وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی کی زیر صدارت گندھارا کانفرنس کے انعقاد کے انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے اجلاس
وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی کی زیر صدارت گندھارا کانفرنس کے انعقاد کے انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔30ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی کی زیر صدارت پاکستان میں 2026 کے دوران گندھارا کانفرنس کے انعقاد کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس بدھ کو منعقد ہوا۔ اجلاس میں حکومت کی جاری کفایت شعاری مہم کو مدنظر رکھتے ہوئے گندھارا کانفرنس کے انعقاد کے امکانات اور مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
فیصلہ کیا گیا کہ موجودہ کفایت شعاری مہم کو مدنظر رکھتے ہوئے کانفرنس کے انعقاد کا معاملہ حکومت کی منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔وفاقی وزیر اور اجلاس کے شرکاء نے اصولی طور پر پاکستان میں 2026 کے دوران گندھارا کانفرنس کے انعقاد کے لئے پیشرفت پر اتفاق کیا۔ کانفرنس کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لئے وفاقی اور صوبائی متعلقہ اداروں کے درمیان مزید مشاورت اور رابطہ جاری رکھا جائے گا۔
اجلاس میں وزیراعظم کے گندھارا ٹاسک فورس کے رابطہ کار عمران شوکت، سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت اسد رحمان گیلانی، منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی) آفتاب رانا، صوبائی محکمہ آثارِ قدیمہ و سیاحت، وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کے سینئر حکام نے شرکت کی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کانفرنس سے قبل بدھ مت کے ورثے کے مقامات اور دیگر اہم مقامات کے حوالے سے واضح منصوبہ بندی کی جائے جہاں بین الاقوامی شرکاء اور سیاحوں کے دوروں کی تجویز ہو، تاکہ تمام ضروری انتظامات بروقت مکمل کئے جا سکیں۔ انہوں نے عمران شوکت کو ہدایت کی کہ اس سلسلے میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں سے مشاورت کی جائے۔شرکاء نے تجویز دی کہ بدھ مت کے ورثے کے مقامات کو معروف مذہبی ورثے کے مقامات کی طرز پر ترقی دے کر پیش کیا جا سکتا ہے جہاں تحفظ، سیاحتی سہولیات اور معلوماتی نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ بین الاقوامی زائرین اور سیاحوں کو راغب کیا جا سکے۔
منیجنگ ڈائریکٹر پی ٹی ڈی سی آفتاب رانا نے کہا کہ کانفرنس ایک کثیرالجہتی اقدام ہے اور تمام متعلقہ اداروں سے تجاویز اور تعاون حاصل کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے بدھ مت اکثریتی ممالک سے براہ راست فضائی رابطوں کے امکانات تلاش کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ زائرین کے لئے سفر میں آسانی پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بہت سے مسافر مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ذریعے رابطہ پروازوں پر انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ان ممالک کے ساتھ پہلے ہی وسیع تر تعلقات موجود ہیں جن میں تعلیمی اور طلبہ کے تبادلے کے پروگرام بھی شامل ہیں جبکہ براہ راست فضائی رابطے عوامی سطح پر روابط کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے متعلقہ بدھ مت اکثریتی ممالک کے ساتھ پاکستان کے براہ راست فضائی روابط کے امکانات تلاش کرنے کی کوششوں کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت اسد رحمان گیلانی نے کہا کہ وزارت کانفرنس کے انتظامات کو مربوط انداز میں یقینی بنانے کے لئے تمام متعلقہ اداروں اور فریقین سے مشاورت کرے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کانفرنس وزیراعظم کی ہدایات پر منعقد کی جا رہی ہے اور اس موقع پر مرکزی کانفرنس کے ساتھ مختلف ثقافتی اور قومی ورثے سے متعلق سرگرمیوں کا بھی انعقاد کیا جا سکتا ہے جس سے معاشی سرگرمیوں اور آمدن میں اضافے کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ متعدد بدھ مت اکثریتی ممالک نے ویزا آن آرائیول کی سہولت میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے اور اس سلسلے میں وزارت داخلہ کا اہم کردار ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس معاملے پر وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کو پہلے ہی خطوط ارسال کر چکے ہیں۔وفاقی وزیر نے وزارت خارجہ کے نمائندے کو ہدایت کی کہ بدھ مت اکثریتی ممالک میں قائم پاکستانی سفارتی مشنز سے متعلقہ معلومات اور تعاون حاصل کیا جائے۔انہوں نے بین الاقوامی زائرین اور سیاحوں کے لئے جدید سہولیات کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مناسب رہائش، کھانے پینے کے انتظامات اور تاریخی مقامات پر ڈیجیٹل یا تھری ڈی تجربات جیسی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔
عمران شوکت نے بتایا کہ وہ کانفرنس اور اس سے متعلقہ انتظامات کے حوالے سے تھائی لینڈ، سری لنکا، کمبوڈیا، ویتنام اور نیپال کے سفیروں سے رابطے میں ہیں۔صوبائی نمائندگان نے وفاق کی جانب سے کانفرنس کے انعقاد کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے کامیاب بنانے کے لئے بھرپور تعاون اور حمایت کی یقین دہانی کرائی۔شرکاء نے کہا کہ کانفرنس پاکستان کے ثقافتی ورثے اور مثبت تشخص کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا اہم موقع فراہم کرے گی۔ انہوں نے تجویز دی کہ کانفرنس کے ساتھ ثقافتی پروگرام اور دیگر سرگرمیاں بھی منعقد کی جائیں تاکہ بین الاقوامی زائرین اور بدھ راہبوں کو پاکستان کے متنوع ثقافتی ورثے سے بھرپور آگاہی حاصل ہو سکے۔
اجلاس میں بدھ راہبوں اور کانفرنس کے دیگر شرکاء کے پاکستان کے اہم بدھ مت ورثے کے مقامات، بالخصوص ٹیکسلا اور سوات، کے دوروں کے انتظامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔عمران شوکت نے بتایا کہ بدھ راہبوں کے مجوزہ دوروں کے حوالے سے ان سے بھی مشاورت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں بدھ راہبوں کی کانفرنس میں شرکت متوقع ہے۔
شرکاء نے کہا کہ مجوزہ کانفرنس پاکستان کے گندھارا اور بدھ مت ورثے پر مرکوز ایک اہم بین الاقوامی اجتماع ہوگا جو ملک کے شاندار ثقافتی ورثے کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے اور بدھ مت اکثریتی ممالک کے ساتھ ثقافتی اور عوامی سطح کے روابط کو مزید مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرے گا۔








