ادیس ابابا۔3ستمبر (اے پی پی):ایتھوپیا کے لیے اقوام متحدہ کے قائم مقام ہیومینیٹیریئن کوآرڈینیٹر گرینٹ لیئٹے نے کہا ہے کہ ایتھوپیا کے شورش زدہ علاقہ ٹیگرے میں بحران کے باعث امدادی اشیا تک رسائی نہ ہونے سے لاکھوں شہریوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ایتھوپیا کے علاقہ ٹیگرے میں وفاقی فوج ،ان کے اتحادیوں اور ٹیگرے کی باغی فوج کے درمیان کشیدگی کے باعث …
ایتھوپیا کےشورش زدہ علاقہ ٹیگرے میں امدادی اشیا تک رسائی نہ ہونے سے لاکھوں شہریوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے، اقوام متحدہ

مزید خبریں
ادیس ابابا۔3ستمبر (اے پی پی):ایتھوپیا کے لیے اقوام متحدہ کے قائم مقام ہیومینیٹیریئن کوآرڈینیٹر گرینٹ لیئٹے نے کہا ہے کہ ایتھوپیا کے شورش زدہ علاقہ ٹیگرے میں بحران کے باعث امدادی اشیا تک رسائی نہ ہونے سے لاکھوں شہریوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ایتھوپیا کے علاقہ ٹیگرے میں وفاقی فوج ،ان کے اتحادیوں اور ٹیگرے کی باغی فوج کے درمیان کشیدگی کے باعث لوگوں کو امداد کی اشد ضرورت ہے ۔
اس ضمن میں ایتھوپیا کے لیے اقوام متحدہ کے قائم مقام ہیومینیٹیریئن کوآرڈینیٹر گرینٹ لیئٹے نے کہا ہے کہ ٹیگرے میں لاکھوں شہری ہماری طرف سے کھانے کی پینے کی اشیا، ادویات اور دیگر ضروری امداد کی فراہمی پر انحصار کرتے ہیں ۔ اقوام متحدہ کے ایک اندازے کے مطابق ٹیگرے میں کئی دہائیوں میں دنیا کی بدترین قحط کی صورتحال سے بچنے کے لیے 52 لاکھ افراد کی فوری مدد کرنے کی ضرورت ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ایتھوپیا کے علاقہ عفار کے ذریعے ٹیگرےمیں بآسانی امدادی اشیا کی ترسیل کی جاسکتی ہے لیکن نقل وحمل اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کے باعث امدادی سامان کی ترسیل میں طویل تاخیر کا سامنا ہے۔ لہذا ایتھوپیا کی حکومت امدادی سامان اور اہلکاروں کو ٹیگرے تک رسائی کی اجازت دی جائے۔ دوسری جانب ایتھوپیا کی حکومت کے ترجمان نے امدادی سامان کی ترسیل روکنے کی تردید کی ہے۔








