ماسکو ۔19جنوری (اے پی پی):روس میں ایران کے سفیر کاظم جلالی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق جنوری کے بیانات کو ’’اشتعال انگیز اور مضحکہ خیز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈونلڈٹرمپ ایک طرف ایرانی عوام کے تحفظ کی بات کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب تشدد اور عدم استحکام کو ہوا دے رہے ہیں۔ تاس کے مطابق ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ جب ایرانی صدر …
ایرانی سفیر کاامریکی صدر کے بیانات پر سخت ردعمل، ’اشتعال انگیز اور مضحکہ خیز‘ قرار دے دیا

مزید خبریں
ماسکو ۔19جنوری (اے پی پی):روس میں ایران کے سفیر کاظم جلالی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق جنوری کے بیانات کو ’’اشتعال انگیز اور مضحکہ خیز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈونلڈٹرمپ ایک طرف ایرانی عوام کے تحفظ کی بات کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب تشدد اور عدم استحکام کو ہوا دے رہے ہیں۔ تاس کے مطابق ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ جب ایرانی صدر مسعود پزشکیان چیمبر آف کامرس کے اراکین، تاجروں اور صنعت کاروں سے ملاقاتیں کر رہے تھے اور کابینہ اجلاسوں میں معاشی امور پر غور ہو رہا تھا، اسی دوران امریکی صدر نے اشتعال انگیز بیانات، سیاسی پیغامات اور عوامی دھمکیاں جاری کیں۔
کاظم جلالی کے مطابق ان بیانات کے ذریعے تشدد کی حوصلہ افزائی کی گئی، دہشت گرد گروہوں کی حمایت کی گئی، سماجی عدم استحکام کو بڑھاوا دیا گیا اور پرامن مظاہروں کو پرتشدد ہنگاموں میں بدلنے کی کوشش کی گئی۔ایرانی سفیر نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ اور پابندیوں کی پالیسی کا معمار اور نفاذ کرنے والا‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایرانی عوام کی ’’حمایت، بچاؤ اور تحفظ‘‘ کے حوالے سے متضاد اور بے معنی اشارے دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران میں بدامنی کا آغاز 29 دسمبر 2025 کو ایرانی ریال کی قدر میں شدید کمی کے بعد ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے ہوا، جو بعد ازاں ملک کے بیشتر بڑے شہروں تک پھیل گئے۔ حکام کے مطابق ان مظاہروں کے دوران 40 قانون نافذ کرنے والے اہلکار ہلاک ہوئے۔








