ایران نے جرمنی میں امریکی فوجی اڈے کے ایران کے خلاف استعمال کے حوالے سے جرمن حکومت سے وضاحت طلب کر لی

برلن ۔20مارچ (اے پی پی):ایران نے جرمنی میں امریکی فوجی اڈے ریمسٹین بیس کے ایران کے خلاف استعمال کے حوالے سے جرمن حکومت سے وضاحت طلب کر لی ہے۔ جرمن نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق جرمنی میں ایران کے سفیر ماجد نیلی تولد نے بتایا کہ ان کے ملک نے جرمن حکومت سے اس بارے میں وضاحت طلب کی ہے کہ آیا جرمنی کی ریاست رائن لینڈ پلاٹینیٹ میں …

برلن ۔20مارچ (اے پی پی):ایران نے جرمنی میں امریکی فوجی اڈے ریمسٹین بیس کے ایران کے خلاف استعمال کے حوالے سے جرمن حکومت سے وضاحت طلب کر لی ہے۔ جرمن نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق جرمنی میں ایران کے سفیر ماجد نیلی تولد نے بتایا کہ ان کے ملک نے جرمن حکومت سے اس بارے میں وضاحت طلب کی ہے کہ آیا جرمنی کی ریاست رائن لینڈ پلاٹینیٹ میں واقع امریکی اڈے ریمسٹین بیس کو ایران پر حملے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران جنگ میں ریمسٹین بیس کا کردار ہمارے لیے سرکاری طور پر واضح نہیں ہے اور ہم نے اس حوالے سے جرمن حکومت سے وضاحت کرنے کو کہا ہے لیکن جرمن حکام کی طرف سےانہیں کوئی جواب نہیں ملا۔

ایرانی سفیر نے اقوام متحدہ کی قرارداد 3314 کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ کسی ایک ملک کی طرف سے دوسرے ملک کے اختیار میں رکھی گئی سرزمین کو وہملک کسی تیسرے ملک کے خلاف "جارحیت” کے ارتکاب کے لیے استعمال نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ ہم ابھی تک نہیں جانتے کہ ریمسٹین بیس اس لائن میں ہے یا نہیں ۔ واضح رہے کہ ریمسٹین ایئر بیس یورپ اور افریقہ کے لیے امریکی فضائیہ کا ہیڈکوارٹر ہے۔ یہ دنیا بھر میں امریکی ڈرون کی تعیناتی کا مرکز بھی ہے۔جرمن پبلک براڈکاسٹر SWR کے مطابق یہ عوامی علم میں نہیں ہے کہ آیا یہ ایئر بیس ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہا ہے، لیکن قریبی مقامی لوگوں نے فضائی ٹریفک میں اضافے کی اطلاع دی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جرمن ارکان پارلیمنٹ اس حقیقت سے باخبر ہیں کہ ایران کے خلاف امریکا اسرائیل جنگ ممکنہ طور پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور جرمنی کے کردار پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔جرمنی کی آئینی عدالت نے گزشتہ سال فیصلہ دیا تھا کہ جرمنی میں اپنے اڈوں سے امریکا کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات کے لیے جرمن حکومت ذمہ دار ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ جرمن حکومت ایران پر حملوں کے لیے جرمنی میں امریکی اڈوں کے استعمال کو قانونی طور پر ممنوع قرار دے سکتی ہے، لیکن ایسا کرنے کے لیے، جرمنی کو موجودہ معاہدوں پر دوبارہ گفت و شنید کرنا پڑے گی، جس سے امریکا کو ناراض کرنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔