ریاض۔1نومبر (اے پی پی):علاقائی کشیدگی کا جاری رہناایران کے مفاد میں نہیں ہے اور وہ اسرائیل کے ساتھ کشیدگی روکنے کی طرف پیش رفت کر رہا ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ بات سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ ملاقات کے بعد کہی ۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا …
ایران اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کو روکنے کی طرف بڑھ رہا ہے،سعودی وزیر خارجہ

مزید خبریں
ریاض۔1نومبر (اے پی پی):علاقائی کشیدگی کا جاری رہناایران کے مفاد میں نہیں ہے اور وہ اسرائیل کے ساتھ کشیدگی روکنے کی طرف پیش رفت کر رہا ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ بات سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ ملاقات کے بعد کہی ۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ باہمی تعلقات میں درست سمت میں پیش رفت ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایران اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کو روکنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
سعودی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی پالیسی یہ ہے کہ علاقائی کشیدگی میں شامل ہونے کی بجائے ترقی پر توجہ دی جائے ۔ سعودی عرب خطے میں بحرانوں سے نمٹنے اور استحکام کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سعودی عرب اپنی بین الاقوامی شراکت داری متنوع بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے فلسطین کی صورتحال کے حوالے سے کہا کہ ان کا ملک غزہ میں اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے طریقے تلاش کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔
شمالی غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک قسم کی نسل کشی ہے۔ سعودی عرب دو ریاستی حل کے مسئلے پر توجہ مرکوز کر رہاہے۔ غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات اسرائیل کے مطالبات کی وجہ سے بار بار ناکام ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینیوں کو حق خودارادیت حاصل ہے اور ان کی ریاست کو اقوام متحدہ کا رکن ہونا چاہیے۔ فلسطین بین الاقوامی قوانین سے منسلک ہے۔
سعودی عرب غزہ اور لبنان میں جنگ بندی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ اسی حوالے سےسعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم ہمیشہ لبنان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ لبنان کے بحران کے حل کا انحصار بیرونی طاقتوں پر نہیں بلکہ لبنانیوں پر ہے۔ سعودی وزیر خارجہ نے اپنے ملک کو قابل تجدید توانائی اور مصنوعی ذہانت کا اہم مرکز قرار دیا۔ انہوں نے فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو کانفرنس میں ڈائیلاگ سیشن میں کہا کہ امریکا کے ساتھ دفاعی تعاون کا معاہدہ زیادہ پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر آنے کے حوالے سے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے واضح کیا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں آسکتے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب مستقبل کے کسی بھی امریکی صدر کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔








