مقدمے میں تاخیر ملزم کی وجہ سے نہ ہو تو ایک سال سے زائد زیر حراست ملزم کو ضمانت دینا قانونی حق ہے، سپریم کورٹ

مقدمے میں تاخیر ملزم کی وجہ سے نہ ہو تو ایک سال سے زائد زیر حراست ملزم کو ضمانت دینا قانونی حق ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد۔30ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ایسے فوجداری مقدمے میں جہاں ملزم ایک سال سے زائد عرصہ زیر حراست ہو اور مقدمے کی کارروائی میں تاخیر ملزم یا اس کی جانب سے کسی شخص کے فعل یا کوتاہی کے باعث نہ ہوئی ہو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497(1)کے تیسرے پرووائزو کے تحت ملزم کو ضمانت دینا قانونی تقاضا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ زیر سماعت قیدی کو ہر تاریخ پر عدالت میں پیش کرنا استغاثہ کی ذمہ داری ہےجبکہ جیل حکام کی جانب سے ملزم کو عدالت میں پیش نہ کرنے کے باعث ہونے والی تاخیر کا ذمہ دار ملزم کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔

جسٹس عقیل احمد عباسی کی جانب سے تحریر کردہ تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے چیک ڈس آنر کیس میں چوہدری شاہ زیب شمیم کی ضمانت سے متعلق درخواست منظور کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ اور ٹرائل کورٹ کے احکامات کالعدم قرار دے دیے۔سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی تحریری فیصلہ میں قرار دیا کہ ملزم یا اس کے وکیل نے کسی موقع پر التوا کی درخواست نہیں کی جبکہ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقدمہ زیادہ تر اس وجہ سے زیر التوا رہا کہ ملزم کو جیل سے عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

ٹرائل کورٹ نے 13 اپریل 2026 کو ملزم کی پیشی کے لئے پروڈکشن وارنٹ بھی جاری کئے تاہم عدالتی حکم پر بھی ملزم کو پیش نہیں کیا گیا۔عدالت نے کہا کہ استغاثہ نے ڈیڑھ سال سے زائد عرصے کے دوران نہ ملزم کی عدالت میں پیشی یقینی بنانے کے لئے مؤثر اقدامات کئے اور نہ ہی استغاثہ کے گواہوں کو پیش کیا، ایسی صورت میں مقدمے میں ہونے والی تاخیر کو ملزم کے کھاتے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔فیصلے میں کہا گیا کہ دفعہ 497(1) کے تیسرے پرووائزو کے تحت ایسے شخص کو ضمانت دی جانی چاہیے جو کسی ایسے جرم میں گرفتار ہو جس کی سزا موت نہیں اور وہ مسلسل ایک سال سے زائد عرصے سے زیر حراست ہو بشرطیکہ مقدمے میں تاخیر ملزم یا اس کی جانب سے کسی شخص کے فعل یا کوتاہی کے باعث نہ ہوئی ہو۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ملزم کا دیگر مقدمات میں ملوث ہونا محض اس بنیاد پر اسے قانونی تاخیر کی بنیاد پر ضمانت کے حق سے محروم کرنے کے لیے کافی نہیں خصوصاً ایسے جرم میں جو دفعہ 497(1) کے ممنوعہ زمرے میں شامل نہ ہو۔عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس مؤقف کو بھی قانون کے منافی قرار دیا کہ ملزم دیگر مقدمات میں ملوث ہے اور اس بنا پر وہ قانونی تاخیر کی بنیاد پر ضمانت کا مستحق نہیں۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ محض اسی نوعیت کے دیگر مقدمات میں ملوث ہونا بذات خود ضمانت سے محرومی کی بنیاد نہیں بن سکتا۔مقدمے کا تعلق سہالہ پولیس سٹیشن اسلام آباد میں 5 اپریل 2025 کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 489-F کے تحت درج ایف آئی آر سے تھا جس میں الزام تھا کہ ملزم نے 10 ملین روپے کا چیک جاری کیا جو بینک میں پیش کئے جانے پر ادائیگی روکنے کے باعث ڈس آنر ہوگیا۔عدالت نے قرار دیا کہ دفعہ 489-F کے تحت جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا تین سال قید جرمانہ یا دونوں ہے جبکہ ملزم اس مقدمے میں ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ زیر حراست رہ چکا ہے چنانچہ وہ اس جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا کی مدت بھی جیل میں گزار چکا ہے اس کے باوجود مقدمے کا ٹرائل شروع نہیں ہوسکا۔

سپریم کورٹ نے چوہدری شہزیب شمیم کی درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کرلی اور ٹرائل کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے متعلقہ احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے قانونی تاخیر کی بنیاد پر ضمانت پر رہا کرنے کا حکم برقرار رکھا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں علی انور پراچہ بنام ریاست و دیگر، محمد رفیق بنام ریاست، سید عائشہ سبحانی بنام ریاست و دیگر اور مہر ان بنام عبیداللہ سمیت سابقہ عدالتی فیصلوں کا بھی حوالہ دیا۔

مزید خبریں