"اسلام میں غیر مسلموں کے حقوق کے تحفظ اور احترام کو سیرتِ طیبہ ﷺ کی روشنی میں اجاگر کیا گیا۔”
ملک بھر کی مساجد میں سیرتِ طیبہ ﷺ کی روشنی میں اسلام میں غیر مسلموں کے حقوق کے موضوع پر خطباتِ

مزید خبریں
اسلام آباد۔21اگست (اے پی پی):پاکستان علماء کونسل اور اس کی اتحادی جماعتوں کی اپیل پر جمعہ کو ملک بھر کی مساجد میں ’’سیرتِ طیبہ ﷺ کی روشنی میں اسلام میں غیر مسلموں کے حقوق‘‘ کے موضوع پر خطباتِ جمعہ دیے گئے۔
ملک گیر اقدام کو امن، بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی، مذہبی رواداری، احترامِ انسانیت اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کی جانب ایک اور مثبت اور تعمیری قدم قرار دیا گیا۔قومی پیغامِ امن کمیٹی، پاکستان علماء کونسل اور اس کی اتحادی جماعتوں سے وابستہ علماء و مذہبی رہنماؤں نے ملک بھر کی مساجد میں اجتماعات سے خطاب کیا۔ اس مہم میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر و پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، مفتی عبدالرحیم، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، علامہ عارف واحدی، ڈاکٹر آصف میر، مفتی محمد کریم خان، علامہ توقیر عباس، علامہ محمد حسین اکبر، مولانا زاہد منصور، مولانا زبیر فہیم، مولانا یوسف کشمیری، مولانا ابوبکر صابری، طاہر عقیل، مولانا نعمان حاشر، اشفاق پٹافی، اسلم صدیقی، مولانا طیب قریشی، مفتی نعمان نعیم، مولانا سمیع اللہ بلوچ، مفتی عمر فاروق اور مولانا ذوالفقار احمد سمیت دیگر علماء و مذہبی رہنماؤں نےخطباتِ جمعہ میں کہا کہ قرآن کریم، سنتِ رسول ﷺ اور سیرتِ طیبہ انسانیت کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی، انسانی جان و عزت کے تحفظ، مذہبی آزادی اور تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے حقوق کے احترام کی واضح رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام امن، محبت اور رواداری کا دین ہے اور جبری تبدیلیِ مذہب یا جبری شادی کی اجازت نہیں دیتا۔ مذہب اور شادی جیسے معاملات رضامندی اور انفرادی حقوق کے احترام پر مبنی ہونے چاہئیں۔علماء و مذہبی رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان میں بسنے والے غیر مسلم شہری قومی برادری کا لازمی حصہ ہیں اور ان کی جان، مال، عزت و آبرو، حقوق اور عبادت گاہوں کا تحفظ دینی، اخلاقی، قومی اور آئینی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ رحمت للعالمین ﷺ کا پیغام مسلمانوں سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ اپنے کردار و عمل کے ذریعے رحمت، عدل، رواداری، اخوت اور احترامِ انسانیت کے اصولوں کو فروغ دیں۔علماء نے زور دیا کہ یہ پیغام محراب و منبر کے ذریعے نوجوان نسل تک پہنچایا جائے تاکہ اسلام کی حقیقی، معتدل اور متوازن تعلیمات اور پُرامن مذہبی بقائے باہمی کو فروغ حاصل ہو۔انہوں نے واضح کیا کہ کسی فرد یا گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے، کسی بے گناہ انسان پر حملہ کرنے، مذہبی منافرت پھیلانے یا کسی عبادت گاہ کو نقصان پہنچانے کا کوئی حق حاصل نہیں۔علماء و مشائخ نے انتہاپسندی، فرقہ واریت، مذہبی تعصب اور نفرت انگیز بیانیے کے خلاف اجتماعی کوششوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو تحفظ، عزت اور باہمی احترام کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ رسول اکرم ﷺ کی سیرت و پیغام کو حقیقی معنوں میں خراجِ عقیدت پیش کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ آپ ﷺ کی رحمت، عدل، امن، اخوت، رواداری اور احترامِ انسانیت کی تعلیمات کو عملی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔علماء و مذہبی رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ملک بھر کی مساجد سے دیا جانے والا یہ اجتماعی پیغام سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے، تمام شہریوں کے حقوق کے تحفظ اور پاکستان میں پُرامن بقائے باہمی کی ثقافت کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔انہوں نے ملک گیر اقدام کو قومی پیغامِ امن کمیٹی کے امن و ہم آہنگی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی جانب ایک اور بامعنی قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشرتی اتحاد اور قومی یکجہتی کے فروغ میں مذہبی قیادت کا کردار نہایت اہم ہے۔








