ایرانی وزیر خارجہ کا کشیدگی میں اضافہ نہ کرنے کا بیان دانشمندی کا مظہر ہے، خطے کے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے ہوئے ہیں، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی

اسلام آباد ۔ 8 جنوری (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کا کشیدگی میں اضافہ نہ کرنے کا بیان دانشمندی کا مظہر ہے، صورتحال پر خطے کے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے ہوئے ہیں، خطہ کشیدگی اور جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا، ممکنہ جنگ کے عالمی معیشت پراثرات مرتب ہوں گے، بھارت میں حالات مسلسل بگڑتے جا رہے …

اسلام آباد ۔ 8 جنوری (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کا کشیدگی میں اضافہ نہ کرنے کا بیان دانشمندی کا مظہر ہے، صورتحال پر خطے کے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے ہوئے ہیں، خطہ کشیدگی اور جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا، ممکنہ جنگ کے عالمی معیشت پراثرات مرتب ہوں گے، بھارت میں حالات مسلسل بگڑتے جا رہے ہیں،طاقت کے استعمال سے معاملات بگڑ تو سکتے ہیں، سدھر نہیں سکتے۔ بدھ کو وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے موجودہ ایران امریکا کشیدگی کے حوالے سے کہا کہ گزشتہ رات جو حملہ ہوا ہے وہ اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی نقصان کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔ اگر ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کے حالیہ بیان کو دیکھا جائے تو انہوں نے کہا ہے کہ ایران کشیدگی کو بڑھانا نہیں چاہتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کے بیان میں ایک سنجیدگی اور ٹھہراؤ تھا اور یہ بیان دانشمندی کا مظہر تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ کو بھی محتاط رہنا چاہیے۔ میرے اس سلسلے میں خطے کے مختلف وزرائے خارجہ سے روابط ہوئے ہیں۔ کل رات میری قطر کے وزیر خارجہ سے بھی تفصیلی بات چیت ہوئی انہوں نے 3 جنوری کے واقعے کے بعد تہران کا دورہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کی کوشش ہے کہ خطے میں کشیدگی میں اضافہ نہ ہو صورتحال میں ٹھہراؤ پیدا ہو کیونکہ یہ خطہ کشیدگی اور جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا جنگ کسی کے مفاد میں نہیں اس کے عالمی معیشت پر اثرات مرتب ہوںگے۔ میں نے اس سلسلے میں تفصیلی بیان سینٹ اور قومی اسمبلی میں بھی دیا ہے لیکن کیونکہ یہ صورتحال ابھی غیر یقینی ہے اس لئے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا میں بھی ایک بہت بڑا طبقہ جنگ کا حامی اور امریکی افواج کو ایک نئی جنگ میں جھونکنے کا خواہشمند نہیں ہے تاہم دونوں آراء اس وقت موجود ہیں۔ پاکستان کی خواہش یہی ہے کہ حالات نہ بگڑیں اور یہ خطہ جنگ کی نئی دلدل میں نہ پھنس جائے۔ پاکستان امن کا خواہاں ہے پاکستان سمجھتا ہے کہ ان معاملات کو گفت وشنید کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ صورتحال کو سدھارنے کیلئے اقوام متحدہ،سکیورٹی کونسل اور عالمی برادری کو فی الفور اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ میرا اس صورتحال پر پارلیمنٹ میں دیا گیا بیان حکومتی موقف ہے جو وزیر اعظم کی مشاورت سے دیا گیا۔ بھارت میں حالات مسلسل بگڑتے جا رہے ہیں مودی سرکار کو عوامی ردعمل کی اس شدت کا اندازہ نہیں تھا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کیا اسے کمیونیکیشن بلیک آؤٹ، انٹرنیٹ پر پابندی اور میڈیا کے داخلے پر پابندی عائد کر کے اسے دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھا۔ لیکن جب انہوں نے ترمیمی شہریت ایکٹ اور این آر سی کے متنازعہ قوانین کو مسلط کرنے کی کوشش کی تو پورا ہندوستان اٹھ کھڑا ہوا۔ آپ نے دیکھا کہ آر ایس ایس کے غنڈوں نے پہلے جامعہ ملیہ اور علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبا کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اب جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں جس طرح ان غنڈوں نے طلباء کو تشدد کا نشانہ بنایا اس کے خلاف پورے ہندوستان میں طلبا سراپا احتجاج ہیں مگر بھارت سرکار ابھی تک طاقت کے ذریعے دبانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس داخلی صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لیے وہ بہت سے ہتھکنڈے آزما رہے ہیں اسی لئے ہم نے بھارت کی جانب سے فالس فلیگ آپریشن کے خطرے کا اظہار کیا۔ جس طرح انہوں نے کرتار پور واقعہ کو بڑھا چڑھا کر اور حالات و واقعات کو جس طرح توڑ موڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی وہ بھی آپ کے سامنے ہے کیونکہ وہ محض جھوٹا پراپیگنڈا تھا اس لئے دم توڑ گیا۔ اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی بالکل واضح ہے۔ پاکستان نے اپنی سکھ برادری کیلئے کرتار پور راہداری کھولنے میں جو کردار ادا کیا وہ سب کے سامنے ہے۔ بھارت میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ طاقت کے استعمال سے معاملات بگڑ تو سکتے ہیں سدھر نہیں سکتے۔