کچھ ریڈ لائنز ہوتی ہیں اور ان کو کراس کرنے پر ریاست ردعمل دیتی ہے کیوں اس کے بغیر نظام نہیں چل سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بڑے اچھے ماحول میں کمیٹی کے ساتھ بات چیت کی اور 80 فیصد سے زائد مطالبات کا حل نکل آیا تھا ہم نے انہیں کہا کہ احتجاج کا راستہ ترک کریں، کیونکہ اس سے پاکستان اور کشمیریوں کے ساتھ ساتھ تنازعہ کشمیر کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے ان حالات سے سب سے زیادہ فائدہ ہندوستان اور اسرائیل کو پہنچ رہا ہے وہ پاکستان کے دشمن ہیں۔
اس صورتحال سے ہمارے کشمیری بہن بھائی جو اپنی آزادی کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں اسے بھی نقصان پہنچ رہا ہے، اس لئے کشمیریوں سے اپیل ہے کہ وہ پرامن رہیں ، احتجاج کا ر استہ ترک کریں ہم اس مسئلے کو حل کرنے کی پوری کوشش کرینگے، اگر مظاہرین یا سیکورٹی فورسز میں سے کسی کی بھی جان جاتی ہے تو یہ سب ہمارے بچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے لوگ بڑے باعزت ، باوقار ، ہوش مند اور سلجھے ہوئے اور فیصلہ کرنے والے لوگ ہیں۔ ایسے لوگ اس میں مداخلت کریں اور ان کو کہیں کہ وہ احتجاج ختم کریں تاکہ بہتر انداز سے اس مسئلے کا حل نکل سکے۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ فاٹا اور پاٹا کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ جاری رکھی جائے۔ یہ بات وزیر خزانہ کے علم میں لائی جس پر انہوں نے اس میں توسیع دینے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔









