ایس ای سی پی اور حکومت سندھ کی مشترکہ کوششوں سے سندھ میں گاڑیوں کے لیے تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس لازمی قرار دیئے جانے کے بعد صرف تین ماہ میں تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس کوریج میں 1,374 فیصد اضافہ ریکارڈ
ایس ای سی پی اور حکومت سندھ کی مشترکہ کوششوں سے سندھ میں گاڑیوں کے لیے تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس لازمی قرار دیئے جانے کے بعد صرف تین ماہ میں تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس کوریج میں 1,374 فیصد اضافہ ریکارڈ
اسلام آباد۔30جون (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) اور حکومت سندھ کی مشترکہ کوششوں سے سندھ میں گاڑیوں کے لیے تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس لازمی قرار دیئے جانے کے بعد صرف تین ماہ میں تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس کوریج میں 1,374 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔جاری پریس ریلیز کے مطابق اس پیش رفت سے لاکھوں گاڑی مالکان، سڑک استعمال کرنے والے افراد اور حادثات کے متاثرین کو بہتر مالی تحفظ حاصل ہوگا۔ حکومت سندھ نے مارچ 2026 میں پروونشل موٹر وہیکلز (ترمیمی) ایکٹ 2026 کے ذریعے تمام رجسٹرڈ گاڑیوں کے لیے تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس لازمی قرار دی تھی۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد سندھ میں فعال تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس پالیسیوں کی تعداد 11,200 سے بڑھ کر جون 2026 کے اختتام تک 165,064 ہو گئی ہے۔
ایس ای سی پی کے فعال تعاون سے متعارف کرائے گئے اس نظام کے تحت اب سندھ میں کسی بھی گاڑی کی رجسٹریشن، ملکیت کی منتقلی یا سالانہ ٹوکن ٹیکس کی ادائیگی کے لیے تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس لازمی ہوگی جس سے قانون پر عملدرآمد اور صارفین کے تحفظ کو مزید موثر بنایا گیا ہے۔ تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس ایک بنیادی اور کم لاگت انشورنس پالیسی ہے جو سڑک حادثات میں کسی دوسرے شخص کو جسمانی چوٹ، مستقل معذوری یا موت کی صورت میں مالی تحفظ فراہم کرتی ہے۔ قانون کے تحت نو فالٹ کمپنسیشن کا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے جس کے تحت متاثرہ شخص یا اس کے اہل خانہ کو قصور وار ہونے یا نہ ہونے کا تعین کیے بغیر بروقت مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
اس کے تحت حادثے میں وفات کی صورت میں 7 لاکھ روپے اور مستقل معذوری کی صورت میں 5 لاکھ روپے تک معاوضہ ادا کیا جائے گا تاکہ متاثرہ خاندانوں کو طویل عدالتی کارروائی کے بغیر فوری مالی سہارا مل سکے۔ واضح رہے کہ نیشنل ٹرانسپورٹ ریسرچ سینٹر اور نیشنل پولیس بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 9 ہزار سے 10 ہزار رپورٹ شدہ ٹریفک حادثات پیش آتے ہیں جن میں ہزاروں افراد زخمی ہوتے ہیں اور متاثرہ خاندانوں کو بھاری مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لازمی تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ سڑک حادثات کے بے قصور متاثرین اور ان کے اہل خانہ کو بروقت مالی معاوضہ اور علاج معالجے کے اخراجات کے لیے مالی معاونت میسر آئے۔
سندھ میں تقریباً 26 لاکھ رجسٹرڈ گاڑیاں موجود ہیں۔ لازمی تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس کے نفاذ کے بعد توقع ہے کہ بتدریج تمام رجسٹرڈ گاڑیاں اس کوریج کے دائرے میں آ جائیں گی۔ اس سے سڑک حادثات کے متاثرین کو بہتر مالی تحفظ حاصل ہوگا جبکہ ملک میں انشورنس کے فروغ اور عوام میں انشورنس کے رجحان کو بھی تقویت ملے گی۔ سندھ میں اس کامیاب ماڈل کے بعد ایس ای سی پی پنجاب اور دیگر صوبائی حکومتوں کے ساتھ بھی اسی نوعیت کی اصلاحات پر کام کر رہا ہے تاکہ ملک بھر میں تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جا سکے۔









