اسلام آباد۔22اگست (اے پی پی):ایس ای سی پی نے اوپن اینڈ انویسٹمنٹ سکیمز کے تحت "انفراسٹرکچر سکیمز" کے نام سے میوچل فنڈز کی ایک نئی کیٹیگری متعارف کرائی ہے، یہ قدم طویل مدتی بچتوں کو انفراسٹرکچر کی ترقی میں استعمال کرنے کے لئے کیپٹل مارکیٹس کے کردار کو مزید مضبوط بنائے گا۔منفرد کیٹیگری بنانے کی تجویز سب سے پہلے میوچل فنڈ فوکس گروپ سیشن 2025 میں پیش کی گئی جہاں …
ایس ای سی پی نے انفراسٹرکچر میوچل فنڈز کے لئے خصوصی فریم ورک متعارف کرادیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔22اگست (اے پی پی):ایس ای سی پی نے اوپن اینڈ انویسٹمنٹ سکیمز کے تحت "انفراسٹرکچر سکیمز” کے نام سے میوچل فنڈز کی ایک نئی کیٹیگری متعارف کرائی ہے، یہ قدم طویل مدتی بچتوں کو انفراسٹرکچر کی ترقی میں استعمال کرنے کے لئے کیپٹل مارکیٹس کے کردار کو مزید مضبوط بنائے گا۔منفرد کیٹیگری بنانے کی تجویز سب سے پہلے میوچل فنڈ فوکس گروپ سیشن 2025 میں پیش کی گئی جہاں اسے فنڈ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے روڈ میپ 2025–26 کا اہم سنگ میل قرار دیا گیا۔ اس کے بعد میوچل فنڈز ایسوسی ایشن آف پاکستان (MUFAP) اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی گئی تاکہ فریم ورک کو بہتر بنایا جا سکے۔ حتمی ڈھانچے میں صنعت کی تجاویز کو شامل کیا گیا ہے اور یہ ایس ای سی پی کے اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ ریگولیٹری وضاحت، سرمایہ کاروں کے تحفظ اور قومی ترقی کی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے۔پاکستان کو اپنے انفراسٹرکچر کو بڑھانے اور جدید بنانے کی فوری ضرورت ہے، جس کے لیے ہر سال تقریباً 15 ارب امریکی ڈالر کی فنانسنگ درکار ہے۔ اس وقت انفراسٹرکچر پر خرچ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا صرف 2.1 فیصد ہے، جو عالمی معیار 8 سے 10 فیصد کے مقابلے میں کافی کم ہے۔
ایک خصوصی ریگولیٹری کیٹیگری متعارف کرا کے، کمیشن کا مقصد یہ ہے کہ انفراسٹرکچر پر مبنی میوچل فنڈز کو زیادہ نمایاں کیا جائے اور سرمایہ کاروں کو ایسے منصوبوں میں شفاف اور منظم طریقے سے سرمایہ کاری کا موقع دیا جائے جو قومی سطح پر اہمیت رکھتے ہیں۔اس فریم ورک کے تحت، ایسٹ مینجمنٹ کمپنیاں (AMCs) اپنی سرمایہ کاری کے رجحان کے مطابق انفراسٹرکچر اسکیمز کو ایکوئٹی، ڈیٹ یا ہائبرڈ فنڈز کے طور پر درجہ بندی کر سکیں گی۔ اہل شعبوں میں توانائی، ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس، پانی، صفائی، کمیونیکیشن کے ساتھ ساتھ مختلف سماجی اور تجارتی انفراسٹرکچر شامل ہیں، جیسے اسپتال، تعلیمی ادارے، انڈسٹریل پارکس، کم لاگت رہائش اور سیاحت کی سہولیات۔ اس وسیع دائرہ کار کا مقصد ریٹیل اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں دونوں کو ایسے منصوبوں کی طرف راغب کرنا ہے جو براہِ راست پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے میں کردار ادا کرتے ہیں۔سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے کے لیے، فریم ورک میں لازمی فنڈ سائز مقرر کیا گیا ہے جو پرپیچوئل اسکیمز (perpetual schemes) کے لیے کم از کم 100 ملین روپے اور closed-end schemes) (کلوزڈ اینڈ اسکیمز کے لیے سبسکرپشن پیریڈ کے اختتام پر ہوگا۔ کلوزڈ اینڈ اسکیمزclosed-end schemes) (، جن کی مدت تین سال سے زیادہ ہو، ان میں ایسٹ مینجمنٹ کمپنیوں (AMCs) کو کم از کم 25 ملین روپے کا (seed capital)سیڈ کیپیٹل لگانا ہوگا تاکہ مینیجرز اور سرمایہ کاروں کے مفادات ہم آہنگ رہیں۔ کلوزڈ اینڈ اسکیمز ایک سال کے بعد وقتاً فوقتاً سبسکرپشن اور ریڈمپشن کی سہولت بھی دے سکیں گی، بشرطیکہ اس کی شرائط آفرنگ ڈاکیومنٹس میں واضح طور پر درج ہوں۔
جیسا کہ آئینی دستاویزات میں درج ہے کہ فریم ورک کے مطابق کلوزڈ اینڈ انفراسٹرکچر اسکیمز (closed-end infrastructure schemes)کے لیے نیٹ ایسٹ ویلیو (NAV) زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کے وقفے میں ظاہر کرنا ضروری ہے۔ اسکیمز کو اپنی خالص اثاثوں (نیٹ ایسٹس) کا کم از کم 70 فیصد حصہ ہر سہ ماہی میں انفراسٹرکچر سیکیورٹیز میں لگانا ہوگا۔ اگر یہ شرح کم ہو جائے تو کمی کو تین ماہ کے اندر پورا کرنا لازمی ہوگا۔ایک آسان فیس ڈھانچہ بھی لایا گیا ہے۔ ایکوئٹی اسکیمز کی مینجمنٹ فیس سالانہ زیادہ سے زیادہ 3 فیصد ہوگی، اور ڈیٹ اسکیمز کی 1.5 فیصد۔ ہائبرڈ اسکیمز میں یہ شرح اثاثوں کی تقسیم کے حساب سے نکالی جائے گی۔ سیلز لوڈ کی اجازت نہیں ہوگی، لیکن کلوزڈ اینڈ اسکیمز میں اگر سرمایہ کاری وقت سے پہلے نکالی گئی تو کنٹیجنٹ لوڈ( contingent load) لگایا جا سکتا ہے۔اس خصوصی کیٹیگری کے قیام کے ذریعے، ایس ای سی پی کا مقصد پاکستان میں انفراسٹرکچر فنانسنگ کے خلا کو مقامی طویل مدتی بچتوں سے پورا کرنا ہے، ساتھ ہی سرمایہ کاروں کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ہے۔ یہ اقدام ایس ای سی پی کے اس عزم کی توثیق کرتا ہے کہ پائیدار ترقی کو فروغ دیا جائے اور کیپیٹل مارکیٹس کو اقتصادی ترقی کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر مزید مضبوط بنایا جائے۔سرکلر ایس ای سی پی کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔








