خیبرپختونخوا اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر نے کارروائی میں خلل ڈالنے پر مسلم لیگ (ن) کی رکن ثوبیہ شاہد کو دو ہفتوں کے لیے معطل کردیا
اسمبلی کارروائی میں خلل ڈالنے پر مسلم لیگ ن کی خاتون رکن ثوبیہ شاہد دو ہفتوں کیلئے معطل
پشاور۔ 21 اگست (اے پی پی):خیبرپختونخوا اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی نے اسمبلی کارروائی میں خلل ڈالنے پر مسلم لیگ (ن) کی خاتون رکن ثوبیہ شاہد کو دو ہفتوں کے لیے معطل کردیا۔
ڈپٹی اسپیکر نے رولز 227 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے سکیورٹی عملے کو معطل رکن کو ایوان سے باہر لے جانے کی ہدایت کی، تاہم ثوبیہ شاہد اپنی نشست چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوئیں۔جمعہ کے روز اسمبلی اجلاس کے دوران حکومتی رکن سجاد بارکوال بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے اظہارِ خیال کررہے تھے کہ ثوبیہ شاہد نے کورم کی نشاندہی کی اور شور شرابہ شروع کردیا۔ ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے متعدد بار خاموش رہنے اور ایوان کا نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ہدایت کے باوجود ثوبیہ شاہد مسلسل بولتی رہیں، جس پر ڈپٹی اسپیکر نے رولز 227 کے تحت انہیں دو ہفتوں کے لیے معطل کردیا۔اس موقع پر حکومتی رکن نذیر عباسی نے ڈپٹی اسپیکر سے معطلی کا فیصلہ واپس لینے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ چیخنا چلانا اسمبلی کی روایت نہیں، ایوان میں تحمل اور بردباری سے بات ہونی چاہیے۔ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی نے کہا کہ اسمبلی کے ڈیکورم کا خیال رکھنا تمام ارکان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے خاتون رکن کو بار بار نشست پر بیٹھنے کی تلقین کی تاہم وہ مسلسل بولتی رہیں اور دیگر ارکان کو بھی ایوان سے باہر نکالنے کی کوشش کرتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ثوبیہ شاہد آئندہ ایوان کا ماحول خراب نہ کرنے کی یقین دہانی کرائیں تو معاملے پر غور کیا جاسکتا ہے۔جے یو آئی کے رکن عدنان خان نے اپوزیشن کی جانب سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی جماعت کے قائد کے حوالے سے بات ہو تو اس پر ایوان کا ماحول خراب نہیں ہونا چاہیے تاہم انہوں نے کہا کہ ایجنڈے کو ترجیح دی گئی اوربانی پی ٹی آئی کے معاملے کو پیچھے رکھا گیا، جو حکومتی کورم کی کارکردگی کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثوبیہ شاہد نے اسمبلی رولز کے مطابق کورم کی نشاندہی کی جبکہ اسمبلی ایک جرگے کی مانند ہے جہاں ہر رکن کو تحمل سے سنا جانا چاہیے۔ صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کا ایجنڈا اسپیکر کی کرسی کی مرضی سے مرتب اور چلایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن بلیک میلنگ کے ذریعے ایوان چلانے کی کوشش کرے گی تو اس پر رولز 227 کا اطلاق ہونا چاہیے۔آفتاب عالم نے اپوزیشن ارکان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ جعلی نشستوں پر آئے ہیں، اس کے باوجود حکومت ان کا بزنس ایوان میں لیتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ بھی اپوزیشن ارکان اسی طرح کورم کی نشاندہی کرکے کارروائی میں خلل ڈالیں گے تو حکومت ان کے کسی بھی بزنس کا جواب نہیں دے گی۔آخر میں ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی نے ثوبیہ شاہد کی دو ہفتوں کی معطلی کے احکامات دوبارہ پڑھ کر سنائے اور اسمبلی کا اجلاس 24 اگست تک ملتوی کردیا۔








