ورپی یونین کی موسمیاتی نگران ایجنسی نے کہا کہ اگست عالمی سطح پر اب تک کا گرم ترین مہینہ رہا، جبکہ اس ماہ کے دوران سمندری درجہ حرارت بھی غیر معمولی بلندیوں تک پہنچ گیا اور مغربی یورپ نے اس ماہ کے دوران اب تک کی شدید ترین گرمی کا مشاہدہ کیا۔
اگست عالمی سطح پر اب تک کا گرم ترین مہینہ رہا، کوپر نیکس کلائیمیٹ چینج سروس کی رپورٹ

مزید خبریں
پیرس۔10ستمبر (اے پی پی):یورپی یونین کی موسمیاتی نگران ایجنسی نے کہا کہ اگست عالمی سطح پر اب تک کا گرم ترین مہینہ رہا، جبکہ اس ماہ کے دوران سمندری درجہ حرارت بھی غیر معمولی بلندیوں تک پہنچ گیا اور مغربی یورپ نے اس ماہ کے دوران اب تک کی شدید ترین گرمی کا مشاہدہ کیا۔
اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ نے اس رپورٹ کے مطالعے کے بعد خبردار کیا کہ جب تک لوگ فوسل فیول کا استعمال ترک نہیں کرتے ، زمین پر درجہ حرارت خطرناک حد تک بلند ہوتا رہے گا۔یورپی سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فارکاسٹس کی سمانتھا برگس جو کوپرنیکس کلائیمیٹ چینج سروس کی نگران ہیں ، نے بتایا کہ انسانوں نے کم از کم گزشتہ ایک لاکھ سالوں میں اتنی گرمی نہیں دیکھی جتنی آج ہے۔کوپرنیکس نے موسمیاتی ریکارڈ 1940 میں مرتب کر نا شروع کیا لیکن قدیم دور سے موجود برف ، درختوں کے حلقے اور مرجان کے ڈھانچوں جیسے شواہد سے سائنسدان موجود دور کی آب و ہوا کو بہت طویل تاریخی تناظر میں دیکھ سکتے ہیں۔ کوپرنیکس کے مطابق اگست میں عالمی اوسط ہوا کا درجہ حرارت 16.96 ڈگری سینٹی گریڈ تھا جو جولائی 2023 میں قائم ہونے والے گزشتہ ماہانہ ریکارڈ سے 0.01 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہے۔کوپرنیکس نے کہا کہ معمولی فرق کے پیش نظر وہ دونوں مہینوں کو مشترکہ طور پر بلند ترین سمجھتا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیاں جن میں کوئلہ، تیل اور گیس کا جلانا بنیادی حیثیت رکھتی ہیں ، نے صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں زمین کے اوسط درجہ حرات میں تقریباً 1.4 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ کر دیا ہے جبکہ 2025 میں گرین ہائوس گیسوں کا اخراج نئی بلند سطح تک پہنچ گیا۔اقوام متحدہ کے موسمیاتی سربراہ سائمن سٹیل نے کہا کہ کوپرنیکس کی رپورٹ میں شامل شواہد ناقابل تردید ہیں، یہ لوگوں کے فوسل فیول کے استعمال میں اضافے کی قیمت ہے اور عالمی موسمیاتی بحران کو ہوا دے رہی ہے۔ عالمی سطح پر سمندر کی سطح کا درجہ حرارت بھی نئے روزانہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا اور اگست کے لیے مشترکہ طور پر گرم ترین رہا، جس نے دنیا کے سمندروں میں تین ماہ کی ریکارڈ توڑ گرمی کے سلسلے کو بڑھا دیا۔
گرین ہائوس گیسوں کے اخراج سے زمین کےکرہ ہوائی میں جذب ہو جانے والی اضافی گرمی کا 90 فیصد سے زیادہ سمندروں نے جذب کر لیا ہے، جس نے زمین کو گرمی سے بچایا لیکن سمندری زندگی، reefs اور ساحلی نباتات کو شدید نقصان پہنچایا۔بحر اوقیانوس اور بحیرہ روم کے حد سے زیادہ گرم حصوں کے ساتھ ساتھ استوائی بحر الکاہل میں بھی اوسط درجہ حرارت میں اضافے کے نئےریکارڈ قائم ہو ئے ، جہاں جدید دور کا سب سے مضبوط ایل نینو موسمی پیٹرن تیزی سے طاقتور ہو رہا ہے۔یہ واقعات بحر الکاہل کے غیر معمولی طور پر گرم پانیوں کی نشاندہی کرتے ہیں لیکن ہزاروں میل دور شدید موسم کے امکانات کو بھی بڑھاتے ہیں۔
سائنسدانوں کو توقع ہے کہ آنے والے مہینوں میں گرمی کے نئے ریکارڈ قائم ہو تے رہیں گے کیونکہ یہ موجودہ ’’سپر‘‘ ایل نینو کی شدت دسمبر کے قریب اپنے عروج پر ہوگی جس کے نتیجہ میں 2027 اور ممکنہ طور پر 2026 اب تک کے گرم ترین سال بن سکتے ہیں۔ کوپرنیکس کے مطابق اوسط درجہ حرارت کے اثرات کا ہم مسلسل ہیٹ ویوز کے باعث سکولوں کی بندش ، دریائوں کے خشک ہو جانے اور جنگلات کی تباہ کن آگ کی صورت میں کر رہے ہیں۔ یورو مو مو مانیٹرنگ پلیٹ فارم کے مطابق وسط جولائی اور وسط اگست کے درمیان یورپ میں 32,000 سے زیادہ اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں۔






