اسلام آباد ۔ 23 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے پاس نہ کوئی دلیل ہے اور نہ دلائل سننے کی ہمت، پارلیمنٹ میں اپنی ہی تقریر کے دوران کورم کی نشاندہی کر کے راہ فرار اختیار کر گئے جو پارلیمنٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا، اپوزیشن جہاں چاہے مناظرہ کرلے، ہم انہیں بے نقاب کریںگے، بلاول بھٹو نے …
اپوزیشن کے پاس نہ کوئی دلیل ہے اور نہ دلائل سننے کی ہمت، پارلیمنٹ میں اپنی ہی تقریر کے دوران کورم کی نشاندہی کر کے راہ فرار اختیار کر گئے ، وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید کا پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 23 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے پاس نہ کوئی دلیل ہے اور نہ دلائل سننے کی ہمت، پارلیمنٹ میں اپنی ہی تقریر کے دوران کورم کی نشاندہی کر کے راہ فرار اختیار کر گئے جو پارلیمنٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا، اپوزیشن جہاں چاہے مناظرہ کرلے، ہم انہیں بے نقاب کریںگے، بلاول بھٹو نے ماضی میں کبھی کلبھوشن کو اپنی تقریر کا حصہ نہیں بنایا، قوم جانتی ہے ریمنڈ ڈیوس کو کس نے بھگایا، آج الحمد للہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان کو پوری دنیا میں امن، ترقی اور سیاحت کے حوالے سے پہنچانتی ہے، پہلی مرتبہ اقوام متحدہ کے ایوانوں میں اسلام کا پیغام گونجا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو بلاول بھٹو زرداری کی پارلیمنٹ ہاﺅس میں تقریر کے رد عمل میں اپنی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ کوئی اپوزیشن پارٹی کا رہنما تقریر کرتا ہے اور اپنی ہی تقریر کے دوران کورم کی نشاندہی کرتا ہے اور کورم کی گنتی کئے بغیر راہ فرار اختیار کر جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی ورکر اور حادثاتی طور پر بننے والے پرچی والے سیاستدان میں یہی فرق ہوتا ہے۔ مراد سیعد نے کہا کہ حادثاتی چیئرمین کو جب معلوم پڑا کہ انہیں کوئی جواب دینے والا پارلیمنٹ میں موجود ہے تو انہوں نے اپنی ہی تقریر کے دوران کورم کی نشاندہی کی اور کورم کی گنتی کا انتظار کیے بغیر پارلیمنٹ سے فرار ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ بلاول کو نہ سندھ کے مسائل سے کوئی سروکار ہے اور میڈیا کا سامنا کرنے کی ہمت بھی نہیں۔ میڈیا ان سے کوئی سوال پوچھتا ہے تو کہتے ہیں کہ آپ کون ہوتے ہیں سوال پوچھنے والے۔ انہوں نے کہا کہ سپیکرقومی اسمبلی سے گزارش ہے کہ وہ انہیں پابند بنائے کہ وہ اپنی تقریر کے دوران اٹھائے گئے سوالات کا جواب لینے تک پارلیمنٹ میں رہیں کیونکہ جو کورم کی نشاندہی کرتا ہے اسے گنتی تک پارلیمنٹ تک بیٹھنا ہوتا ہے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ مراد سعید نے کہا کہ اپنی تقریر میں پہلی بات کلبھوشن کے حوالے سے کی لیکن ماضی میں انہوں نے کلبھوشن کو اپنی تقریر کا کبھی حصہ نہیں بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے نواز شریف کی تقریر کو عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کے کیس میں اپنے مو¿قف کے طو ر پر پیش کیا۔ ہم ماضی میں کہا کرتے تھے کہ وہ کلبھوشن کا نام کیوں نہیں لیتے کیونکہ وہ ان سے محبت کا رشتہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیاقوم بھول چکی ہے کہ ریمنڈ ڈیوس نے ہمارے ملک کی سڑکوں پر ہمارے ہی شہریوں کو ہلاک کیا اور اسے کس نے فرار کرایا اور یہی ایک حقیقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرچی والے چیئرمین کے والد نے امریکا میں حسین حقانی کی موجودگی میں جو ملاقاتیں کیں اور جو باتیں کیں اس سے امریکی بھی پریشان ہو گئے لیکن آج نہ کسی میں ڈرون حملے کرنے اور نہ ڈو مور کا مطالبہ کی ہمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ایوانوں میں آج اسلام کا پیغام گونجنے لگا ہے، اقوام متحدہ کا سیکرٹری جنرل پاکستان میں آکر پاکستان کو سیاحت کی منزل قرار دینے کی بات کرتا ہے اور اگر پاکستان کو پوری دنیا میں سیاحت کے حوالے سے جانا جاتاہے اور اس پر بحث ہو رہی ہے تو یہ وزیراعظم عمران خان کے ویژن کی بدولت ممکن ہوا لیکن اپوزیشن کو آج بھی اپنی کرپشن بچانے کی فکر لگی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کلبھوشن کا نام لینے پر شرم محسوس کرنے والوں کو قوم جانتی ہے۔ آج وہاں پاکستان کو امن ، سیاحت اور ترقی کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ مراد سعید نے کہا کہ آج انہوں نے چینی کے مسئلے پر بھی بات کی۔ جو پہلے کہتے تھے کہ چینی کمیشن کی رپورٹ نہیں آئے گی، فرانزک نہیں ہو گا لیکن رپورٹ بھی آئی ہے اور فرانزک بھی ہوا۔ ہم نے سب کا احتساب کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے اور آپ کے عظیم قائد محمد علی جناح ؒ کے شہر کراچی میں ایک بارش ہو تو وہ ڈوب جاتا ہے اور جب ان سے پوچھا جائے تو ان کے پاس صرف یہی جواب ہوتا ہے کہ جب بارش آئے تو پانی آتا ہے اور جب زیادہ بارش آتی ہے تو زیادہ پانی آتا ہے، ان کے سوا مسئلے کا کوئی حل نہیں۔ انہوں نے اپوزیشن کو کسی بھی ٹی وی چینل پر مناظرے کا چیلنج دیا اور کہا کہ جہاں چاہیں مناظرہ کرلیں ہم آپ کی نظروں میں نظریں ڈال کر جواب دیں گے لیکن آپ کو اپنی کرپشن پر جواب دہ ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے آٹا چینی مہنگی ہونے کا نوٹس لیا۔ آئی پی پیز کی انکوائری کا حکم اس لیے دیا کہ عوام کو مہنگی بجلی دینا پڑ رہی تھی۔ سندھ میں گندم چوری ہو تو پورا پاکستان متاثر ہوتا ہے اور جب اس بات کا نوٹس لیاگیا تو اربوں روپے کی گندم باہر آئی تو آپ کہتے ہیں کہ ایسا کیوں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انکوائریاں بھی ہوں گے اور ذمہ داران کا تعین بھی ہوگا اور آپ سے آپ کی نہ اہلی کے متعلق سوال بھی ہوں گے۔ اس کا آپ کو جواب دینا ہو گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھ میں ڈاکٹرز کے لئے وینٹی لیٹرز دستیاب نہیں، بچوں کی غذائی قلت کی و جہ سے اموات ہوتی ہیں ،گندم چوری ہوتی ہے اور جب اس بارے میں پوچھا جائے تو آپ کہتے ہیں کہ آپ کون ہوتے ہیں پوچھنے والے۔انہوں نے کہا کہ ہر سڑک، بے دھڑک لوٹ مار اب نہیں چلے گی، ہم آپ کی نظروں میں نظریں ملا کر جواب دیں گے تاکہ قوم آپ کی اصیلت کو پہنچان سکے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سندھ کا پہلا بہترین موٹر وے حیدر آباد سکھر کاافتاح کرنے جا رہے ہیں جس کی ایکنک نے منظوری دے دی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان پوسٹ کا جب چارج سنبھالا تو 7.7 ارب ریونیو تھا اور اب مشکل حالات کے باوجود 90 ارب روپے ہے۔ پنشنرز کو پنشن مل رہی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ علی زیدی کراچی کا ایک بیٹا ہونے کے ناطے کراچی کا کچرا صاف کرنے کے لئے میدان میں آ سکتا ہے اور دوسری جانب پوری حکومت پوری مشینری کے ساتھ اپنی ذمہ داری پوری کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان میں 98 فیصد بدعنوانیوں میں کمی آ گئی ہے جو ہماری کوششوں کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ انکوائری رپورٹ سامنے رکھ رہے ہیں۔








